شدید محاذ آرائی ، درست نہیں!

شدید محاذ آرائی ، درست نہیں!
 شدید محاذ آرائی ، درست نہیں!

  

آئی ایس پی آر کی اطلاع کے مطابق دہشت گردوں نے بلوچستان کے شہر لورالائی میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کیمپ پر خودکش حملے کی کوشش کی جو محافظوں نے اپنی جان پر کھیل کر ناکام بنا دی اور سیکیورٹی اہل کاروں کی جوابی کارروائی میں خودکش حملہ آور سمیت چاروں دہشت گرد مارے گئے۔ دہشت گردوں نے یہ حملہ اپنی روائتی حکمت عملی کے تحت کیا۔ خودکش بمبار کو کور دینے کے لئے اس کے ساتھیوں نے فائرنگ کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی کہ خودکش حملہ آور کیمپ میں داخل ہوسکے، محافظوں نے روک لیا، چار محافظ شہید اور کچھ زخمی ہوئے،تاہم حملہ آور بھی ناکام ہو گئے اور کیمپ میں جا کر خودکش واردات نہ کر سکے۔

اس واردات میں بھی نشانیاں اور آگاہی ہے، جو ہمیں خبردار کرتی ہے کہ دشمن ہار نہیں مان رہا، اسے ہمارے پیارے پاکستان میں امن ایک آنکھ نہیں بھاتا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جب بھی امن کے لئے کوئی بہتر اور اہم پیش رفت ہو گی تو را کے ایجنٹ کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے۔بلوچستان میں ہونے والی کارروائی سے یہ بھی ظاہر ہے کہ را کا بلوچستان میں اثر ختم نہیں ہوا کہ اس صوبے میں تخریبی کارروائیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ خود بلوچ نوجوان گمراہ ہو کر پہاڑوں پر چلے گئے اور بھارت میں تربیت حاصل کرکے اندرون بلوچستان کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان کے سردار خود سوئٹزرلینڈ اور انگلینڈ میں بیٹھے رہتے ہیں۔

یہ حالات آنکھیں کھولنے اور سوچنے کی دعوت دیتے ہیں کہ دشمن کیا کر رہا ہے اور کیا چاہتا ہے اور ہم خود اندرون ملک کیا کر رہے ہیں ۔معذرت کہ ایک ایسی حقیقت کا ذکر کئی بار کرنا پڑتا ہے، حالانکہ ہر کوئی جانتا اور مانتا بھی ہے کہ حالات حاضرہ اور ان معروضی حالات میں اندرونی استحکام کی جتنی ضرورت ہے وہ میسر نہیں ہے حالانکہ ہر کوئی کہتا یہی ہے لیکن عمل سے گریز کرتا ہے اس سلسلے میں زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ جن کو اس کی ضرورت ہے وہی عدم استحکام پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ برسراقتدار تحریک انصاف کو اس اقتدار سے اطمینان نہیں اور وہ کلی اختیار کی خواہش مند ہے، اپوزیشن کی طرف سے یہ الزام لگایا جاتا اور بعض دانشور بھی یہ دلیل لاتے ہیں کہ ایک خاص طبقے کی کوشش ہے کہ پارلیمانی نظام رخصت ہو اور یہاں صدارتی نظام آ جائے۔ حالانکہ ماضی میں یہ تجربہ کم از کم چار بار ہو چکا اور ناکام رہا ۔

ہمیں تو اس کا اندازہ خود کپتان کے انداز سے ہوتا ہے۔ بلاشبہ وزیراعظم عمران خان انتھک کوشش کررہے ہیں اور ٹھیک کہتے ہیں کہ وہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے اور چھٹی بھی نہیں کرتے۔ تاہم دیکھنا یہ بھی ہے کہ وہ اس پورے عرصے میں محنت کرتے اور کیا کرتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو عمران خان صبح اٹھتے اور کام شروع کرتے ہیں تو رات گئے تک اجلاسوں کی صدارت کرتے رہتے ہیں، صوبوں میں بھی جائیں تو کابینہ کی صدارت فرماتے ہیں، حالانکہ وزیراعلیٰ موجود ہوتے ہیں، اسی طرح وہ مختلف امور اور منصوبوں کے حوالے سے ہونے والے اجلاسوں کی بھی صدارت کرتے ہیں۔اس عمل سے ان کی خواہش اگر صدارتی نظام ہو تو کچھ غلط محسوس نہیں ہوتا، بلکہ احساس ہوتا ہے وہ تمام تر اختیارات اپنی ذات میں مرکوز کرنا چاہتے ہیں جو پارلیمانی جمہوریت میں ممکن نہیں۔ برسراقتدار آنے سے قبل ان کا اعلان تھا کہ وہ ہر ہفتے پارلیمان کے اجلاس میں سوالات کے جواب دینے کے لئے موجود ہوں گے، لیکن پارلیمنٹ کا ریکارڈ گواہ ہے کہ وہ اب وہاں آتے ہی نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ جو احساس ہمیں ہوا وہ یہ کہ کپتان صاحب کی کابینہ کی واضح اکثریت نے آئین پڑھنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی۔ ان کو اقتدار مل گیا یہی کافی ہے ۔گورنر سندھ عمران اسماعیل کھلم کھلا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور اپنے ہی صوبے کی صوبائی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش میں شامل ہیں اور چھپاتے بھی نہیں حالانکہ وہ اب تحریک انصاف کی نہیں وفاق کی علامت ہیں اور ان کو ایسے امور سے دور رہنا چاہیے جو خود ان کے لئے پریشانی کا باعث ہو سکتے ہیں، دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ یہ حضرات جن کا اپنا تعلق کراچی سے ہے۔ اس خواہش کو چھپا نہیں پاتے کہ وہ سندھ پر پیپلزپارٹی کی حکومت نہیں چاہتے کہ اس طرح ان کا کام نہیں بنتا۔ چنانچہ گورنر ہی پر کیا موقوف ان کے کراچی والے سارے وزراء سندھ کے پیچھے پڑ گئے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کو چین نہیں ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی برسراقتدار ہے۔

اور پھر کیا یہ آئینی حرکات اور بیانات ہیں کہ آپ اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری کا ذکر کرتے ہیں تو وہ واقعی گرفتار بھی ہو جاتے ہیں، نیب کا کردار بہت واضح ہے اگرچہ نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاویداقبال دفاع میں اچھے دلائل لاتے ہیں، تاہم وہ یہ بھی تو دیکھیں کہ اب تک نیب نے علیمہ خان سے منی ٹریل نہیں مانگی اور ایف بی آر ان کی دوبئی والی جائیداد چھپانے کے عوض تاریخ گزر جانے کے بعد بھی ایمنسٹی دے رہا ہے اور محض جرمانہ پر اکتفا کیا گیا جو ابھی تک ادا نہیں ہوا۔

جہاں تک پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت ختم کرنے کی خواہش کا تعلق ہے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف والوں نے آئین بھی نہیں پڑھا اور نمبر گیم بھی ان کے سامنے نہیں۔ کراچی والے سرگرم عمل اور دعوے کرتے چلے جا رہے ہیں اور یوں محاذ آرائی شدید سے شدید تر ہو گئی۔برادرم فواد چودھری خود وکیل ہیں۔ سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں، چچا الطاف حسین ماہر سیاسی شخصیت تھے ان کی تربیت وہاں ہوئی اس کے باوجود وہ جوش میں آکر وہ سب کچھ کرنے پر تیار تھے اور شاید اب بھی ہیں ،جس کی گنجائش آئین میں نہیں، اب عدالت عظمیٰ نے یاد دلایا تو شاید یاد آ گیا، تاہم کوشش جاری ہے اگرچہ اندرونی استحکام کے لئے احتساب اور سیاست کو الگ کر دینا چاہیے۔

پیپلزپارٹی کے ایک رہنما نوید چودھری کہتے ہیں کہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے (جے آئی ٹی کے سربراہ) کے بارے میں پارٹی کے خدشات بے جا نہیں تھے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بلاول تو بلاول، زرداری کے وکیل فاروق اے نائیک کو بھی ملزموں میں گھسیٹ لیا۔ چیف جسٹس کو کہنا پڑا کہ جے آئی ٹی نے اختیارات سے تجاوز کیا۔

ہمیں یہاں اس اہم مسئلہ کی طرف پھر توجہ دلانا ہے جس کے بارے میں کئی بار لکھ چکے وہ یہ کہ عدالتوں میں زیر سماعت / زیر التواء مقدمات اور مسائل کے بارے میں عدالت سے باہر بحث اور تنقید و تائید جائز نہیں۔ یہاں تو عدالت عظمیٰ کو نوٹس لینا پڑ گیا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ عدالت میں جمع ہونے سے پہلے نہ صرف لیک ہوئی بلکہ اس پر الیکٹرانک میڈیانے باقاعدہ بحث بھی شروع کر دی۔ وزراء نے اس کی بناء پر بیان بازی کا سلسلہ شروع کر دیا جو عدالت عظمیٰ کی ناراضی اور منع کرنے کے باوجود نہیں رکا۔گزارش یہ ہے کہ معروضی حالات کو سامنے رکھیں۔ ملکی مسائل و حالات پر غور کریں، یہ سب امن و استحکام سے درست ہوں گے۔ اس لئے ملک کے اندر کشمکش اور محاذ آرائی کو اصول اور جمہوری طرز عمل کے اندر رکھیں کہ شدید ضرورت ہے۔

مزید : رائے /کالم