ریاست کے اندر ریاست نہیں چلے گی : چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

ریاست کے اندر ریاست نہیں چلے گی : چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد(این این آئی)اسلام آبادہائیکورٹ نے قطری گاڑیوں کی برآمدگی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ ریاست کے اندر ریاست نہیں چلے گی۔ بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق سینیٹر سیف الرحمن کی کمپنی سے قطری گاڑیاں پکڑنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو ڈائریکٹر کسٹم انٹیلی جنس عبدالحمید مروت عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ اس کیس میں اصل مجرم کون ہے؟ڈائریکٹر کسٹم انٹیلی جنس نے جواب دیا شیخ حمد بن جاسم ہیں تاہم ان کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں دفتر خارجہ کی طرف سے کسٹم حکام کو بھیجا گیا جواب پیش کیا گیا جس میں دفتر خارجہ نے گاڑیوں کو ری ایکسپورٹ کرنے کیلئے قطری سفارتخانے کو دو ماہ کا وقت دینے کی سفارش کی۔ دو طرفہ تعلقات کا معاملہ ہے اس لیے قطری سفارتخانے کو اس معاملے میں وقت دیا جائے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کسٹم ڈائریکٹر کو تنبیہ کی کہ آپ ملک کے خارجہ امور میں مداخلت کررہے ہیں، کیا آپ قطری سفارت خانے کیخلاف کارروائی کرسکتے ہیں، یہ دونوں ممالک کے تعلقات کا معاملہ ہے، آپ نے خیال نہیں رکھا، ریاست کے اندر ریاست نہیں چلے گی، جس کلکٹر کسٹم نے یہ گاڑیاں پاکستان لانے کی اجازت دی اس کو گرفتار کرتے۔کسٹم انٹیلی جنس افسر نے بتایا حمد بن جاسم کے نام پر 280 گاڑیاں پاکستان میں آئیں جن میں سے 26 پکڑیں لیکن باقی کا نہیں پتہ، اس حوالے سے چاروں صوبوں کی پولیس اور کسٹم کلکٹر کو آگاہ کردیا ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکم دیا کہ وزارت خارجہ کی تجویز کی روشنی میں ایف بی آرسے رائے لیں۔ عدالت نے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت چھ فروری تک ملتوی کردی۔

اسلام آبادہائیکورٹ

مزید : صفحہ آخر