”اب ہمیں جائزہ لینا ہو گا کہ ۔۔۔“نواز شریف نے سعودی عرب سے واپس آتے ہی تہلکہ خیز اعلان کردیا ،جان کر پاک فوج بھی ہکا بکا رہ جائے گی

”اب ہمیں جائزہ لینا ہو گا کہ ۔۔۔“نواز شریف نے سعودی عرب سے واپس آتے ہی تہلکہ ...
”اب ہمیں جائزہ لینا ہو گا کہ ۔۔۔“نواز شریف نے سعودی عرب سے واپس آتے ہی تہلکہ خیز اعلان کردیا ،جان کر پاک فوج بھی ہکا بکا رہ جائے گی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ تین بار ملک کا وزیراعظم رہا ہوں، بہت سے حقائق سامنے ہیں، مخلص اور درد مند شہری کی حیثیت سے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں پورے اخلاص کے ساتھ اپنے کردار اور عمل کا ضرور جائزہ لینا چاہیے، بڑی دردمندی سے کہتا رہا ہوں کہ ہمیں اپنے گھر کی خبر ضرور لینی چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ دنیا ہمیں قربانیوں کے باوجود ایسے کیوں دیکھتی ہے؟۔ان کا کہنا تھا کہ میرے مشورے کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا رہا بلکہ اسے کبھی ڈان لیکس اور کبھی کوئی اور نام دے کر میری حب الوطنی پر سوال اٹھائے گئے۔نوازشریف نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ دنیا ہماری قربانیوں کے باوجود ہماری بات کیوں نہیں سنتی، فوج پولیس، سول سیکیورٹی ادارے، عوام، حتیٰ کہ ہمارے معصوم بچوں کا خون دنیا کی آنکھوں میں اتنا ارزاں کیوں ہوگیا، 17 سال کے دوران عظیم جانی و مالی قربانیوں کے باوجود ہمارا بیانیہ کیوں نہیں مانا جارہا؟ ہمیں ان سوالوں کا جواب تلاش کرنا ہے، اگر انہیں نظر انداز کیا جاتا رہا اور قومی مفاد کے منافی قرار دیا جاتا رہا تو بہت بڑی خود فربی ہوگی، ایسی ہی خود فریبی کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہوچکا۔

امریکی صدر کے ٹوئٹ پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سال نو کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی صدر کی طرف سے غیر سنجیدہ ٹوئٹ جاری ہونا افسوسناک ہے ،کسی ریاستی سربراہ کو دوسری ر یاست سے مکالمہ کرتے ہوئے بین الاقوامی اور سفارتی آداب کا خیال رکھنا چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ 9/11کے بعد سے اب تک سب سے بھاری قیمت پاکستان نے ادا کی ،کسی دوسرے ملک نے اتنا جانی و مالی نقصان برداشت نہیں کیا جتنا ہم نے کیا ،ہم 17برس سے ایسی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں جو ہماری نہیں ہے ۔نواز شریف نے کہا کہ امریکی صدر کو معلوم ہونا چاہیے 2013میں اقتدار میں آتے ہی مسلم لیگ ن کی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھر پور عزم کا اظہار کیا اور پھر ضرب عضب کا آغاز ہوا جس سے آج دہشت گردی کی کمر ٹوٹ چکی ہے ،بچے کچے عناصر بھی کیفر کردار تک پہنچ جائیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ 2001نہیں ہے کہ جب ایک ڈکٹیٹر فون کال پر ڈھیر ہو جاتا تھا ،اب عوام کی حکمرانی ہے جو دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ۔ہمیں امداد کے طعنے نہ دئیں جائیں اور کولیشن سپورٹ فنڈز روکنے کی دھمکیاں نہ دی جائیں ۔نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایسی حکمت عملی وضع کریں کہ امریکی امداد کی حاجت ہی نہ رہے تاکہ عزت نفس پر حملہ بھی نہ ہو ۔

لائیو چینلز دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزید : اہم خبریں /قومی