وزیراعظم کا دورۂ ترکی!

وزیراعظم کا دورۂ ترکی!
 وزیراعظم کا دورۂ ترکی!

  

وزیراعظم پاکستان آج ترکی کے دو روزہ سرکاری دورے پر انقرہ روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ عمران خان کا ترکی کا پہلا سرکاری دورہ ہو گا جو صدر طیب اردگان (یا اردوان) کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔ اس دورے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار اور تجارتی امور میں وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد ان کے ہمراہ ہوں گے۔ اس قسم کے سرکاری دوروں کی اطلاع وزارتِ خارجہ کی طرف سے دورے سے ایک دو روز پہلے دی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ کون کون سے لوگ وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جو وزیر اور مشیر، وزیراعظم کے ساتھ جاتے ہیں، ان کی شمولیت سے میڈیا یہ اخذ کر لیتا ہے کہ کون کون سے امور دورانِ وزٹ دونوں فریقوں کے درمیان زیر بحث آئیں گے۔ اب چونکہ ہمارے تین وزراء عمران خان کے ہمراہ جا رہے ہیں اس لئے جن دو طرفہ امور و معاملات پر بحث ہو گی ان میں خارجہ امور، پلاننگ اور کامرس پر فوکس رہے گا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی مسائل پر بات چیت نہیں ہو سکتی۔ دراصل باہمی دلچسپی کے کسی بھی پہلو پر بات کرنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوتی۔ لیکن چونکہ وقت کم ہوتا ہے اس لئے ایجنڈا بھی محدود ہوتا ہے۔ وگرنہ تو اِن دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان ایسے بے شمار پہلو ہیں جو باہمی مفادات کے زمرے میں آتے ہیں۔ان پر گفتگو اور بحث و مباحثہ کرنے کے لئے وقت چاہیے اور چونکہ یہ دورہ صرف ایک شب پر مشمل ہے اس لئے شیڈول بڑا محدود (Tight) رکھا گیا ہو گا!

وزارتِ خارجہ کے فرائض میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ ان امور کی نشاندہی کرتی ہے جو بالخصوص کسی دورے میں زیر بحث لائے جاتے ہیں۔ یعنی دونوں ممالک کی وزارتیں اچھی طرح آگاہ ہوتی ہیں کہ کن کن مسائل پر بات کرنی ہے۔ ویسے یہ مسائل بالکل نئے بھی نہیں ہوتے۔ ان پر پہلے بھی تفصیلی بات چیت ہو چکی ہوتی ہے اور ایسے امور جو مزید توجہ طلب ہوتے ہیں یا مزید تفصیلات کے متقاضی ہوتے ہیں وہ زیرِ التوا (Pending) رکھ دیئے جاتے ہیں اور کسی اگلے دورے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ جہاں تک موجودہ وزٹ کا تعلق ہے تو اس میں تجارتی، سفارتی، خارجہ اور منصوبہ بندی کے امور زیر بحث لائے جانے کی توقع ہے۔

اجلاس جب شروع ہوتا ہے تو پہلے سلیک علیک ہوتی ہے، طرفین ایک دوسرے کو خوش آمدید کہتے ہیں اور گزشتہ خوشگوار ماحول میں ہونے والی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ بات چیت کا آغاز دونوں ممالک کے وفود کے سربراہوں سے ہوتا ہے۔ اس دو روزہ دورے میں بھی پاکستان کی طرف سے عمران خان اور ترکی کی طرف سے طیب اردگان گفتگو کا آغاز کریں گے۔ ان دونوں سربراہوں کو متعلقہ محکمہ کے وزیر / مشیر/ بیورو کریٹ پہلے ہی بریفنگ دے چکے ہوتے ہیں۔ دونوں کو معلوم ہوتا ہے کہ کس سوال کا کیا جواب دینا ہے۔ بالعموم یہ ہوتا ہے کہ دونوں سربراہ اپنے سامنے ایک پرچی (Chit) کھول کر رکھ لیتے ہیں جس پر نمبروار اور شق وار نکاتِ گفتگو (Talking Points) تحریر ہوتے ہیں۔ باری باری دونوں فریق اپنا اپنا نقطہ ء نظر پیش کرتے ہیں۔ جن امور پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے ان کو الگ رکھ لیا جاتا ہے۔

بالعموم متعلقہ محکمے کے سیکرٹری یا سینئر بیورو کریٹ بھی بیٹھے ہوتے ہیں جن کا کام نوٹس (Notes)لینا ہوتا ہے۔ وہ ایک ایک پوائنٹ کی تفصیل نوٹ کرتے ہیں اور یوں متفق علیہ امور کی ایک الگ فہرست بن جاتی ہے۔۔۔ اب تو یہ مسائل اور بھی آسان ہو گئے ہیں۔ طرفین کی طرف سے کی گئی گفتگو ریکارڈ کر لی جاتی ہے اور بعد میں اس کو ریوائنڈ کرکے یقین کر لیا جاتا ہے کہ کس نکتے اور کس مسئلے کا کیا حل نکالا اور کیا حتمی فیصلہ کیا گیا تھا۔ ملاقات کے اختتام پر میڈیا کے سامنے آکر دونوں VIPsدوبارہ وہی کچھ اُگل دیتے ہیں جو کانفرنس میں بالتفصیل طے کر لیا گیا ہوتا ہے۔

مجھے احساس ہے کہ اکثر قارئین کو اس پراسس کا پتہ ہو گا لیکن بعض ایسے حضرات بھی ہو سکتے ہیں جو شائد اس SOP سے آگاہ نہ ہوں یا ہوں بھی تو کم کم ہوں۔ اس لئے میں نے ذرا تفصیل سے اس کی وضاحت کر دی ہے۔

اس دورے میں وزیراعظم پاکستان اور ترکی کے صدر نہ صرف عالمی بلکہ علاقائی سیاسی امور پر بھی ایک دوسرے کا نقطہ ء نظر معلوم کریں گے اور باہمی تعلقات پر بھی کھل کر بات ہو گی۔ اس دورے کا ایک بڑا مقصد ترکی کے ایوانِ تجارت کے سربراہوں اور ترک تاجروں کو پاکستان کی موجودہ تجارتی صورتِ حال سے آگاہ کرنا ہے۔ ترکی کی آبادی 8کروڑ ہے لیکن اس کی فی کس سالانہ آمدنی ،پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ (میں قارئین کو اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں میں الجھانا نہیں چاہتا۔)

وزیراعظم ترک سرمایہ کاروں کے کئی وفود سے ملاقاتیں کریں گے اور ان کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیں گے۔۔۔ وزیراعظم جس ملک میں بھی جاتے ہیں یہی کام کرتے ہیں۔ بعض ناقدین شائد یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جس طرح سعودی عرب ،چین، ملائیشیا اور عرب امارات میں جا کر وہاں کشکولِ قرض پھیلاتے رہے ہیں اسی طرح شائد ترکی میں بھی جا کر ایسا ہی کریں گے۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ اس دورے میں ان کے ہمراہ اسد عمر یا وزارتِ خزانہ کا کوئی بھی آفیسر نہیں۔ اگر ہوتا تو کشکول کا الزام لگانے والے بڑھ چڑھ کر بولتے کہ دیکھیں اب وزیراعظم انقرہ جا کر بھی مانگنے کی عادت سے باز نہیں آئے۔

ترکی اور پاکستان کے باہمی روابط کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس کا آغاز فیلڈ مارشل ایوب کے زمانے میں ہوا تھا۔ اس تعاون کے ڈانڈے سول اور فوجی تعلقات سے بھی ملے ہوئے ہیں۔ پاکستان ابھی معرضِ وجود میں بھی نہیں آیا تھا کہ مسلمانانِ برصغیر کی ترکوں سے محبت کی ایک تاریخ موجود تھی جس سے قارئین بخوبی واقف ہیں۔ پھر RCD ہائی وے اور 1965ء کی پاک بھارت جنگ سے بات شروع کریں تو موجودہ دور تک آ جاتی ہے۔ سابق حکومت میں بھی ترکی کے ساتھ ہمارے تعلقات مذہب، ثقافت، تجارت، سیاست، دفاع اور اقتصادیات سے جڑے ہوئے تھے۔ مجھے یاد ہے کئی برس پہلے جب میں لاہور میں آیا تو سڑکوں پر ’مشینی جھاڑو‘ کو گڑگڑاتے دیکھا جو آج بھی آپ کو لاہور کی بڑی بڑی سڑکوں کی صفائی کرتے نظر آتے ہیں۔

اس وقت جب مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ یہ صفائی مشین ترکی سے درآمد کی گئی ہے تو میرا تبصرہ یہ تھا کہ اسے پاکستان میں مینوفیکچر ہونا چاہیے۔ پھر آہستہ آہستہ ترکی سے بہت سی اقسام کی مشینری بھی آنے لگی۔ اگر 1990ء کے عشرے میں چین کا تجارتی فلڈ گیٹ ایک دھماکے سے نہ کھلتا تو آج ترکی ہمارا سب سے بڑا ٹریڈ پارٹنر ہوتا۔ اس کے بعد لاہور کی بڑی بڑی شاہراہوں پر آج بھی ترکی سے امپورٹ کیا ہوا بسوں کا ایک بڑا بیڑا رواں رواں نظر آتا ہے۔ ہر بس کی عقبی سکرین پر گزشتہ صوبائی حکومت میں ’خادمِ اعلیٰ‘ کی تصویر ایک مدت تک راہگیروں کو ’دعوتِ نظارا‘ دیتی رہی۔ یہ تو پاکستان تحریک انصاف نے آکر ایسا طوفان اٹھایا کہ ’’جدھر گیاں کشتیاں، اودھر گئے ملاح‘‘ والی پنجابی ضرب المثل مجسم ہو کر ایک نئے پاکستان کی بنیاد بن گئی۔

نوازشریف اور شہبازشریف دورمیں ترک، پاکستان روابط کو جو عروج ملا وہ شائد پھر کبھی نہ مل سکے۔ کہاجاتا ہے کہ میاں شہبازشریف ترکی میں بڑی فصیح و بلیغ تقریر کر لیتے ہیں اور یہ محاورہ کہ ’’زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم‘‘ ۔۔۔’’دورِ شرفا‘‘ میں غلط ثابت ہو گیا تھا۔لیکن ملکوں کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاؤ تو آتے رہتے ہیں۔ ان ایام میں بھی ہمارے عوام کا ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو یہ سمجھتا تھا کہ میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کے دورِ حکومت میں چونکہ ترکی اور پاکستان کے درمیان تجارتی توازن، ترکی کے حق میں رہا اس لئے وزیراعظم عمران خان کی حکومت شائد اس بات کا انتظار کرے گی کہ پہلے یہ توازن برابر ہو جائے تاکہ نئے دور کا آغاز ہو سکے۔

لیکن وزیراعظم کے اس دورے نے یہ خدشات دور کر دیئے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ترکی اور پاکستان کے باہمی تعلقات اب ایک نئے دور میں داخل ہو کر نئی شروعات کریں گے۔ ترکی کو پاکستان کی طرف سے جو برآمدات جاتی ہیں ان میں کپاس ، کپڑا، پارچات اور اس قسم کا خام مال سرفہرست ہے جبکہ ترکی کی طرف سے ملنے والی درآمدات Value Added ہوتی ہیں اور زیادہ تر مشینی آلات پر مشتمل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارتی توازن ہمیشہ ترکی کے حق میں رہا ہے۔

میرا خیال ہے اس دورے میں اسی موضوع پر کھل کر بات ہو گی۔ ویسے بھی بین الاقوامی سطح پر ایک ’عالمِ نو‘ تشکیل پا رہا ہے۔ روس اور ترکی کے تعلقات تب سے ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں جب سے پوٹن نے اردگان کو امریکہ کی طرف سے پلان کئے گئے ’’ملٹری کُو‘‘ سے بچایا تھا۔۔۔۔ حال ہی میں ہمارے وزیرخارجہ کا افغانستان، ایران، چین اور روس کا دورہ۔۔۔ افغانستان سے 7ہزار امریکی ٹروپس کی واپسی کا وہ اعلان جو کچھ دنوں پہلے صدر ٹرمپ نے کیا ہے۔۔۔ طالبان کی طرف سے یہ اصرار کہ وہ کسی بھی سمجھوتے پر اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک ایک بھی امریکی افغانستان میں موجود ہے، ایسے انقلابی شواہد ہیں جو اس خطے میں اُس ’عالمِ نو‘ کی تشکیل کر رہے ہیں جس کا حوالہ میں نے سطورِ بالا میں دیا ہے۔

ترکی ابھی تک ناٹو کا ممبر ہے ،اس کے مغرب میں امریکہ نے جو سٹرٹیجک اہمیت کا فضائی مستقر (انسرلک) بنایا ہوا ہے وہ بھی قابلِ غور ہے، شام سے امریکی ٹروپس کا انخلاء اور شام اور ترکی کی سرحدوں پر کردوں کے خلاف ترک فوج کا اجتماع، ایسے موضوعات ہیں جن پر شائد کوئی تفصیلی بات چیت عمران خان کی اس وزٹ کا ایجنڈا نہ ہو لیکن بعض باتیں تحریری ایجنڈے کے علاوہ زبانی ایجنڈے کا حصہ بھی تو ہوتی ہیں۔ہمیں انتظار رہے گا کہ کل جب اس دورے کا اختتام ہو گا تو کن موضوعات کا حتمی اعلان کیا جائے گا۔وزیر پلاننگ، جناب خسرو بختیار کا اس دورے میں وزیراعظم کے ہمراہ جانا میرے لئے ایک معمہ ہے جس کی گرہ کل ہی مشترکہ اعلامیے کے بعد کھل سکے گی۔۔۔ ممکن ہے کوئی ایسا منصوبہ منصہ ء شہود پر آئے جو بالکل ایک نئی اور الگ نوعیت کا ہو!

مزید : رائے /کالم