حنیف رامے بڑے لیڈر کیوں نہ بن سکے؟

حنیف رامے بڑے لیڈر کیوں نہ بن سکے؟
 حنیف رامے بڑے لیڈر کیوں نہ بن سکے؟

  

سال 1974ء کے مارچ میں محمد حنیف رامے بلا مقابلہ پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔ پہلی مرتبہ ایک شہری بابو کو وزیراعلیٰ بنایا گیا، جو سرمایہ دار، جاگیر دار، خان اور سردار نہیں تھے، بلکہ درمیانے طبقے کے پڑھے لکھے، صاحب کردار صحافی اور دانشور تھے۔کرائے کے مکان میں رہنے والے حنیف رامے پنجاب کے وزیر خزانہ اور بعد میں وزیراعلیٰ بن گئے۔ اس دور میں پوری دُنیا با لخصوص برصغیر پاک و ہند میں انقلاب کی لہر آئی ہوئی تھی مگر پنجاب میں رامے وزارت کا قیام کسی طرح بھی ماؤ اور لینن کے انقلاب سے کم نہیں تھا۔پاکستان کے عوامی ابھار اور حق حاکمیت کے راج کو دُنیا میں بہت حیرت اور دلچسپی سے دیکھا جا رہا تھا۔

لاہور شہر میں محمد حنیف رامے اور ان کا خاندان پبلشنگ کے کاروبار سے منسلک تھا۔ وہ ادارہ ’’البیان‘‘ کے نام سے کتب اور رسائل وغیرہ چھاپتے تھے، لیکن رامے صاحب کی وجہ شہرت ماہنامہ ’’نصرت‘‘ کی تحریریں اور اداریے بنے، جس کے وہ مالک ایڈیٹر تھے۔ میڈیا کی بہتات آج جیسی نہ تھی گنے چنے اخبارات اور رسائل تھے۔ریڈیو ٹی وی سرکار کے زیر انتظام تھے، چنانچہ معیاری، پراثر،بروقت اور اپنی منطقی تحریروں کی بدولت جلد ماہنامہ نصرت اور حنیف رامے کو ادبی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک مقام حاصل ہو گیا۔ جنرل ایوب خان صدر پاکستان تھے اور کنونشن مسلم لیگ کنگز پارٹی تھی۔ قسمت نے یاوری کی تو اس وقت کے قدرت اللہ شہاب اور الطاف گوہر جیسے میڈیا منیجرز کی بدولت حنیف رامے کنونشن مسلم لیگ مغربی پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوگئے۔

یہ منصب ان کے لئے بظاہر قابلِ فخر یا قابلِ تفاخر نہ تھا، لیکن شاید قدرت اُنہیں ذوالفقار علی بھٹو سے ملانے کا بندو بست کر رہی تھی،جو اس وقت کنونشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل تھے۔

یکم جنوری 2006ء حنیف رامے کا یوم وفات ہے۔ وہ انتہائی محنتی، ذہین،انتھک، دیانت دار، مہذب ،شریف النفس انسان اور بہت بڑے مصور، ادیب،صحافی ایک شاندار اور بے مثال مقرر تھے۔بطور مفکر اور لکھاری حنیف رامے نے پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے انتہائی گراں قدر خدمات انجام دیں نصرت جو بعد میں ماہنامہ سے ہفت روز ہوگیا اور اس کے ساتھ روزنامہ ’’مساوات‘‘ کا اجراء کیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے ایوب خان سے اختلاف اور وزارت خارجہ سے استعفیٰ سے لے کر پیپلز پارٹی کے قیام تک حنیف رامے نے پارٹی کے قیام کی افادیت،اغراض و مقاصد، پرچار، نظریاتی دفاع، پروپیگنڈا اور تشہیر کا محاذ نہایت جوش و جذبہ اور کامیابی سے سنبھالے رکھا۔

پارٹی کی اساسی دستاویزات لکھیں۔ سوشلزم کا نظریہ چونکہ پارٹی کی نظر یاتی اساس تھا مگر پارٹی کے اندر یہ رائے آئی کہ اس نظریے کی مخالفت ہو سکتی ہے اور غلط فہمیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ چنانچہ حنیف رامے نے سوشلزم کی جگہ اسلامی ’’سوشلزم‘‘ اور’’مساواتِ محمدی‘‘کا نظریہ تخلیق کیا۔ وہ اِس موضوع پر اس سے پہلے اپنے ماہنامہ ’’نصرت‘‘ میں مضامین وغیرہ لکھتے رہتے تھے۔ پنجاب کے جاگیر داروں، بیوروکریسی اور اشرافیہ کو مڈل کلاس دیانت دار گھرانے کے عام شہری بابو کی وزارتِ اعلیٰ بہت ناگوار گزرتی تھی۔لہٰذا وہ محض سولہ ماہ ہی وزیراعلیٰ پنجاب رہ سکے۔

ذوالفقار علی بھٹو اور محمد حنیف رامے کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے حنیف رامے نے سینٹ کا رکن بن کر وفاقی وزیر بننے کی بھٹو کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے پارٹی چھوڑ دی۔ اور بعد ازاں جیل چلے گئے۔ بھٹو سے علیحدگی کے بعد پاکستان مساوات پارٹی کی بنیاد رکھی رب،روٹی اور لوک راج کا نعرہ اور مساوات محمدی کا پروگرام دیا۔ ایک مناسب سائز کی پارٹی کھڑی کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ موچی دروازے کے باغ میں جلسہ کیا جو ایم آرڈی کے جلسے سے چھوٹا نہیں تھا۔ حنیف رامے کو پنجابی ہونے کا بھی نقصان ہوا کسی اور صوبے میں ہوتے تو اس سے بڑے لیڈر ہوتے۔

ان کے دل میں خواہش تھی وہ خود کو اِس قابل بھی سمجھتے تھے کہ مُلک کے وزیر اعظم بن سکیں، لیکن افسوس وہ صف اول کے لیڈر نہ بن سکے۔ ان کی تمام تر صلاحیتیں اور محنت و جانفشانی اپنی جگہ، مگر وہ جس مقام تک بھی پہنچے اس کی بنیاد پاکستان پیپلز پارٹی اور وجہ ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ رامے اور بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنما تھے۔ دونوں مختلف طبقات سے تعلق رکھتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو سندھ کے ایک بڑے جاگیر دار خاندان میں پیدا ہوئے اور برطانیہ و امریکہ سے تعلیم حاصل کی، مگر ذوالفقار علی بھٹو کی والدہ غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ بھٹو کو غریبوں سے ہمدردی اور محبت والدہ ہی کی نسبت سے تھی۔ حنیف رامے بھی اپنی والدہ کے زیادہ قریب اور زیر اثر تھے۔

5 جنوری ذوالفقار علی بھٹو کا یوم ولادت ہے۔ برسی اور سالگرہ کی کوئی مماثلت نہیں بنتی، مگر حنیف رامے کہا کرتے تھے کہ بڑے لوگوں کی برسی کے بجائے جنم دن ہی منانے چاہئیں۔ بلا شبہ دونوں بہت بڑے انسان اپنے وقت کے مقبول ترین اور منفرد لیڈر تھے۔ دونوں کے حصے میں خوب عوامی پذیرائی آئی۔ اس سوچ اور فکر کے حامل سیاسی کارکن اور رہنما اب خواب اور خیالوں میں ہی رہ گئے ہیں۔نظریہ کا حال تو ہم نے جو کیا سو کیا سب سے بڑا ظلم اور زیادتی ہم نے یہ کی کہ عام انتخابات میں عام آ دمی اور درمیانے طبقے کا کردار صرف ووٹ ڈالنے اور تالیاں بجانے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ حلال کے پیسے اور کمائی سے سیاست کرنے کا تصور بھی نہیں رہا۔

سیاست پر اونچے طبقے اور اشرافیہ کی اجارہ داری قائم ہوگئی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور محمد حنیف رامے کے ادھورے خوابوں کی تکمیل کی خاطر نہ سہی۔ توانا جمہوریت، ترقی پسند، روشن خیال اور ایک متوازن اور مضبوط پاکستان کے لئے انتخابی اصلاحات کے ذریعے الیکشن کمیشن کو آزاد اور خودمختار کیا جائے۔ انتخابات پر اشرافیہ اور امیر طبقے کی اجارہ داری ختم کرتے ہوئے انتخابات کو سستا کرتے ہوئے درمیانے طبقے کی پہنچ میں لایا جائے۔ مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے پڑھے لکھے نوجوانوں کی انتخابی عمل میں شمولیت سے سیاسی جماعتیں اور جمہوریت دونوں کو فائدہ ہو گا۔

مزید : رائے /کالم