ایچ ایس سی تعلیم دشمن اداروں کے خلاف ایکشن لے ،کوکب اقبال

ایچ ایس سی تعلیم دشمن اداروں کے خلاف ایکشن لے ،کوکب اقبال

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی(اسٹاف رپورٹر) طلبا و طالبات کا تعلیمی مستقبل تباہ کرنے والی یونیورسٹیوں اور کالجز کا ایک جائزہ اجلاس صارفین کی نمائندہ تنظیم کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے دفتر میں چیئرمین کوکب اقبال کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں 155جعلی یونیورسٹیاں اور کالجز ہائر ایجوکیشن کمیشن سے رجسٹرڈنہیں ہیں اس کے باوجود یہ ادارے طلبا سے بھاری فیس وصول کرکے ان کا مستقبل تاریک کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلانے کے لیے اپنا پیٹ کاٹ کر جمع پونجی صرف اس امید پر لگادیتے ہیں کہ ان کا بچہ جب چار سال بعد گریجویٹ ہوکر نکلے گا تو والدین کا سہارا بنے گا مگر ان کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر جاتا ہے جب ایجوکیشن مکمل کرنے کے بعد طلبا کو یہ بتایا جاتا ہے کہ انہیں جو ڈگری ملی ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ ان کی یونیورسٹی یا کالج ہائر ایجوکیشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہیں ہے۔والدین کی امیدیں دم توڑ دیتی ہیں۔ صوبائی حکومتیں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن بتائے کہ کیا وہ طلبا و طالبات کے قیمتی چار سال اور والدین کے تعلمی اخراجات کی مد میں لاکھوں روپے انہیں واپس دلاسکتے ہیں۔ کوکب اقبال نے کہا کہ اگر ہائر ایجوکیشن کمیشن مکمل طور پر ان جعلی یونیورسٹیوں اور کالجز کا سروے کرائے تو معلوم ہوگا کہ پورے ملک میں پھیلی ہوئی ان کی تعداد اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوگی۔ انہوں نے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن سے کہا کہ وہ فوری طور پر ایسی جعلی یونیورسٹیوں اور کالجز کو سیل کرنے کے اقدامات کریں تاکہ مزید طلبا و طالبات کا مستقبل تاریک ہونے سے محفوظ رہ سکے۔ انہوں نے مزید تجویز دی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ایسی تمام یونیورسٹیوں اور کالجز کے مین گیٹ پر بورڈ آویزاں کرے کہ یہ ادارہ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے رجسٹرڈ ہے اور اس بورڈ کو آویزاں کرنے کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ طلبا و طالبات کو داخلہ لیتے وقت معلوم ہوسکے کہ وہ جس یونیورسٹی یا کالج میں داخلہ لے رہے ہیں وہاں سے ان کو تعلیم مکمل ہونے پر تعلیمی اسناد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ مہنگی اور معیاری تعلیم کا جھانسہ دینے والے اداروں کے بنک اکاؤنٹس سیل کیے جائیں اور بنگلوں میں قائم تمام یونیورسٹیوں اور کالجز کو فوری بند کیا جائے۔کوکب اقبال نے کہا کہ ملک میں تعلیم دی نہیں بلکہ فروخت کی جارہی ہیں۔غریب خاندان کی اولاد مہنگے تعلیمی اداروں میں اہلیت کے باوجود داخلہ لینے کا تصور نہیں کرسکتا۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ جس طرح انہوں نے میڈیکل کالجز کے خلاف ایکشن لیا ہے اسی طرح مہنگی تعلیم دینے والی یونیورسٹیوں اور کالجز ، غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کریں۔ کنزیومر ایسوسی ایشن کے چیئرمین کوکب اقبال نے کہا کہ کچھ یونیورسٹیاں ایسی بھی ہیں جو خود کو غیر ملکی تعلیمی اداروں سے وابستہ بتاتی ہیں اور طلبہ کو دھوکہ دیتی ہیں کہ ان کے ادارے سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں غیر ممالک میں مزید تعلیم کے لیے بآسانی داخلہ مل سکتا ہے۔انہوں نے ایچ ای سی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایچ ای سی ان جعلی تعلیمی اداروں کے خلاف بروقت کارروائی کرتا تو ہزاروں طلبہ و طالبات کا مستقبل محفوظ ہوسکتا تھا۔