ہفتہ رفتہ ہنگامہ خیز، کل جماعتی کانفرنس کا فیصلہ!

ہفتہ رفتہ ہنگامہ خیز، کل جماعتی کانفرنس کا فیصلہ!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور سے چودھری خادم حسین
ملک کے سیاسی حالات میں ٹھہراؤ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی بلکہ محاذ آرائی کے کئی پہلو سامنے آتے جاتے ہیں۔ مجموعی طور پر ہر جماعت اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات الگ الگ جس قومی موقف کا اعلان کرتے ہیں، مشترکہ طور پر کہنے کو تیار نہیں ہیں، لاہور میں ہفتہ رفتہ کے دوران دو ہی اہم واقعات ہوئے ایک تو یہ کہ پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہرالقادری نے ایک نقطے پر حزب اختلاف کی قریباً تمام جماعتوں کو اکٹھا کر لیا اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے ایک اعلامیہ بھی جاری کرا لیا اس کے مطابق اس سانحہ کی ذمہ داری وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ پر ڈالی گئی ہے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دونوں اپنے عہدوں سے مستعفی ہو کر خود کو قانون کے سامنے پیش کریں، جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں کسی حتمی لائحہ عمل کا تو اعلان نہیں کیا گیا البتہ یہ کہہ دیا گیا ہے کہ استعفے سات جنوری تک آ جائیں دوسری صورت میں 8جنوری کو سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا جو احتجاج کا لائحہ عمل طے کرکے اعلان کر دے گی۔ بقول ڈاکٹر طاہر القادری یہ دھرنے یا لانگ مارچ کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس کل جماعتی کانفرنس میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے بوجوہ خود شرکت نہیں کی ان کی جماعتوں کے وفود شریک ہوئے۔ کراچی سے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال خود آئے اور آخر تک شرکت کی جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار مشترکہ اعلامیہ کی منظوری سے قبل ہی اٹھ کر چلے گئے کانفرنس میں ان کا موقف تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر قانون سے استعفے مانگنے کا کوئی جواز نہیں ان کو تحقیق و تفتیش سے قبل ہی مجرم ٹھہرانا مناسب نہیں۔ ان کی بات نہیں مانی گئی چنانچہ وہ محفل چھوڑ کر چلے گئے جسے بائیکات کہا گیا لیکن خود فاروق ستار نے منع کر دیا اور کہا کہ انہوں نے بائیکاٹ نہیں کیا اور وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کے لئے انصاف کے حق میں ہیں۔
اسی دوران ایک بہت اہم ترین پیش رفت ہوئی جس پر اب تک بحث ہو رہی ہے ہوا یوں کہ اچانک یہ خبر بریک ہوئی یعنی وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سعودی عرب روانہ ہو گئے سعودی حکومت کی طرف سے ان کو بلایا گیا اور طیارہ بھی بھیجا گیا۔ ان کی روانگی کے بعد ہی یہ امر بھی سامنے آیا کہ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف بھی جارہے ہیں قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ اس اچانک دورے کا خاص مقصد ہے۔ مخالفین نے تنقید کی کہ این آر او کے لئے کوشش ہو رہی ہے،جسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ مریم نواز اور شریف خاندان کی طرف سے اس قسم کی افواہوں کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے کوئی بھی دورہ ذاتی مفاد کے لئے نہیں کیا اور سابقہ دور میں بھی ایسا ہوا بہرحال اس پر بہت بحث ہوئی۔ اب دونوں بھائی واپس ا چکے۔ یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ کیا بتاتے ہیں۔ ان کی واپس آمد سے قبل سعودی ولی عہد کی طرف سے عشائیہ دیا گیا جس کے دوران ولی عہد سے دونوں بھائیوں کے مذاکرات بھی ہوئے اس کے بعد بڑے بھائی محمد نوازشریف مدینہ طیبہ روانہ ہو گئے اور وزیراعلیٰ شہبازشریف لاہور چلے آئے۔ گزشتہ شب محمد نوازشریف بھی آ گئے ہیں ان بھائیوں کی روانگی، ملاقاتیں اور پھر واپسی پر طرح طرح کے لوگ تجزیئے کرتے اور تحریک چلانے کا اعلان کر رہے ہیں، بہرحال وہ خود جو بتائیں گے وہی زیادہ درست ہوگا۔
آنے والے دنوں میں لاہور میں ہنگامہ خیز سیاسی سرگرمیاں بھی ممکن ہیں کہ دوسری طرف پیر حمید الدین سیالوی نے بھی استعفوں سے کم پر رضامندی سے انکار کر دیا ہے جبکہ حکومت پنجاب اس پر رضامند نہیں۔ البتہ اس تحریک والوں نے واضح کیا کہ ان کا سیاسی ایجنڈا نہیں، وہ کسی سیاسی پلیٹ فارم کے ساتھ منسلک نہیں ہوں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -