’’میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان اورسیٹھ عابد کے ہاتھ دیکھے تو ۔۔۔‘‘ایک دست شناس صحافی کی وہ رازدارانہ باتیں جو آپ کو چونکا کر رکھ دیں گی

’’میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان اورسیٹھ عابد کے ہاتھ دیکھے تو ۔۔۔‘‘ایک دست ...
’’میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان اورسیٹھ عابد کے ہاتھ دیکھے تو ۔۔۔‘‘ایک دست شناس صحافی کی وہ رازدارانہ باتیں جو آپ کو چونکا کر رکھ دیں گی

  

لاہور(نظام الدولہ)ہاتھ شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں ،اس میں کوئی انسان اپناباطن دیکھ سکتا ہے تو دوسرے بھی اس کے اندر جھانک سکتے ہیں ۔دست شناسی کے طالب علموں کے لئے تو یہ شعبہ کسی امتحان سے کم نہیں ہوتا ۔وہ چلتے پھرتے روزمرہ زندگی میں جس سے ملتے ہیں انکی نظریں بے اختیار سامنے والے کے ہاتھ کی لکیروں پر جاپڑتی ہیں۔مجھے خود ایسے تجربات سے گزرنا پڑا اور کئی بار خفت کا بھی سامنا کیا ہے۔برسوں پہلے پاکستان کے ممتاز دست شناس ایم اے ملک صاحب سے ملاقات ہوئی تونظریں دوران گفتگو انکے ہاتھوں کی لکیروں سے جا ٹکراتیں ۔ اس پر خفا ہوگئے ۔کئی بارا نٹرویوز کے دوران بھی اس فن کی وجہ سے کئی ایسی راز کی باتیں معلوم کرنے کا موقع ملا ہے جب کوئی اپنی شخصیت کو چھپا رہا ہوتا ہے لیکن اسکا ہاتھ جب سامنے لہراتا ہے تو خود بخود بولنا شروع کردیتا تھا۔ایک بار یہی حرکت میں سیٹھ عابد کے ساتھ بھی کربیٹھا ۔وہ جو باتیں کہہ رہے تھے ،ان کے ہاتھوں کی ساخت اور لکیریں اس کی چغلی کھارہی تھیں ،اس پر میں نے ایک اہم سوال کیا جو انہیں بری طرح چبھ گیا اور وہ ناراض ہوکر بولے’’ آپ کو کس نے میرے پاس بھیجا ہے؟‘‘ ۔

2001 میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ بات چیت کے دوران بھی مجھے ایسے اتفاق کا سامنا کرنا پڑا۔بات چیت کے دوران میری نظر ان کے چہرے سے زیادہ انکے ہاتھوں سے الجھتی رہی ۔ڈاکٹر صاحب نے اسکا نوٹس بھی لیا اور ایک بار تو اپنا ہاتھ میرے سامنے کردیااور کہا’’ ہاتھ دیکھنا آتا ہے؟‘‘ میں نے گھبرا کر کہا ’’نہیں ‘‘

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

’’آپ بار بار میرے ہاتھ کو دیکھ رہے تھے ‘‘ میں نے عذر پیش کیا ’’ معاف کیجئے گا یہ میری عادت ہے‘‘ ڈاکٹر صاحب کی لکیروں کا میں نے اپنے تئیں کافی مطالعہ کیا ۔ لکیروں سے انکی شخصیت کا وہ مزاج سامنے آرہاتھا جو بعد ازاں ان کے لئے مصائب کا باعث بھی بنا ۔اگر ان میں یہ خامی (جو میں بتانا نہیں چاہتا)نہ ہوتی تو وہ تکلیف دہ مسائل کا سامنا کرنے سے بچ جاتے۔

مزید : لائف سٹائل /مخفی علوم