وفاقی کابینہ :172 افراد کے نام ای سی ایل سے نہ نکالنے، معاملہ جائزہ کمیٹی کو بھیجنے کا فیصلہ

وفاقی کابینہ :172 افراد کے نام ای سی ایل سے نہ نکالنے، معاملہ جائزہ کمیٹی کو ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی حکومت نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیے گئے 172 افراد کے نام فوری طور پر فہرست سے نہ نکالنے اور انہیں جائزہ کمیٹی کوبھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صد ارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں حکومت نے فوری طور پر 172 افراد کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ای سی ایل میں شامل ہر شخص کا الگ جائزہ لیا جائے گا اور جائزہ مکمل ہونے پر کچھ ناموں کو ای سی ایل سے نکالا جا سکے گا ۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور قانونی ماہرین کی جانب سے وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔ وفاقی کابینہ نے تیل کی تلاش کیلئے پاکستان آنے والی کمپنیوں کوٹیکس چھوٹ سمیت دیگر مراعات دینے کا فیصلہ کیا ۔ اجلاس مزید بھی کئی اہم فیصلے کیے گئے جن میں آف شور ایکسپلوریشن کمپنیز کو کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی چھوٹ دینے کی منظوری دی گئی جبکہ فیصلہ کیا گیا کہ کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس ڈیوٹی سہولت تمام آف شور ایکسپلوریشن کمپنی پر لاگو ہو گی۔وفاقی کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا ایگزون موبل اور ای این آئی لمیٹڈ کیکرا 1 میں الٹرا ڈیپ ویل ڈرلنگ کیلئے تیار ہے، ڈرلنگ آپریشن رواں ماہ شروع ہو جائے گا جس کیلئے تمام آلات پہنچ گئے ہیں۔کابینہ کو مزید بتایا گیا آ لات میں 3 پلیٹ فارم، سپلائی ویسل، دو ہیلی کاپٹر اور ایک ڈرل شپ شامل ہیں، تمام آلات کی درآمد اور برآمد پر کوئی کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔اس کے علاوہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے میڈیا بریفنگ میں بتایا وزیراعظم نے سبزیوں اور روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر ہر ہفتہ رپورٹ مانگی ہے۔ فواد چوہدری نے کہا جائزہ کمیٹی 172 افراد سے متعلق سفارشات دے گی جن پر کابینہ اپنے آئندہ اجلاس میں زیرغور کرے گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین ججزکے اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عوامی فلاح وبہبود کے مالیاتی اداروں پر مشتمل غربت کے خاتمے کی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے ، کابینہ نے تیل کی تلاش کیلئے آلات پر کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ حکومت چاہتی ہے کہ غیر ملکی کمپنیاں تیل اور گیس کی تلاش کیلئے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔ حویلی بہادر شاہ، ماڑی پٹرولیم، لاکھڑا کول مائن، سروسز انٹرنیشنل ہوٹل اور کے الیکٹرک کی نجکاری کا فیصلہ ہوا ہے۔ جبکہ کراچی کے لوگوں کی محرومیوں کو دور کرنے کیلئے وفاق کردار ادا کرے گا، وفاق کراچی میں ترقی کیلئے اومنی گروپ پر بھروسا نہیں کرسکتا، 2 ہزار ارب روپے جو سندھ کے عوام پر لگنے تھے وہ دبئی اور لندن میں خرچ ہوئے۔وفاقی حکومت نے گورنر سندھ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی ہے جس کی نگرانی میں وفاق کا پیسا کراچی سمیت سندھ بھر میں خرچ ہوگا۔ دو ہزار ارب روپے محلات خریدنے اور پرائیوٹ جہازوں کے کرایوں پر خرچ ہوئے، آج وہ لوگ تحریک چلانے کی باتیں کررہے ہیں جو کمرشل فلائٹ پر لاہور سے کراچی نہیں آتے۔ پیپلزپارٹی اپنے کیسز پر توجہ دے، دھمکیاں نہ دے، حکومت کیخلاف تحریک چلانے کی بات کرتے ہیں لیکن تحریک نظریے پر چلتی ہے، جن کو نرم بستر پر نیند نہیں آتی ان کو جیل کی چٹائیوں پر کہاں نیند آئے گی، پیپلزپارٹی کے چار پانچ لوگوں کو نہیں پتا کہ کیا ہوا باقی سندھ کے بچے بچے کو پتا ہے پیسا کہاں خرچ ہوا۔ کسی کی بد دعائیں ان کو لے ڈوبی ہیں۔ اگر مراد علی شاہ کو پیسے دیں گے تو وہ لندن اور دبئی سے برآمد ہوں گے، سپریم کورٹ کے احکامات پر فہرست ای سی ایل نظر ثانی کمیٹی کو بھجوانے کا فیصلہ ہوا، کمیٹی کی سفارشات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں بد ترین مثال اسحاق ڈار کی ہے جسے سابق وزیراعظم نے فرار کرایا اور وہ آج تک واپس نہیں آئے۔عدالت کو اسحاق ڈار کو فرار کرانے پر شاہد خاقان عباسی کو نوٹس دینا چاہیے تھا۔یاد رہے سپریم کورٹ نے 31 دسمبر جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔چیف جسٹس پاکستان نے وزیرمملکت برائے داخلہ کو ہدایت کی تھی کہ ای سی ایل میں ڈالے گئے ناموں پر نظرثانی کی جائے۔

وفاقی کابینہ

مزید : صفحہ اول