A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

’’ تم کوئی عورت تھوڑی ہو ‘‘ فیض احمدفیض کی زندگی میں آنے والی وہ عورت جو انہیں اچھی نہیں لگتی تھی اور وہ اسے ایسے نام سے بھی پکارتے جو کوئی عورت سنے تو غصہ سے لال پیلی ہوجائے

’’ تم کوئی عورت تھوڑی ہو ‘‘ فیض احمدفیض کی زندگی میں آنے والی وہ عورت جو انہیں اچھی نہیں لگتی تھی اور وہ اسے ایسے نام سے بھی پکارتے جو کوئی عورت سنے تو غصہ سے لال پیلی ہوجائے

Jan 03, 2018 | 18:18:PM

لاہور(ایس چودھری) فیض احمد فیض کو سمجھنا اتنا آسان نہیں،جو بھی ان کے قریب رہا اس نے اپنی نظر سے انہیں دیکھا ۔وہ رومانیت پسند تھے اور انہیں ایک خاص رنگت ومزاج والی خواتین ہی پسند تھیں ،اس معاملے میں وہ خواتین کے ساتھ بے تکلفی اورصاف گوئی سے بھی کام لیتے ہوئے ایسے جملے بھی کہہ جاتے جو عام حالات میں کوئی عورت سننا پسند نہیں کرتی۔ اردو کی مشہور براڈکاسٹر، ادیبی اور شاعرہ سحاب قزلباش کو بھی فیض صاحب کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا اور انہوں نے اپنی کتاب روشن روشن چہرے میں ان کا خاکہ لکھا تھا ۔سحاب قزلباش تقسیم کے بعد پاکستان منتقل ہوئیں اور کچھ عرصہ ریڈیو پاکستان سے منسلک رہنے کے بعد وہ ایران کے زاہدان ریڈیو سے اردو کے پروگرام نشر کرتی رہیں۔ پھر کچھ عرصہ نائجیریا میں رہنے کے بعد انہوں نے لندن میں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی ۔وہ لکھتی ہیں ’’ایک دن جب میں کھانا کھارہی تھی تو فیض صاحب اسٹالن، لینن کی شمع روشن کئے بیٹھے تھے۔ پلیٹ میں ایک آدھ روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا تھا۔ وہ ان کی نظموں کے ٹرانسلیشن سنارہے تھے۔ جب بھی میں کچھ نہ کچھ رکھنے آتی، میز پر فہمیدہ کی پلیٹیں صاف ہوچکی ہوتیں۔ا نگلیاں چاٹ رہی ہوتی تھی۔ چٹخارے لے رہی ہوتی تھی۔ فیض صاحب کا کئی گھنٹوں کی تھکن سے چہرہ بوجھل ہوگیا تھا۔ جیسے ہی فہمیدہ ان سے پیسے لے کر سگریٹ لینے گئی تو میں نے بتایا کہ کھانا بھی کھالیجئے اور ان صاحبزادی کی عمر اُن ڈاکٹرنی صاحبہ سے بہت کم ہے چونکہ رنگ اور چہرے کی بناوٹ ایک ہے، آپ بے خبری میں پھر سے رنگ، نقش ملارہے ہیں، ان ڈاکٹرنی صاحبہ کے۔ حفیظ ہوشیار پوری کا ایک شعر سن لیں۔ پاگل جو سگریٹ لینے گئی ہے۔ وہ اپنی جگہ خوش ہے کہ آپ بھی اس کی ذہانت کا لوہا مان گئے۔‘‘

’’ذہین تو ہے وہ۔ تم نے کھانے میں کیا چیز جلا ڈالی آج‘‘ اور میں اور وہ، دونوں ہنس پڑے۔

’’جی نہیں۔ میں بڑی ڈھیٹ ہوں۔ اس تک آنچ نہیں پہنچے گی۔‘‘

’’اچھا اچھا شعر سناؤ حفیظ کا، کیا سنارہی تھیں۔‘‘

اور وہ آنکھیں بند کئے میری لگائی ضرب کو سہہ رہے تھے۔ ایسا ہی ہوتا ہے ورنہ آدمی اندھا ہوجائے، فیض صاحب تھکے تھکے بول رہے تھے ’’تاب ہے، سنئے۔‘‘

اب تو پہلی ہی ملاقات میں ہر صورت پر

کسی دیکھی ہوئی صورت کا گماں ہوتا ہے

’’ہاں ٹھیک کہتی ہو۔ تم کو کس نے عورت بنایا۔‘‘

’’پرانی باتیں ہربار نہیں دہراتے۔ آپ سگریٹ اور نہیں پئیں گے اور شراب بھی نہیں۔ جلدی سے کھانا کھالیجئے۔ فیض صاحب مجھے یقین ہے وہ سیالکوٹن جو تھی نا۔ اور وہ آپ کی مسیحا۔ اور وہ بمبئی کی پنڈتانی اور یہ چھوٹی خاتون جو سگریٹ لینے گئی ہیں ساری چھوٹی بڑی خواتین میدہ شہابی رنگت اور تیکھے نقشوں والی ہیں، اس لئے آپ کو اچھی لگتی ہیں۔‘‘

’’نہیں بھئی، ہر عورت اچھی ہوتی ہے۔ تم تو بے ہودہ ہو۔ تم کوئی عورت تھوڑی ہو۔ اس لئے اچھی نہیں لگتیں۔‘‘

مزیدخبریں