نشے کے علاج کے نام پر تشدد: عامر چشتی ہسپتال سیل، 365 مریض بازیاب

نشے کے علاج کے نام پر تشدد: عامر چشتی ہسپتال سیل، 365 مریض بازیاب
نشے کے علاج کے نام پر تشدد: عامر چشتی ہسپتال سیل، 365 مریض بازیاب

  

لاہور(ویب ڈیسک)محکمہ صحت اورپنجاب ہیلتھ کیئرکمیشن نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے نشے میں مبتلا افراد کے علاج کے نام پر انہیں تشدد کا نشانہ بنانے پر عامر چشتی ہسپتال سیل کر دیا،تمام مریض پنجاب مینٹل ہسپتال منتقل کردیئے گئے۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

کوٹ خواجہ سعیدکے علاقے میں قائم غیر رجسٹرڈ عامر چشتی ہسپتال میں نشے کے عادی افراد کو علاج معالجے کے نام پر تشددکا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ہسپتال میں عطائی اور سکیورٹی گارڈز کے ذریعے مریضوں کا نام نہاد علاج کیا جارہا تھا جبکہ سائیکاٹرسٹ سمیت ہسپتال میں کوئی ڈاکٹر تھا اور نہ ہی پیرا میڈیکل سٹاف موجود۔شکایت ملنے پر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کی ٹیموں نے سی ای اوہیلتھ ڈاکٹریداللہ کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے عامر چشتی ہسپتال سیل کر دیا جبکہ 365نشے کے مریضوں کو بازیاب کروا کر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ ہسپتال منتقل کر دیا جہاں انہیں علاج معالجے کی فری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

اس موقع پر سی ای او ہیلتھ ڈاکٹریداللہ نے کہا ہمیں اس ہسپتال کے بارے میں کئی شکایات موصول ہوئی تھیں ،جس پر ہسپتال کی ریکی کی گئی اور شکایات درست ثابت ہونے پر کارروائی کی گئی۔مذکورہ ہسپتال کے پاس لائسنس بھی نہیں تھا جو غیر قانونی طریقے سے غیر تربیت یافتہ افراد کے ذریعے نشے میں مبتلا افراد کا علاج معالجہ کرنے کا ڈھونگ رچا رہے تھے۔ اس موقع پر بازیاب ہونے والے مریضوں نے بتایاکہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ان پر جسمانی تشدد کیا جا تا تھا۔ ایک کمرے میں 30 سے زائد مریضوں کو رکھا جاتا اور صفا ئی ستھرائی کا بھی کوئی نظام نہیں تھا۔ واش روم بہت بدبودار اور گندے تھے جبکہ پینے کیلئے صاف پانی تک دستیاب نہیں تھا۔مریضوں نے مزیدبتایاکہ ان سے ماہانہ 8 ہزار روپے لیے جاتے تھے جبکہ علاج معالجے کی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور /جرم و انصاف