قائمہ کمیٹی خزانہ ،بینکوں میں ٹریڈ یونینز پر پابندی کے قانون میں ترمیم منظور

قائمہ کمیٹی خزانہ ،بینکوں میں ٹریڈ یونینز پر پابندی کے قانون میں ترمیم منظور

اسلام آباد(آ ئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بینکوں میں ٹریڈ یونینز پر پابندی کے قانون میں ترمیم متفقہ طور پر منظور کر لی،ڈ پٹی گورنر سٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ بینکوں میں ٹریڈ یونینز پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی،بینکوں میں یونین کی آڑ لیکر اسلحہ لے جانے پر پابندی ہے،بینک ملازمین پر پابندی عائد ہے کہ ڈیوٹی تائم پر ٹریڈ یونین کے اجلاس نہیں کیے جا سکتے،ٹریڈ یونینز کو قانون کے دائرے میں لانے کیلئے شق27B متعارف کرائی گئی،1997ء میں قانون بنانے سے قبل ٹریڈ یونین کا غلط استعمال کیا جاتا تھا، سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ بینکوں میں ٹریڈ یونینز پر پابندی آئین کے آرٹیکل17کیخلاف ورزی ہے، بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962ء کے قانون سے شق27Bکو ختم کیا جائے۔قانون کا مقصد بینک مالکان کی ملازمین پر اجارہ داری قائم کرنا ہے،جسٹس شفیع الرحمن کمیشن نے بھی اس قانون کو ختم کرنے کی سفارش کی تھی،کمیٹی اجلاس میں زچگی کے دوران خواتین کے تحفظ کے بل پر بھی بحث کی گئی۔بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹرفاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر رضا ربانی، سینیٹر شیری رحمٰن، سینیٹر عتیق شیخ،سینیٹر امام الدین شوقین، سینیٹر قرۃ العین مری، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ، ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک، اور وزارت خزانہ کے حکام نے شرکت کی۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹر میاں رضا ربانی نے بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962میں ترمیم کا بل پیش کیا۔سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 کے قانون سے شق27Bکو ختم کیا جائے۔یہ آئین کے آرٹیکل17کی خلاف ورزی ہے۔ آرٹیکل 17کے تحت کوئی بھی شخص پارٹی یا ٹریڈ یونین بنا سکتا ہے۔یہ قانون بین الاقوامی ادارے آئی ایل او کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس شفیع الرحمان کمیشن نے بھی اس قانون کو ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔اس قانون کے تحت بینکوں میں ٹریڈ یونین پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ بینکوں میں ٹریڈ یونین پر پابندیاں ختم کی جائیں۔

مزید : رائے /کالم