پنجاب اسمبلی ، خواتین ارکان اسمبلی کی بزنس میں ماضی کی نسبت انتہائی کم دلچسپی

پنجاب اسمبلی ، خواتین ارکان اسمبلی کی بزنس میں ماضی کی نسبت انتہائی کم دلچسپی

لاہور(دیبا مرزا سے) نئے پاکستان میں پنجاب اسمبلی میں خواتین ارکان اسمبلی کی ایوان کے بزنس میں ماضی کی خواتین کی نسبت انتہائی کم دلچسپی دکھائی دے رہی ہے اور موجودہ اسمبلی میں خواتین ارکان اسمبلی کا بزنس اس طرح سے اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں جمع نہیں کرو اہا جا رہا ہے کہ جس طرح سے ماضی میں اس وقت کی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کی خواتین جمع کروایا کرتی تھیں ۔تفصیلات کے مطابق موجودہ اسمبلی کو وجود میں آئے تین ماہ کا عرصہ گذر چکا ہے اور اس دوران اسمبلی سیکرٹریٹ میں اپوزیشن کی خواتین کی طرف سے جن خواتین کا اب تک سب سے زیادہ بزنس اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروایا گیا ہے ان میں قابل ذکر حنا بٹ ‘ عظمی زاہد بخاری اور کنول لیاقت کانام شامل ہے اسی طرح سے حکمران جماعت کی طرف سے مسرت جمشید چیمہ اور سعدیہ سہیل رانا کی طرف سے اسمبلی سیکرٹریٹ میں مختلف قسم کا بزنس اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروایا جارہا ہے ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نئی اسمبلی میں سب سے زیادہ نئی خواتین ارکان اسمبلی حکمران جماعت پی ٹی آئی کی طرف سے اسمبلی میں آئی ہیں جن کو ابھی تک بھی اسمبلی کے بز نس کے بارے میں مکمل طور پر آگاہی نہیں ہو سکی ہے اور ان کی اسمبلی کے ایوان میں موجودگی محض ایک نمائشی ہے اور یہ خواتین اسمبلی بزنس کے دوران بھی آپسی گفتگو میں مصروف رہتی ہیں اور ان کو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ اسمبلی کی کارروائی کے دوران ہونے والی ووٹنگ میں کس وقت خاموش رہنا ہے اور کس وقت ہاتھ کھڑے کرکے اپنے ووٹ کا اظہار کرنا ہے ۔اس حوالے سے دونوں اطراف کی خواتین ارکان اسمبلی کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ خواتین کے ایشو کو اجاگر کیا کریں اور اسی مقصد کے لئے ہم مختلف قسم کی قرار دادیں اور تحاریک التواء کی شکل میں اپنا بزنس جمع کرواتی ہیں جس کی وجہ سے عام گھریلو خواتین کو کافی فوائد بھی حاصل ہورہے ہیں کوشش کریں گی کہ خواتین کے حقوق سے متعلق مختلف قانون سازی کے لئے بل بھی متعارف کروائیں ۔

پنجاب اسمبلی /خواتین

مزید : صفحہ آخر