کروڑوں روپے کی کٹوتیوں پرا نضمام کے حامی اور مخالف دونوں فریقین کا چھپ کا روزہ

کروڑوں روپے کی کٹوتیوں پرا نضمام کے حامی اور مخالف دونوں فریقین کا چھپ کا ...

خیبر (عمران شنواری)قبائلی علاقوں کے تر قیا تی منصوبوں فنڈز سے کروڑوں روپے کی کٹوتیوں پر انضمام کے حامی اور مخالف دونوں فریقین نے چھپ کا روزہ رکھا ہیں انضمام کے بعد وفاقی حکومت نے مختلف ترقیاتی شعبوں میں کروڑوں فنڈز کی کٹوتیاں کی گئی ہیں سب سے زیا دہ مواصلات میں 1ارب 14کروڑ 92لاکھ روپے کی کٹوتی کی گئی اسطرح دیگر تعلیم ،صحت ،پبلک ہیلتھ اینڈ انجینئرنگ ،جنگلات ،لائیو سٹاک اور اسطرح علاقائی فنڈسے بھی کٹوتی کی گئی ہیں پہلے سے قبائلی علاقوں میں تمام افراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے فنڈ کی کٹوتی قبائلی عوام کے ساتھ کھلا مذاق ہیں قبائلی عوام فنڈز زیا دہ ہونے کیلئے چیخ رہے ہیں لیکن وفاقی حکومت نے کٹوتی کرکے قبائلی عوام کی قربانیوں کو نظر انداز کر دیا گیا گز شتہ روز ایک نجی چینل رپورٹ کے مطابق کہ وفاقی حکومت نے قبائلی علاقوں کیلئے سالانہ تر قیا تی فنڈ میں کروڑوں روپوں کی کٹوتیاں کی گئی ہیں جس میں سب سے زیا دہ مواصلات میں ایک ارب چودہ کروڑ 92لاکھ ،تعلیم کے شعبے میں 40کروڑ 47لاکھ 37ہزار ،صحت کے شعبے میں 3کروڑ 37لاکھ سے زیا دہ ،پبلک ہیلتھ اینڈ انجینئرنگ مکے شعبے میں 88کروڑ 12لاکھ 57ہزار،جنگلات کی فنڈ سے 15کروڑ 93لاکھ 51ہزار ،لائیو سٹاک فنڈ سے 13کروڑ 44لاکھ 10ہزار اور اسطرح علاقائی فنڈز سے 70کروڑ 59لاکھ 18ہزار روپوں کی کٹوتی کی گئی ہیں انضمام کے بعد قبائلی عوام اس انتطار میں تھے کہ کب انضمام کے ثمرات ملنا شروع ہو نگے اور علاقے میں تر قیا تی کاموں کا جال بچایا جائے گا اور قبائلی عوام کے محرمیوں کا ازالہ کیا جائے گا لیکن بد قسمتی سے فنڈز زیا دہ ہونے کی بجائے مزید کم کر دی گئی ہیں فنڈز کی کمی کا مطلب کہ قبائلی علاقوں میں بہت زیا دہ تر قیا تی کام کئے گئے گئے اور اب قبائلی عوام کو اتنا زیا دہ فنڈ دینے کی ضرورت نہیں ہیں پورے ملک میں سب سے زیا دہ تر قیا تی فنڈ کی ضرورت قبائلی علاقوں کو ہیں کیونکہ گز شتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کی لہر سے پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہیں اور اس میں سب سے زیا دہ تعلیم اور صحت کے شعبے زیا دہ متاثر ہو گئے ہیں قبائلی علاقوں میں صحت کا شعبہ بہت زیا دہ متاثر ہیں اور معمولی مریضوں کو بھی پشاور کے ہسپتالوں میں ریفر کئے جا تے ہیں قبائلی علاقوں میں 1108صحت کے مراکز ہیں جس میں 844فنکشنل ہیں یعنی اس میں مریضوں کا علاج کیا جا سکتا ہیں جبکہ 263نان فنکشنل ہیں اس میں 137مختصر ڈیمیج ہیں اور 56مکمل ڈیمیج ہیں اسی طرح قبائلی علاقوں میں اسپشلسٹ ڈاکٹروں کی 156سینکشن پوسٹیں ہیں 87کا پر ڈاکٹر ز کام کر رہے ہیں اور 53اب بھی خالی ہیں اس واضح ہو تا ہیں قبائلی علاقوں میں صحت مراکز کی کیا حالت ہیں لیکن اسکے باجود بھی صحت کی فنڈ سے 3کروڑ 37لاکھ روپے کی کٹوتی سمجھ سے بالاتر ہیں اسی طرح قبائلی علاقوں میں تعلیمی درسگاہوں کی حالت بھی کسی ڈھکی چھپی نہیں ایک طر ف غربت کی وجہ سے قبائلی عوام اپنے بچوں کو پرائیویٹ اداروں میں داخل نہیں کر سکتے تو دوسری طرف سرکاری تعلیمی درسگاہوں کی حالت بھی انتہائی خراب ہیں سٹاف کی کمی سمیت دوسرے سہولیات نہ وہونے کی وجہ سے سٹاف سمیت طلباء شدید اذیت میں مبتلا ہیں تقریبا 37فیصد قبائلی بچے پرائمری میں سکول چھوڑ دیتے ہیں جبکہ دہشت گر دی کی وھؤجہ سے دجنوں سکولز تباہ کر دئیے گئے آئے روز والدین اور طلباء سٹاف کی کمی اور سکولوں میں د وسرے سہولیات کی نہ ہونے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں لیکن اسکے باجود سالانہ ترقیا تی فنڈسے 40کروڑ 47لاکھ 37ہزار روپے کی کٹوتی سمجھ سے بالاتر ہیں اسی طرح دوسرے اداروں کی کارکردگی نہ ہونے کی برابر ہیں اور وہ بھی پہلے سے فنڈز کی کمی کا رونہ رورہے ہیں لیکن مذید کٹوتیاں کی گئی ہیں لیکن افسوس ی بات یہ ہیں اس تمام صورتحال پر انضمام کی حامی اور مخالف دونوں فریقین نے خاموشی اختیار کی ہیں یا تو انہیں معلوم نہیں ہیں اگر معلوم ہیں اور خوموشی اختیار کی ہیں تو پھر وہ قبائلی عوام کے ساتھ طلم اور زیا دتی کر رہے ہیں کیونکہ قبائلی عوام پہلے سے در بدر کے ٹھوکریں کھا رہے ہیں فنڈز زیا دہ ہونے کی بجائے کم کرنا سمجھ سے بالاتر ہیں ؟

مزید : پشاورصفحہ آخر