’اس دن میں ایک جسم فروش خاتون سے ملی، وہ حاملہ تھی، اس نے میرے سامنے بچے کو جنم دیا اور پھر صرف 30 منٹ بعد ہی وہ سڑک پر جاکر۔۔۔‘

’اس دن میں ایک جسم فروش خاتون سے ملی، وہ حاملہ تھی، اس نے میرے سامنے بچے کو ...
’اس دن میں ایک جسم فروش خاتون سے ملی، وہ حاملہ تھی، اس نے میرے سامنے بچے کو جنم دیا اور پھر صرف 30 منٹ بعد ہی وہ سڑک پر جاکر۔۔۔‘

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) جسم فروش خواتین کو معاشرے میں مطعون قرار دیا جاتا ہے لیکن اب ان کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون نے ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ سن کر آپ کو ان خواتین پر ترس آنے لگے گا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق جیکی فیئربینکس نامی خاتون برطانوی شہر ہُل میں گزشتہ 10سال سے جسم فروش خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہے، وہ سڑک کنارے کھڑی ان خواتین سے ملتی ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ گزشتہ روز اس نے انکشاف کیا ہے کہ ”ایک بار میں ہُل کے ہیسلے روڈ پر ایک جسم فروش عورت سے ملی۔ وہ حاملہ تھی اور دردزہ میں مبتلا تھی۔ میں نے اس کی مدد کی۔ سڑک کنارے جھاڑیوں میں اس نے میرے سامنے بچے کو جنم دیا اورگاہک کی تلاش کے لیے 30منٹ بعد دوبارہ سڑک پر آ کر کھڑی ہو گئی کیونکہ اسے پیسوں کی اشد ضرورت تھی۔“

’اب فحش فلموں کی اداکاروں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ فلم بنانے کے 5 سال بعد۔۔۔‘ دنیا کا عجیب ترین قانون متعارف کروادیا گیا

جیکی کا کہنا تھا کہ ”جسم فروش خواتین کی زندگیاں تکلیف سے عبارت ہوتی ہیں۔ ان میں سے اکثر ایسے گھرانوں سے آتی ہیں جہاں ان پر جسمانی و جنسی تشدد معمول ہوتا ہے۔ ان میں سے اکثر بے گھر ہوتی ہیں اور رات کو سونے کے لئے بھی ان کے پاس مناسب جگہ نہیں ہوتی۔ایسی خواتین میں ذہنی مسائل عام ہوتے ہیں۔ دلالوں اور بوائے فرینڈز کے ہاتھوں ان کی سمگلنگ بھی عام بات ہے۔میں نے ہُل شہر میں گزشتہ 10سالوں کے دوران 20سے 60سال تک کی خواتین کوجسم فروشی کرتے دیکھا ہے جن میں سے لگ بھگ ہر ایک کی حالت ایسی ہی ناگفتہ بہ تھی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس