” کلمہ طیبہ کی گواہی دینے ولا خواہ کتنا ہی گناہ گار ہو،اگر وہ ........“ امام ابو حنیفہؒ کی مناظرہ میں شرابی اور بدکار کے بارے وہ دلیل جس نے تہلکہ مچادیا تھا

” کلمہ طیبہ کی گواہی دینے ولا خواہ کتنا ہی گناہ گار ہو،اگر وہ ........“ امام ابو ...
” کلمہ طیبہ کی گواہی دینے ولا خواہ کتنا ہی گناہ گار ہو،اگر وہ ........“ امام ابو حنیفہؒ کی مناظرہ میں شرابی اور بدکار کے بارے وہ دلیل جس نے تہلکہ مچادیا تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اللہ پاک نے حضرت امام ابو حنیفہؒ کو فطری طور پر زبردست ذہانت اور اجتہاد کی قوت عطا کی تھی ۔ آپؒ قرآن و حدیث کے معاملے میں اپنی رائے کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتے تھے۔ کلام الٰہی کے مروجہ معانی سامنے رکھتے ہوئے غور و فکر سے کام لیتے تھے۔ آپؒ کا نکتہ نظر یہ تھا کہ قرآن حکیم تعلیم ازل سے ابد تک ہیں۔ کوئی شخص ہزاروں برس بعد بھی کسی آیت کریمہ کے ذریعے ذہنی تسکین چاہتا ہو تو قرآن مجید اسے اطمینان دے سکتا ہے۔ یہی وسعت، یہی گہرائی اور یہی مسلسل حرکت قران کریم کا وصف ہے۔
حضرت امام ابو حنیفہ ؒکی مخالفت جب عروج پر تھی تو حضرت عمر بن عبدالعزیزؒنے سرکش دھارے کو تائید غیبی سے یوں روکا کہ آپ کے سوا دو سالہ دور میں کسی تخریب کاری کا کوئی امکان نہیں رہا۔ لیکن آپ کی وفات کے بعد شرپسند نئے نئے چہرے بدل کر سراٹھا نے لگے۔ انوار اصفیا کے مطابق عقائد پر مشق ستم کے باعث پورا عراق مناظروں کی زد میں تھا۔ ایسے میں امام ابو حنیفہؒ کی طبیعت کے انقلاب سے عقل پرستوں کی نیندیں حرام ہو گئیں۔ شر پسندوں کی تحریکیں آپؒ کے سامنے عاجز ہو گئی۔ مذہبی ستم گروں نے امام ابو حنیفہ ؒ سے مناظر ے کا فیصلہ کیا۔ ایک معمر زمانہ شناس نے یہ مسئلہ بیان کیا:
”مسجد کے دروازے پر دو جنازے رکھے ہیں۔ ایک شرابی مرد کا جنازہ ہے جس کی موت کثرت مے نوشی سے ہوئی۔ دوسرا جنازہ عورت کا ہے جس نے بدکاری کی ، پھر رسوائی کے خوف سے خود کشی کر لی۔ آپ یہ بتائیں ، دونوں مرنے والے جنت میں جائیں گے یا جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ “
امام ابو حنیفہ ؒ نے سوال کیا”مرنے والے مسلمان تھے یا غیر مسلم تھے۔“
معمر سائل نے برہم ہو کر کہا”مسئلے کا شرعی حل بتائیں۔ فروعی باتوں میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔ دونوں کلمہ گو تھے۔ “
امام ابو حنیفہ ؒ نے فرمایا ”جب آپ ا±ن دونوں کے تو حیدو رسالت کے اقرار کی گواہی کو کامل ایمان مان چکے ہیں۔ پھر ا±ن کے بارے میں کچھ پوچھنا عبث و بیکار ہے۔ قرآن مجید کے مطابق کلمہ طیبہ کی گواہی دینے ولا خواہ کتنا ہی گناہ گار ہومگر وہ اوّل آخر مسلمان ہوگا۔ کبیرہ گناہ کرنے والا کافر نہیں ہوتا۔ رہا مرنے والوں کے انجام کا سوال، قرآن پاک کی نظر میں اللہ ہر شئے پر قادر ہے۔ وہ گناہ گار کو معاف بھی کر سکتا ہے اور اگر سزادینا چاہے تو ا±سے کون روک سکتا ہے۔ “
امام کی دلیل آفرین گفتگو کے بعد عقیدوں پر مشق ستم کرنے والے گروہ کا سرخیل تو سرجھکا کر چلا گیا۔ مگر امام ابو حنیفہ ؒ کی شہرت کو فہ اور عراق کے کونے کونے میں پہنچ گئی۔

مزید :

روشن کرنیں -