اصغرخان کیس بندش کیلئے ایف آئی اے کی ڈور ہلانے والوں کی نشاندہی ضروری ہے، ایمل ولی خان

اصغرخان کیس بندش کیلئے ایف آئی اے کی ڈور ہلانے والوں کی نشاندہی ضروری ہے، ...

پشاور(سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اصغر خان کیس کی باتیں کرنے والا مسلط وزیر اعظم مفاہمت کا شکار ہو گیا ہے اور اندیشہ ہے کہ اسے اقتدار تک لانے والے اصغر خان کیس سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں ،ایف آئی اے کو اس حوالے سے وضاحت کرنا ہو گی کہ وہ کس کے اشارے پر اصغر خان کیس کی بندش چاہتا ہے، باچا خان مرکز میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ملک کی مجموعی حالت مخدوش ہو چکی ہے جس کا خمیازہ ایک بار پھر عوام بھگت رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کپتان نے اقتدار کے پہلے چار ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11روپے کا اضافہ کیا اور اب لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے اس میں چار روپے کی کمی کر کے سیلز ٹیکس میں9فیصد اضافہ کر دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک کا بچہ بچہ اس بات سے واقف ہے کہ کٹھ پتلی وزیر اعظم کو کرسی صرف اس لئے دی گئی ہے کہ عوام کی کھال اتار کر بوٹ والوں کے فنڈز میں اضافہ کرے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی معاشی بحران نہیں ہے البتہ حکومت کی نا عاقبت اندیشی اور نا تجربہ کاری کے باعث پاکستانی سٹاک ایکسچینج کا شمار دنیا کی پانچویں بدترن منڈی میں ہونے لگا ہے، ایمل خان نے کہا کہ معیشت بدحال ہوتی تو حکومت سینماؤں کی تعداد بڑھانے اور اس کیلئے 1400ارب روپے مختص کرنے کا اعلان نہ کرتی، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی اقربا پروری کی نذر ہو گیا ہے ،کیا وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد کو ٹھیکہ دینا مفادات سے متصادم قانون کی خلاف ورزی نہیں،؟انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب کو گھر کی لونڈی بنا لیا گیا ہے اور اس مقصد کیلئے نیب کو استعمال کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب صفائیاں دینے پر مجبور ہیں جبکہ انہیں تمام مصلحتوں سے بالاتر ہو کر بلا امتیاز احتساب پر توجہ دینی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ احتساب کو اپوزیشن کو کچلنے کیلئے انتقام کی صورت میں استعمال کیا جا رہا ہے اگر نیب شفاف اور غیر جانبدارانہ احتساب کا عمل چاہتا ہے تو اس کا آغاز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے کیا جائے اور صرف اسی صورت میں چیئرمین نیب کو اپنے ادارے کے حوالے سے صفائیاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر