شہباز شریف کی علالت!

شہباز شریف کی علالت!

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف کی پرانی کمر درد کی بیماری عود کر آئی اور پمز اسلام آباد میں ان کا طبی معائنہ جاری ہے۔ میڈیکل بورڈ کی طرف سے ایم آر آئی ٹیسٹ کے بعد بتایاگیا کہ کمر کے مہروں میں فرق محسوس کیا گیا اور اب ان کے مزید ٹیسٹ کرانا ہوں گے۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے اپنے بیان کے مطابق وہ کینسر جیسے موذی مرض سے لڑ کر کامیاب ہوئے۔ جس کے بعد وہ ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق خوراک اور ادویات کا دھیان رکھتے ہیں۔ اور سال میں کم از کم دو مرتبہ لندن جا کر ٹیسٹ کرواتے رہے ہیں۔ شہباز شریف نے خود بتایا تھا کہ وہ نہ صرف کینسر بلکہ کمر درد سے بھی کامیاب علاج کے بعد صحت یاب ہو گئے اور ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق پیراکی کرتے ہیں ۔پی اے سی کے چیئرمین شہباز شریف کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد یہ بات مسلسل واضح کی گئی کہ وہ مریض ہیں۔ خوراک اور ادویات اپنے معالجین کی ہدایت کے مطابق استعمال کرتے ہیں اور ڈاکٹروں ہی کی ہدایت کے مطابق وہ پیراکی بھی کرتے ہیں اور یہ سب مسلسل عمل ہے جو ان کو تند رست رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ اب مسئلہ یہ بھی بنا کہ گرفتاری کے بعد ان کے روز مرہ کے معمولات متاثر ہو گئے اور وہ پیراکی نہیں کر سکے۔ چنانچہ اب ان کے مہروں میں جو تکلیف ہوئی اس نے مزید واضح کر دیا کہ ان کی صحت کے لئے یہ معمولات بھی لازم ہیں۔ جو زیر حراست ہونے کے باعث پورے نہیں ہو سکتے۔ اب تکلیف سامنے آ گئی تو مزید ٹیسٹ ہوں گے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اول تو زیر حراست ہونے کے باعث شاید علاج ممکن نہیں کہ خصوصی سیشن ہوتے ہیں۔ کیسز کے ٹیسٹ بھی ساتھ ساتھ جاری رہتے ہیں اب دیکھنا ہوگا کہ حتمی معائنہ ہو جانے کے بعد علاج میں کیا پیش رفت ہوتی ہے زیر حراست رہیں تو پیراکی کیسے ہو گی اور پھر جو تھیراپی وہ کراتے تھے۔ اس کی بھی اجازت دی جائے گی کہ نہیں۔مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر محمد شہباز شریف نے کہا تو ہے کہ ان کو اٹھنے بیٹھنے سے تکلیف نہیں ہوتی لیکن درد تو رہتا ہے۔ اسی طرح کینسر کے مرض کی علامات کا شبہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ سب مزید طبی معائنے اور ٹیسٹ کرانے کے بعد واضح ہوگا اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ جس الزام کے تحت جیل میں ہیں اس کا تو ٹرائل بھی شروع ہونے والا ہے۔ ایسے میں کیا ان کو بیرون ملک جانے کی اجازت ملے گی؟ یہ ایک انسانی مسئلہ بھی ہے اور حکومت کو اس حوالے سے اپنے رویئے پر نظر ڈالنا چاہئے۔ ان کے مکمل ٹیسٹ کرا کے ممکن ہو تو تحفظ اور ضمانتوں کے بعد ان کو علاج کی مکمل سہولتیں مہیا کی جائیں۔ ان کو پرانے معالجین کی خدمات سے بھی مستفید ہونے دیا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ