2019ء خوشحالی کا سال ۔۔۔کہ خوشی سے مرنہ جاتے!

2019ء خوشحالی کا سال ۔۔۔کہ خوشی سے مرنہ جاتے!
 2019ء خوشحالی کا سال ۔۔۔کہ خوشی سے مرنہ جاتے!

  

خوشحالی کے خواب دیکھتے عوام کو اکہتر برس بیت گئے ہیں ،مگر اس خواب کی تعبیر ملنی تھی نہ اب تک ملی ہے۔ ایسے زخم خوردہ عوام کو جب وزیر اعظم عمران خان اپنے ٹویٹ میں یہ نوید سناتے ہیں کہ 2019ء خوشحالی کا سال ہے تو ان کے دل سے اک ہوک سی اٹھتی ہے ۔کئی تو ’’خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا ‘‘کے خمار میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور کوئی نئی امید باندھ لیتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خوشحالی کے حوالے سے سانپ اور سیڑھی کا کھیل جاری ہے، ابھی دو قدم اوپر جاتے نہیں کہ چار قدم نیچے آنا پڑتا ہے، جن لوگوں نے پیسہ پیسہ کر کے کچھ روپیہ جوڑا تھا۔ ڈالر میں اضافے نے ان کی بچت کو آدھا کر دیا ہے، جو نچلے طبقے سے سفید پوش طبقے میں داخل ہوئے تھے۔ انہیں پھر غربت کی لکیر سے ذرا اوپر والے طبقے میں پناہ ڈھونڈنی پڑی ہے۔

یہ ملک بہت بڑا ہے یا اس کے وسائل بہت کم ہیں، آبادی بہت زیادہ ہے یا حکمران نا اہل ہیں، کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ 22 کروڑ آبادی میں سے اگر دس فیصد خوشحال ہو چکے ہیں تو اس پر فخر کی بجائے شرمندگی محسوس ہونی چاہئے، 90 فیصد لوگوں کی زندگی میں اگر سکھ چین نہیں تو یہ ریاست کے لئے لمحۂ فکریہ ہونا چاہئے۔ مدینے کی ریاست بنانے کا خواب بہت اچھا ہے ،لیکن موجودہ حالات میں تو ایک عام انسانی ریاست بھی روبہ عمل دکھائی نہیں دیتی۔

اللہ کرے موجودہ سال خوشحالی کا سال ہو، کوئی معجزہ ہو جائے، آسمان سے زرو جواہر برسنے لگیں، دودھ نہروں میں بہے اور سمندر خوشحالی کے دریا بہا دے، مگر یہ ہوگا کیسے؟ پہلے بھی کپتان نے بہت اونچے خواب دکھائے تھے اور آج تک ان کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری اور بیرون ملک سے ڈالروں کی برسات ہونے کے دعوے عوام کو ابھی تک یاد آتے ہیں، مگر حالات نے تو ایک اور ہی کہانی سنائی، ڈالروں کے لئے ملک ملک جا کر بھیک مانگنا پڑی اور ملک میں موجود ڈالروں کو پر لگ گئے۔ اگر تو عمران خان اس امید پر خوشحالی کا دعویٰ کر رہے ہیں کہ ملک سے منی لانڈرنگ رک جائے گی، کرپشن ختم ہو جائے گی، پاکستان میں پیسہ وافر بچے گا،جس سے خوشحالی لانے میں مدد ملے گی تو یہ سب بھی خواب کے زمرے ہی میں شمار کیا جائے گا۔

وزیر اعظم اسی عطار کے لونڈے سے امید لگائے بیٹھے ہیں جو سارے فساد کی جڑ ہے۔ یعنی وہی ایف بی آر اور وہی اسٹیٹ بینک، جن کا گورکھ دھندہ آج تک کسی کو سمجھ آیا اور نہ آنا ہے۔ حکومت خوف کا شکار ہے اور کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا رہی۔ وزیر خزانہ اسد عمر خود کہہ چکے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا عمل شروع نہیں کر سکے، کیونکہ اس سے بے چینی پھیلے گی۔ غالباً یہ پٹی بھی انہیں ایف بی �آر کے شہ دماغوں ہی نے پڑھائی ہے۔

آپ نے ٹیکس کا حجم 3700 ارب روپے سے 4200 ارب روپے تو کر دیا ہے، مگر ٹیکس دہندگان کی تعداد نہیں بڑھائی، گویا آپ انہی پر چھری چلائیں گے جو بے چارے پہلے ہی ذبح ہوتے آئے ہیں۔ آخر موجودہ حکومت اپنے ایجنڈے پر عمل کیوں نہیں کرپا ر ہی، کمزوری کیوں دکھا رہی ہے؟ ٹیکس اصلاحات کئے بغیر ٹیکسوں سے آمدن کیسے بڑھائی جا سکتی ہے اور ایف بی آر میں اربوں روپے کی کرپشن کیسے ختم کی جا سکتی ہے؟۔۔۔ ٹیکسوں کا پیچیدہ نظام کیوں رکھا گیا ہے، اسے سادہ اور سہل کیوں نہیں بنایا جا رہا۔ ظاہر ہے کرپشن کرنے والے اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ایف بی آر کے ریجنل دفاتر میں دکانیں کھلی ہوئی ہیں جہاں ٹیکس بچانے کے سودے ہوتے ہیں، حکومتی خزانے میں اگر ایک روپیہ جمع ہوتا ہے تو دس روپے کرپٹ نظام کے پروردہ اہلکاروں کی جیب میں جاتے ہیں۔

جب تک عام آدمی کے وسائل نہیں بڑھیں گے، خوشحالی کیسے آئے گی؟ مہنگائی دس گنا بڑھے اور آمدنی میں صرف دس فیصد سالانہ اضافہ ہو تو بد حالی زیادہ ہو گی یا خوشحالی؟۔۔۔ مزدور طبقے کی کم از کم اُجرت 15 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے والے اگر سمجھتے ہیں کہ ملک کو خوشحال ہونے میں دیر نہیں لگے گی تو ان کی عقل پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ عمران خان نے ایک کروڑ ملازمتیں اور پچاس لاکھ گھر دینے کا وعدہ کر کے یہ باور کرایا تھا کہ وہ کس طرح ملک میں خوشحالی لائیں گے، مگر اس سمت میں تو ابھی ایک قدم بھی نہیں اٹھایا گیا، البتہ بعض اضلاع میں گھروں کے لئے درخواستیں وصول کر لی گئی ہیں، جسے اشک شوئی کہا جا سکتا ہے۔

ایک کروڑ ملازمتیں دینے والی بات تو اب ایک لطیفہ لگنے لگی ہے۔ ابھی کل ہی ریلوے کے وزیر شیخ رشید کہہ رہے تھے کہ اڑھائی ہزار آسامیوں کے لئے دس لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں تو یہ دس لاکھ بے روز گار کس طرح خوشحالی کا منہ دیکھیں گے، جنہیں پانچویں سکیل کی ملازمت بھی نہیں مل رہی؟ خوشحالی کوئی راتوں رات اگ آنے والی جڑی بوٹی نہیں ہے، اس کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ کہنے کو تو 48 برس پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے بھی خوشحالی کا نعرہ لگا دیا تھا۔ روٹی، کپڑا اور مکان دینے کا وعدہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ اس وقت آبادی بھی آج کی نسبت نصف تھی، مگر ان کا مسئلہ بھی یہی تھا کہ بغیر ہوم ورک کے نعرہ لگا بیٹھے تھے، جب زمینی حقائق کو دیکھا تو چاروں شانے چت ہو گئے اور صرف ڈپوؤں سے راشن تقسیم کرنے کی سکیم ہی دے سکے۔

کپتان نے تو ذوالفقار علی بھٹو سے بھی بڑا نعرہ لگایا۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنے دور میں پانچ لاکھ نوکریاں اور پچاس ہزار گھر بھی بنا دیتے تو ان کا روٹی، کپڑا اور مکان والا وعدہ پورا ہو جاتا، کپتان نے تو بڑا اونچا چھکا لگایا ہے۔ پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں، یقیناً اب ذوالفقار علی بھٹو کی روح آسودہ ہو گی کہ اس کے سر جو الزام چلا آ رہا تھا، وہ عمران خان کے سر چڑھ گیا ہے۔ لوگ ان کے وعدے کو تقریباً بھول چکے ہیں، اب کپتان کے دعوے کو یاد رکھنے کا دور ہے۔ عمران خان کے لئے چیلنج تو کچھ اور ہیں، مگر پارٹی کے اندر شاید ایسے کاریگر موجود ہیں ،جو انہیں ادھر ادھر کے فضول کاموں میں الجھا دیتے ہیں۔

مثلاً یہ سندھ کے پیچھے پڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ سندھ میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس کا الزام تحریک انصاف پر تو ہرگز نہیں آنا، کیونکہ گڈ گورننس تو صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ،پی ٹی آئی کو تو پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی فکر کرنی چاہئے۔ وہاں اچھی گورننس آئے گی تو سندھ حکومت پر بھی دباؤ بڑھے گا۔ اپنے ٹارگٹ کو چھوڑ کر لایعنی باتوں میں الجھنا کوئی دانشمندانہ کام نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نے ایک سادہ حکمرانی کی داغ بیل ڈالی ہے، حکومتی اخراجات میں کمی آئی ہے، یہ بھی درست ہے کہ اب سرکاری فنڈز کی خردبرد یا لوٹ مار کوئی آسان کام نہیں، بچت کلچر کو بھی ہر سطح پر پروان چڑھانے کی کوششیں جاری ہیں، مگر یہ سب کچھ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔

ملک کا خسارہ اگر کم کرنا ہے تو ٹیکس نیٹ کو بڑھانا پڑے گا۔ سیلز ٹیکس جیسے بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے معیشت نہیں چل سکتی۔ براہ راست ٹیکسوں کا حجم بڑھانے کی اشد ضرورت ہے، اس کے لئے نئے ٹیکس گزار پیدا کرنا ہوں گے۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں، صرف سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ڈور کا سرا کہیں سے بھی پکڑ لیا جائے تو منزل تک پہنچنا ممکن ہو جائے گا۔ حیرت ہوتی ہے کہ ایف بی آر کو نئے ٹیکس گزار نہیں ملتے۔ کسی بھی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی کے تمام رہائشیوں سے پوچھ لیا جائے کہ ان میں کتنے ٹیکس گزار ہیں تو سینکڑوں ایسے مالدار نکلیں گے جو سرے سے ٹیکس ہی نہیں دیتے۔

انہیں نوٹس دے کر رجسٹرڈ کرنا کون سال مشکل کام ہے۔ اسی طرح بڑے شہروں کے پوش شاپنگ سنٹرز میں دکانداروں کو چیک کیا جائے تو 75 فیصد ٹیکس نیٹ سے باہر ملیں گے۔ اندھے کو بھی معلوم ہے کہ ایسے علاقوں میں ایک عام دکاندار کی بھی روزانہ آمدنی لاکھوں میں ہوتی ہے۔ اگر تاجروں سے ڈرنا ہے اور تنخواہ دار ملازمین پر ظلم کرنا ہے تو پھر خوشحالی کے خواب دیکھنا اور دکھانا چھوڑ دیں۔ پاکستان میں کون سا ایسا طبقہ ہے جو خوشی سے ٹیکس دینا چاہتا ہے۔ سب مجبوراً دیتے ہیں تو پھر بڑے تاجروں کو کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے؟ کیا انہیں شامل کئے بغیر حکومت کی آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے؟

عمران خان تو اپنی انتخابی مہم میں کہتے تھے کہ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سو فیصد اضافہ کریں گے۔ یہ کرشمہ کیسے ہوگا، جب آپ مصلحت اور خوف کے ساتھ فیصلے کریں گے۔ 2019ء خوشحالی کا سال ضرور ہو سکتا ہے، مگر اس کے لئے کچھ کڑے اور تگڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔ جس طرح قومی دولت لوٹنے والوں کے خلاف نیب سر گرم ہے، اسی طرح ایف بی آر بھی ٹیکس چوروں کے خلاف کمر کس لے۔ ایسا صرف حکومتی حمایت سے ہو سکتا ہے اور کپتان میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ یہ بڑا کام کر جائیں۔

مزید : رائے /کالم