این آر او صرف آمر دے سکتا ہے جمہوری حکومت نہیں ، شاہد خاقان

این آر او صرف آمر دے سکتا ہے جمہوری حکومت نہیں ، شاہد خاقان

اسلام آباد( آن لائن )سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ این آر او صرف آمر دے سکتا ہے جمہوری حکومت نہیں دے سکتی ۔ وزیر عوام کا نوکر ہوتا ہے جسے پارلیمنٹ میں جواب دینا پڑتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کو جیل میں ڈال دیا گیا مگر ان کے خلاف کیس نہیں بناپائے ۔ عمران کا دشمن خود عمران خان ہے اگر حکومتی وزراء کا رویہ یہی رہا تو حکومت کا مدت پوری کرنا مشکل ہوگا۔ نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرو یو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے پریس ریلیز دیکھی ہے۔ نیب اگر کوئی تفتیش کرنا چاہتا ہے تو میں حاضر ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خود بھی کام کیے وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں ہم نے بڑی محنت سے کام کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے قانون میں 90دن ریمانڈ کی پرویژن ہے جس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کو 90دن ریمانڈ پر رکھا جائے گا ۔ ریمانڈ کا مقصد تفتیش ہے جو بغیر ریمانڈ کے بھی ہوسکتی ہے ۔ شہباز شریف کے ریمانڈ میں ان سے کچھ بھی نہیں پوچھا گیا ۔ نیب کا قانون اندھا او رکالا ہے جو ایک آمر نے بنایا تھا اب یا تو نیب ختم کیا جائے یا پھر اس قانون میں ترمیم کیلئے اتفاق رائے پیدا کیا جائے ۔ انہوں کہا کہ نیب کا قانون مسلم لیگ ن کو توڑنے کیلئے پہلے استعمال ہوا پھر پیپلز پارٹی کو توڑا گیا اور آج بھی مسلم لیگ ن کے خلاف استعمال ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم احتساب کو ویلکم کرتے ہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چےئرمین شہباز شریف کا تھا ان کا کہنا تھا کہ مڈٹرم انتخابات کی بات وزیر اعظم نے خود کی تھی عدم اعتماد کا قانون موجودہے مگر حکومت کے پاس وسائل ہوتے ہیں پاکستان میں عدم اعتماد کی تحریک مشکل کام ہے تاہم عوام عدم اعتماد کرتی ہے شائد ابھی اعتماد کا ماحول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کے عوام کا نوکر ہے جب پارلیمنٹ بلاتی ہے تو وزیر کو پیش ہونا پڑتا ہے ۔

شاہد خاقان

مزید : صفحہ آخر