2018ماضی کے تمام برسوں سے منفرد اور مختلف ہو گا:منظور حسین وسان

2018ماضی کے تمام برسوں سے منفرد اور مختلف ہو گا:منظور حسین وسان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر صنعت و تجارت منظور حسین وسان نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دس فروری سے پہلے ملک میں کچھ نہیں ہوا تو سینٹ اور جنرل الیکشن وقت پر ہوں گے۔2018 ماضی کے تمام برسوں سے منفرد اور مختلف ہوگا، سال کے پہلے ماہ سیاست میں اتار چڑھا ہوسکتا ہے، کچھ کیسز ختم ہوں اور کچھ نئے کیسز بنیں گے۔ یہ بات انہوں نے منگل کوسندھ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کی۔انہون نے کہا کہ اگر ملک میں کچھ ہوا توپھر عام انتخاب کچھ عرصے تک ملتوی ہوجائیں گے2018 دیگر سالوں سے مختلف ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عام انتخا بات اسی ہی سال ہوں گے،جنوری سے دس فروری تک ملک کے لیے اہم دن ہے ،کچھ نئے کیس بنیں گے اور کچھ پر فیصلے آئیں گے، اگر ملک کی یہی صور تحال رہی تو انتخاب وقت پر ہوں گے،اگر اس دوران کچھ ہوا تو انتخاب نہیں ہونگے۔اس عرصے کے دوران وزیراعظم کے ساتھ سب کے تعلقات اچھے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس ماہ بیرونی خطرات مزید بڑھیں گے،ٹرمپ کے بیان کے بعد قوم اور سیاسی جماعتیں متحد ہوجائیں گی۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نواز شریف کوئی بھٹو نہیں ہے کہ انٹرنیشنل ایشوز پر مشاورت کیلئے سعودی والوں نے بلایا ہو،وہاں پر کچھ اور ایشو تھے جس پر شریف برادران گئے ہوں گے۔اندرونی اور بیرونی خطرات بڑھ گئے تو حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صور تحال سے بیرونی طاقتیں فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔اسی لیے سب کو متحدہ ہونا پڑیگا۔پاکستانی قوم متحدہ ہے۔انہون نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سندھ میں گنے کا ایشو اس ماہ حل ہوجائے گا،اس مسئلے کا ذمہ دار وفاق ہے۔سندھ حکومت کاشتکارون کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ خواب اور پیشگوئیوں میں مجھے کوئی نہیں بتاتا یے میرا اپنا تجزیہ ہوتا ہے، وزرات اعظمی کیلئے ن لیگ میں دو امیداور ہیں, مریم نواز اور شہباز شریف شامل ہیں, ن لیگ پارٹی کا سربراہ نوازشریف ہے وہ جو بھی فیصلہ کرتے ہونگے سب وہی قبول کرتے ہیں.انہوں نے کہا کہ آئندہ وفاق میں اتحادی حکومت بنے گی،مقابلہ تین پارٹیون میں سخت ہوگا،اسی ماہ میں بیرونی دھمکیاں مزید دی جائیں گی،انہون نے مزید کہا کہ ملک کی مضبوطی کے لیے بہتری آئے گی ٹرمپ کے بیان کے بعد سب کو مضبوط ہونا پڑے گا۔ٹرمپ کا بیان پاکستان کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔اگر الیکشن وقت پر ہو گئے تو جمہوریت کا تسلسل برقرار رہے گا