متاثرین سانحہ بلدیہ کیلئے قومی اسمبلی میں آواز اٹھائیں گے :صاحبزادہ طارق اللہ

متاثرین سانحہ بلدیہ کیلئے قومی اسمبلی میں آواز اٹھائیں گے :صاحبزادہ طارق ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (اسٹاف رپورٹر) رکن قومی اسمبلی و پارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی صاحبزاد ہ طارق اللہ سے ادارہ نورحق میں متاثرین سانحہ بلدیہ فیکٹری کے وفد نے محمد صابر ،اکرم شگری اور اسرار احمدکی قیادت میں ملاقات کی ۔اپنی مشکلات و مسائل سے آگاہ کیا اورایک یاداشت پیش کرتے ہوئے اپیل کی کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کے متاثرین کے مسائل حل کے لیے قومی اسمبلی میں آواز اٹھائیں۔ وفد میں مرد و خواتین متاثرین کی بڑی تعداد شامل تھی۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، ڈپٹی سکریٹری جماعت اسلامی کراچی و پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر سیف الدین ایڈوکیٹ ،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ، پبلک ایڈ کمیٹی کراچی کے جنرل سکریٹری نجیب ایوبی اور دیگر بھی موجود تھے۔صاحبزادہ طارق اللہ نے وفد کو مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی سانحہ بلدیہ فیکٹری کے متاثرین کے مسائل کے حل کے لیے قومی اسمبلی میں بھرپورآواز اٹھائے گی اورواقع میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی اور مجرموں کو سخت سزا دلوانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرین سانحہ بلدیہ فیکٹری کو ان کا حق دیا جائے اور ان کو انصاف فراہم کیا جائے ، 259افراد کو زندہ جلادینا انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے ۔ 5سال گزرجانے کے باوجود قاتلوں اور سانحے میں ملوث عناصر کو قرارواقعی سزا نہ ملنا حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سوالیہ نشان ہے ۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کا وعدہ کرنے کے باوجود متاثرین کی داد رسی نہ کرنا انتہائی شرمناک ہے ۔ جماعت اسلامی متاثرین کے ساتھ ہے اور ان کو ہر گز تنہا نہیں چھوڑے گی۔ملاقات میں وفد نے بتایا کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ لگا کر 259 افراد زندہ جلانے کے سانحے کو پانچ سال گزر چکے ہیں۔ جلنے والے افراد تو دنیا سے گزر گئے لیکن ان کے پیچھے رہ جانے والے متاثرین و لواحقین اب تک بے یارومدد گار انصاف کے منتظر ہیں۔اس واقعے کی ایف آئی آر درج ہوئی اور بہت سے ملزمان بھی گرفتار ہوئے جن میں لسانی سیاسی جماعت کے ا فراد شامل ہیں ان کیخلاف جے آئی ٹی رپورٹس میں مکمل تفصیلات موجود ہیں جبکہ ایک ملزم رحمان بھولا پویس کی تحویل میں ہے۔ جس نے مجسٹریٹ کے رو برو اقراری بیان بھی دیا، مگر اب وہ اپنے بیان سے مکر رہا ہے۔ ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود سانحہ میں ملوث تمام افراد کو سزا تو درکنار اب تک گرفتار بھی نہیں کیا گیا۔ جس سے حکومت کی عدم دلچسپی اور غیر سنجیدگی عیاں ہے۔وفد نے مزید بتایا کہ متاثرین کی انشورنس اور امدادکے نام پر جرمن کمپنی سے ملنے والی کروڑوں روپے کی رقم بھی اب تک متاثرین میں تقسیم نہیں کی گئی باوجودیکہ حکومت سندھ اس کی وصولی کی تصدیق کرچکی ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اس رقم کوخرد برد نہ کر دیا جائے۔ اسی طرح EOBIکے تحت ملنے والی اکثر متاثرین کی پینشن بند ہو چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ اور مرکزی حکومت نے بھی جووعدے کئے تھے آج تک پورے نہیں کئے۔ ہمارے مسئلہ کو قومی اسمبلی میں اٹھایا جائے تا کہ مظلوموں کی داد رسی ہو سکے حکومت اور دیگر پارٹیوں سے مکمل مایوسی کے بعد ہماری اُمیدوں کاواحد مرکز جماعت اسلامی رہ گئی ہے۔