نئے سال میں بلند اور نیک عزائم

نئے سال میں بلند اور نیک عزائم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 2019ء کا سال وطن عزیز کے لئے ایک سنہری دور کا نقط�ۂ آغاز ثابت ہو گا نئے سال کے لئے ہمارا عزم ملک کی بڑی بیماریوں یعنی غربت، ناخواندگی، ناانصافی اور کرپشن کے خلاف جہاد سے عبارت ہے۔ وزیراعظم نے اپنے اس عزم کا اظہار ایک ٹویٹ میں کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنائیں گے مگر احتساب پر بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیراعظم کا یہ عزم مبارک ہے اور نئے سال کے آغاز میں ایسے ہی نیک شگون ظاہر کئے جاتے ہیں بلند عزائم کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ نیک خواہشات پر مبنی دعائیں بھی دی جاتی ہیں لیکن بعض اوقات سال کے اختتام پر بھی ہم وہیں کھڑے نظر آتے ہیں جہاں سال کے شروع میں ہوتے ہیں ناخواندگی اور غربت ختم کرنے کے لئے ایسے عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔جو برگ و بار لائیں اور یہ شگوفے پھوٹتے ہوئے بھی نظر آئیں، ناخواندگی اسی صورت ختم ہو گی جب لوگوں کو خواندہ بنانے کے لئے ضرورت کے مطابق تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں گے اور جو کروڑوں بچے سکول نہیں جاتے انہیں سکولوں میں بھیجا جائے گا خود وزیراعظم عمران خان نے اپنی درجنوں تقریروں میں دل سوزی کے ساتھ ان بچوں کا ذکر کیا جو سکول نہیں جاتے، وہ سابق حکومتوں کی ترجیحات کو بھی ہدفِ تنقید بناتے رہے کہ وہ سڑکیں اوور ہیڈ برج تو بناتی رہی ہیں۔ تعلیمی ادارے نہیں بنا سکیں۔

ان کے ان خیالات کی روشنی میں دیکھا جائے تو اب ان کے لئے لازم ہے کہ وہ ملک بھر میں تعلیمی اداروں کا جال بچھا دیں، جو ادارے پہلے سے قائم ہیں انہیں بہتر بنائیں اور نئے ادارے قائم کریں۔ وہ یکساں نظام اور نصاب تعلیم کی بات بھی کرتے رہے ہیں اس لئے یہ بھی امید ہے کہ انہوں نے یہ کام شروع کر دیا ہو گا اور جلدہی ہم یکساں نظام تعلیم دیکھیں گے اگر چہ بظاہر یہ ناممکنات میں سے نظر آتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں ایچی سن کالج جیسے اداروں کا کیا ہوگا جہاں خود وزیر اعظم زیر تعلیم رہے اور جو آج بھی شرفا کے بچوں کے لئے مخصوص ہے جب ہمیں ایسی اطلاعات ملتی ہیں کہ صوبہ کے پی کے میں سینکڑوں سکول بند کر دیئے گئے یا صوبہ سندھ میں ہزاروں گھوسٹ تعلیمی ادارے ہیں تو دکھ ہوتا ہے کہ اس سب کچھ کے ہوتے ہوئے خواندگی میں کیسے اضافہ ہو گا، بہرحال وزیراعظم نے ارادہ کر لیا ہے تو لازماً عمل درآمد بھی کریں گے ۔

انہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں اعلیٰ تعلیم کی یونیورسٹی بنانے کے لئے اقدامات شروع کر دیئے ہیں لیکن سکولوں سے باہر جو کروڑوں بچے ہیں انہیں یونیورسٹی کی نہیں پرائمری سکولوں کی ضرورت ہے۔ بہتر ہے وہ صوبائی حکومتوں کو پرائمری سکول بنانے اور چلانے کی ہدایت بھی کریں کیونکہ گھوسٹ سکولوں میں باقی تو سب کچھ ہوتا ہے طلباء نہیں ہوتے۔ ایسے سکولوں کے استاد پوری تنخواہیں لیتے ہیں، فرنیچر کاغذوں میں خریدا جاتا ہے اور خریداری کے بعد سکولوں میں پہنچایا بھی جاتا ہے بار برداری کے اخراجات بھی سرکاری خزانے سے ادا ہوئے ہوتے ہیں یہ سب کچھ ہوتا ہے اگر نہیں ہوتی تو تعلیم نہیں ہوتی اس لئے اگر ناخواندگی کم کرنی ہے اور تعلیم کا دائرہ وسیع کرنا ہے تو ہزاروں نئے سکول جنگی بنیادوں پر بنانے ہوں گے درجہ بدرجہ ہائی سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بھی ضرورت ہے لیکن اس کام کے لئے جو اربوں روپے درکار ہیں وہ کہاں سے آئیں گے منصوبہ بندی کرتے وقت اس جانب بھی توجہ دینا ہوگی۔جو قرضے لئے جا رہے ہیں ان کا کچھ حصہ تعلیم کے لئے مختص کر دیا جائے توشاید حالات بہتر ہو ں۔

غربت کا خاتمہ بھی وزیراعظم کی ترجیحات میں سرِفہرست ہے لیکن یہ کیسے ہو گا؟ یہ سوال اہم ہے غربت کے خاتمے کے لئے روزگار کے وسائل بڑھانا ضروری ہے لیکن حکومتی اداروں کے اندر ملازمتوں کا حجم سُکڑ رہا ہے اور حالت یہ ہے کہ کسی سرکاری ادارے میں چند آسامیاں نکلتی ہیں تو ہزاروں لوگ درخواستیں لے کر پہنچ جاتے ہیں ایک پوری مشق کی جاتی ہے اور بالآخر ان ہزاروں درخواست گزاروں میں سے صرف ان چند کو نوکریاں مل جاتی ہیں جو مطلوبہ رشوت دے سکتے ہیں یا کوئی تگڑی سفارش رکھتے ہیں عموماً اول الذکر طریقِ کار ہی کارگر ثابت ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے بہت کم سرکاری محکمے یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ طریقِ کار کے مطابق ملازموں کو منتخب کرتے ہیں ملازمتوں کا دوسرا بڑا ذریعہ پرائیویٹ سیکٹر ہے جس کی حالت یہ ہے کہ پہلے سے ملازم لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں اور پرائیویٹ ادارے اپنے ملازمین اس حد تک کم کر رہے ہیں کہ صرف ناگزیر لوگوں کو رکھا جاتا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ مشکل اقتصادی حالات میں ان اداروں کا منافع کم ہو گیا ہے ایسی صورتوں میں وہ ملازموں کی تنخواہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔

بے روزگاری کم کرنے کا ایک نسخہ ماہرین یہ بتاتے ہیں کہ اگر جی ڈی پی کی شرح نمو سات سے 8فیصد تک ہو تو ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں جس سے بیروزگاری کم ہوتی ہے اس سے کم شرح میں زیادہ ملازمتوں کا کوئی تصور موجود نہیں لیکن اتنی زیادہ شرح کا حصول بھی خواب و خیال ہے کیونکہ سالِ رواں کے بجٹ کے اختتام تک جس کے اب چھ ماہ باقی رہ گئے ہیں شرح نمو 3فیصد کا ہندسہ بھی عبور کر جائے تو غنیمت سمجھا جائے گا ویسے بھی حکومت اسی مہینے نیا منی بجٹ بھی لا رہی ہے جس میں 155 ارب روپے کے لگ بھگ نئے ٹیکس لگائے جانے کا امکان ہے۔ موجودہ حکومت نے آتے ہی گیس، بجلی اور پٹرول کے نرخ بڑھائے تھے جس کی وجہ سے مہنگائی کا ایک ہوشربا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک ختم نہیں ہوا ہے۔ یکم جنوری سے پٹرول کے نرخوں میں جو کمی کی گئی ہے اس میں بھی ڈنڈی یہ ماری گئی ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس بڑھا کر حکومت نے اپنے ریونیو میں اضافہ تو کر لیا ہے لیکن عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کا ریلیف پوری طرح لوگوں کو منتقل نہیں کیا، اگلے چند ماہ بعد جب تیل کی قیمتیں پھر بڑھنے لگیں گی تو پھر کس قسم کے ریلیف کی توقع کی جا سکتی ہے؟ ایسے میں کیا کوئی جادو گر کسی قسم کا فسوں پھونک کر غربت کم کر دے گا یہ تو حکومت کے معاشی منیجر ہی بہتر جانتے ہوں گے جن کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب سے بڑی سرمایہ کاری آ رہی ہے یہ دعوے تو کئی ماہ سے کئے جا رہے ہیں لیکن ایسا نہ ہو جب تک تریاق آئے مہنگائی کے مارے عوام زندگی ہار جائیں۔

حکومت کی معاشی پالیسی کے نتیجے میں روپے کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور ابھی تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ روپیہ موجودہ قیمت پر مستحکم ہو جائے گا ایسی صورت میں درآمدات پر اخراجات بڑھ جائیں گے اور درآمدی مال سے تیار ہونے والی مصنوعات بھی مہنگی ہو جائیں گی۔ حکومت سابق قرضوں پر تو نکتہ چینی کرتی ہے لیکن نئے قرضوں کے راستے پر بدستور تیز رفتاری سے گامزن ہے۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ چین سے 8فیصد شرح سود پر دو ارب ڈالر قرض لیا جا رہا ہے۔ ممکن ہے اس قرض کے بغیر حکومت کا گزارہ نہ ہو ایک بار وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا تھا کہ ماضی کی حکومتوں نے بھی ایسی ہی مجبوری کے عالم میں قرض لیا اس لئے نئے قرضے لیتے ہوئے پرانے قرضوں کی مذمت کا سلسلہ تو رک جانا چاہیے۔ حکومت کے دعوے اپنی جگہ لیکن کوئی ایسی معاشی پالیسی نظر نہیں آتی جس کے نتیجے میں غربت ختم تو کیا کم ہی ہو سکے۔ مرغیوں کی پرورش اور انڈوں کی فروخت کا جو منصوبہ وزیراعظم نے بنفسِ نفیس پیش کیا تھا وہ چند دن تک لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لانے کے بعد اب آہستہ آہستہ ایک فراموش شدہ باب بن گیا ہے۔ تاہم امید کرنی چاہیے کہ وزیراعظم نے نئے سال کے لئے جو اہداف رکھے ہیں وہ اس سال پورے ہو جائیں گے۔انہوں نے احتساب جاری رکھنے کا ایک با ر پھر اعلان کیا ہے جس پر یہی کہا جا سکتا ہے ہمیں یقین ہوا، ہم کو اعتبار آیا ۔

مزید : رائے /اداریہ