جب تک پولیس اور جوڈیشری ٹھیک نہیں ہوتی حالات بہتر نہیں ہوسکتے چیئرمین قائمہ کمیٹی قانو ن وانصاف

جب تک پولیس اور جوڈیشری ٹھیک نہیں ہوتی حالات بہتر نہیں ہوسکتے چیئرمین قائمہ ...

اسلام آباد( آئی این پی ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے کلبوشن یادیو کیس، ریکوڈک، سندھ طاس معاہدہ او ر ڈیمز کے مسئلے وزارت قانون و انصاف سے بریفنگ طلب کر لی ، اجلاس کے دوران وزارت قانون وانصاف حکام کے کمیٹی کو تحریری جواب اور دوران اجلاس بریفنگ میں تضاد سامنے آگیا ، سیکرٹری قانون سی پیک معاہدوں پر نظرثانی سے متعلق اپنی تحریری بریفنگ سے مکرگئے، رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ آپ نے اپنی بریفنگ میں لکھا ہے کہ سی پیک کے معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے گی، آپ سی پیک کے منصوبوں پر کس قانون کے تحت نظر ثانی کررہے ہیں جس پر سیکرٹری قانون نے کہا کہ کہ سی پیک معاہدوں پر نظرثانی ہمارے اختیار میں نہیں، جبکہ سیکرٹری قانون ملٹری کورٹس کی مدت میں توسیع سے متعلق وزارت داخلہ کی سمری سے بھی لا علم نکلے ، وزارت کے مشیر قانون سازی ملک حاکم نے کہا کہ ہمیں وزارت داخلہ کی طرف سے ایک سمری آئی تھی جو کابینہ کو بھجوا دی گئی ہے،ہم نے کہا ہے کہ اس کی کابینہ سے منظوری لی جائے، رانا ثناء اﷲ نے پھر اعتراض اٹھایا کہ سیکرٹری صاحب کچھ اور طرح سے بات کررہے ہیں اور آپ کچھ اور طرح سے بات کررہے ہیں۔بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس ریاض فتیانہ کی سربراہی میں ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں چیئرمین کمیٹی کی جانب سے تمام ارکان کو گلدستے پیش کئے گئے جبکہ چیئرمین کمیٹی نے میاں شہباز شریف اور دیگر ارکان کیساتھ مل کر نئے سال کی آمد کا کیک بھی کاٹا۔ اس موقع پر چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ وزارت قانون ہمیں اپنے مکمل ترقیاتی منصوبوں اور جاری منصوبوں کی تفصیلات فراہم کرے جبکہ اقوام متحدہ کے کنونشنز اور پروٹوکول کے حوالے سے بھی ہمیں بریفنگ دی جائے جبکہ کلبھوشن یادیو ،ریکوڈک، کارکے،پی آئی اے،سندھ طاس معاہدہ اور ڈیمز کے مسئلے پر ہمیں الگ الگ بریفنگ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پولیس اور جوڈیشری ٹھیک نہیں ہوتی لوگوں کے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے وزارت قانون حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ہمارے پاس 17سے 22 گریڈ کی 119 آسامیوں میں سے 54 خالی ہیں جبکہ گریڈ ایک سے 16تک کی 438میں سے 63آسامیاں خالی ہیں جبکہ کل 573 میں سے 126آسامیاں خالی ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزارت قانون کا مالی سال 2018-19 کا ٹوٹل بجٹ 5633ملین روپے ہے۔ اس موقع پر رکن کمیٹی عالیہ کامران نے استفسار کیا کہ 126آسامیاں خالی ہونے کی وجہ کیا ہے جس پر حکام نے جواب دیا کہ 54آسامیاں وہ ہیں جن کی پوسٹنگ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کرنی ہیں ہم ایک مہینے کے اندر تمام آسامیاں پر کردیں گے جس پر عالیہ کامران نے کہا کہ آپ چھ مہینے سے یہ پر نہیں کرپارہے تو ایک مہینے میں کیسے کریں گے۔ اجلاس کے دوران خواجہ سعد رفیق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت اہم کمیٹی ہے ہم اس میں سنجیدگی اور دیانت داری سے حصہ لیں گے۔ منسٹری کے بجٹ پر کٹ نہیں لگنا چاہئے۔ وزیر قانون فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی طرح ہیں ساری سڑکیں ان کی طرف جاتی ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چاہئے ۔ اس موقع پر رانا ثناء اﷲ نے استفسار کیا کہ کیا آپ بین الاقوامی معاہدوں کو اپنے طور پر نظر ثانی کرسکتے ہیں اور ملٹری کورٹس کی مدت ختم ہونے پر وزارت کی کیا رائے ہے؟ رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ آپ نے اپنی بریفنگ میں لکھا ہے کہ سی پیک کے معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے گی۔آپ سی پیک کے منصوبوں پر کس قانون کے تحت نظر ثانی کررہے ہیں، سیکرٹری قانون نے کہا کہ سی پیک معاہدوں پر نظرثانی ہمارے اختیار میں نہیں، معاہدوں پر نظرثانی متعلقہ وزارتیں کرتی ہیں،ہمارے پاس سی پیک معاہدے پر نظرثانی سے متعلق کوئی سمری نہیں آئی۔ اس موقع پر سیکرٹری قانون نے کہا کہ ملٹری کورٹس کا ابھی تک ہم سے کسی نے نہیں پوچھا نہ ہم کو اس بارے میں علم ہے تاہم وزارت کے مشیر قانون سازی ملک حاکم خان نے اس موقع پر کہا کہ ملٹری کورٹس کا معاملہ وزارت داخلہ دیکھ رہی ہے ہمیں وزارت داخلہ کی طرف سے ایک سمری آئی تھی جو کابینہ کو بھجوا دی گئی ہے۔ ہم نے کہا ہے کہ اس کی کابینہ سے منظوری لی جائے۔ جس پر رانا ثناء اﷲ نے اعتراض اٹھایا کہ سیکرٹری صاحب کچھ اور طرح سے بات کررہے ہیں اور آپ کچھ اور طرح سے بات کررہے ہیں۔ رکن کمیٹی نوید قمر نے کلبھوشن یادیو کیس کے حوالے سے استفسار کیا کہ وزارت قانون اس کو کیسے ہینڈل کررہی ہے۔ سیکرٹری قانون نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کا معاملہ حساس ہے جس پر نوید قمر نے کہا کہ ہمیں ان معاملات پر ان کیمرہ بریفنگ دی جائے۔ رکن کمیٹی محمود بشیر ورک نے کہا کہ نیب پر آپ کا کتنا کنٹرول ہے۔ جس پر سیکرٹری قانون نے جواب دیا کہ ہمارا نیب کے ساتھ کوئی لنک نہیں۔نفیسہ شاہ نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں سے متعلق کیسز ہم ہار جاتے ،ہم ایسے معاہدے کیوں کرتے ہیں جو ہمارے گلے پڑجاتے ہیں،سیکرٹری قانون نے کہا کہ بین الاقومی معاہدوں سے متعلق ہماری کارکردگی افسوسناک رہی،’’کارکے ‘‘معاہدے کے حوالے سے ہم نے وکیل ہائر کرلیا ہے ہم بین الاقوامی معاہدوں پرکیس کیوں ہارتے ہیں اس پرکمیٹی کو اعتماد میں لوں گا،ہارے گئے بین الاقوامی کیسز کے ہم پر مالی اثرات بہت زیادہ ہوئے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر