سکول سے ایک ایسی چیز برآمد کہ سب کی دوڑیں لگ گئیں، یہ چیز وہاں پہنچی کیسے؟ تفتیش شروع

سکول سے ایک ایسی چیز برآمد کہ سب کی دوڑیں لگ گئیں، یہ چیز وہاں پہنچی کیسے؟ ...
سکول سے ایک ایسی چیز برآمد کہ سب کی دوڑیں لگ گئیں، یہ چیز وہاں پہنچی کیسے؟ تفتیش شروع

  

سڈنی (نیوز ڈیسک) آسٹریلوی ریاست نیو ساﺅتھ ویلز کے ایک پرائمری سکول میں گزشتہ روز ریت میں کھیلتے بچوں کو ایک ایسی چیز مل گئی کہ جسے دیکھتے ہی سکول بند کر دیا گیا اور خوفزدہ والدین اب اپنے بچوں کو سکول بھیجنے پر تیار نہیں ہو رہے۔

دی گارڈین کے مطابق ساحلی شہر لاریٹن کے جوزف کیتھولک پرائمری سکول میں بچوں کو ریت میں دبے کچھ انڈے ملے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ آسٹریلیا کے زہریلے ترین سانپ ایسٹرن براﺅن سنیک کے انڈے ہیں۔ اس دعوے نے شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور والدین نے اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے انکار کردیا ہے۔

مقامی انتظامیہ نے وائلڈ لائف ایکسپرٹ یوویٹ ایٹلر کی سربراہی میں ایک ٹیم کو جوزف کیتھولک پرائمری سکول میں بھیجا تاکہ وہ انڈوں کا معائنہ کرکے ان کی حقیقت معلوم کریں۔ اس ٹیم نے جب چھان بین کی توپتا چلا کہ سکول میں مختلف جگہوں پر ریت میں اسی طرح کے انڈے دبے ہوئے تھے، جن کی کل تعداد 43 تھی۔

چین میں کھدائی کے دوران سائنسدانوں کو 13کروڑ سال پرانا انڈہ مل گیا، یہ کس چیز کا انڈہ ہے جو ابھی بھی سلامت ہے؟ دیکھ کر ہی ہر کسی کی سٹی گم ہوگئی، یہ تو سوچا بھی نہ تھا کہ۔۔۔

یوویٹ ایٹلر کا کہنا تھا ”میرے خیال میں یہ براﺅن سنیک کے انڈے ہیں کیونکہ ان سانپوں کو اس علاقے میںد یکھا گیا ہے۔ میں نے ایک انڈے پر روشنی ڈال کر دیکھا تو اس میں مجھے جو چیز نظر آئی اسے سانپ کا بچہ ہی کہا جاسکتا ہے۔“ دوسری جانب یہ سوال بھی اُٹھایا جارہا ہے کہ انڈوں کو جس طرح ریت میں دبایا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سانپ کے انڈے نہیں ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ واٹر ڈریگن یا بولیوین چھپکلی کے انڈے ہیں۔

یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ کے سکول آف بایولوجیکل سائنسز سے تعلق رکھنے والے سائنسدان برائن فرائی کا کہنا تھا ”ابتدائی طور پر میرا بھی یہی خیال تھا کہ یہ براﺅن سنیک کے انڈے ہیں لیکن جب مجھے پتہ چلا کہ یہ ریت میں دبائے گئے تھے تو میں نے اپنے خیال پر نظر ثانی کی۔ اب میرا خیال ہے کہ غالباً یہ واٹر ڈریگن کے انڈے ہیں۔ سانپ اپنے انڈے ریت میں نہیں دباتے لیکن واٹر ڈریگن اپنے انڈے ریت میں ہی دباتی ہے۔ انڈوں کی بڑی تعداد بھی ظاہر کرتی ہے کہ یہ واٹر ڈریگن کے انڈے ہیں۔“

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

ماہرین ہوں یا عام سوشل میڈیا صارفین، ہر کوئی اپنی اپنی رائے دے رہا ہے لیکن تاحال حتمی طور پر معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ انڈے کس چیز کے ہیں۔ دریں اثناءسکول کو 30 جنوری تک بند کردیا گیا ہے۔ اس دوران معاملے کی مزید تحقیق کی جائے گی اور سکول کو مکمل طور پر محفوظ قرار دینے کے بعد ہی بچوں کے لئے کھولا جائے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس