چوکوں چھکوں کی جارحانہ بیٹنگ اچانک ٹپ ٹپ پر آکر کیوں رک گئی؟

چوکوں چھکوں کی جارحانہ بیٹنگ اچانک ٹپ ٹپ پر آکر کیوں رک گئی؟
چوکوں چھکوں کی جارحانہ بیٹنگ اچانک ٹپ ٹپ پر آکر کیوں رک گئی؟

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

جو میچ چوکوں چھکوں کی دھواں دھار جارحانہ بیٹنگ سے شروع ہوا تھا، وہ اب ٹپ ٹپ پر آگیا ہے۔ کئی ’’ڈھول‘‘ تو سرے سے خاموش ہوگئے ہیں، جو اب بھی بج رہے ہیں، ان کی آواز بہت مدھم ہوچکی ہے۔ کجا یہ جارحیت کہ سندھ حکومت چند دن کی مہمان ہے اور یہ حکم نما مطالبہ کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ ’’پیر تک‘‘ مستعفی ہو جائیں ورنہ انہیں ہٹا دیا جائے گا اور کجا یہ لجاجت آمیز بیان کہ انہیں اخلاقاً مستعفی ہو جانا چاہئے۔ اب جارحانہ کھیل کی باری پیپلز پارٹی کی ہے جس نے جوابی حملہ شروع کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ محمود خان (وزیراعلیٰ کے پی کے) استعفا دے کر بسم اللہ کریں پھر مراد علی شاہ سے استعفے کا مطالبہ کریں۔ اس بات کا جواب بھی خوب دیا گیا کہ بلاول کا ابا حکومت نہیں گرا سکتا تو بلاول کیسے گرا لے گا۔ بیت بازی کے اس مقابلے میں حتمی جیت کس کی ہوگی، یہ تو ابھی نہیں کہا جاسکتا لیکن لگتا ہے 31 دسمبر سے پہلے جن گرفتاریوں کی پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں، اس کی کوئی نئی تاریخ دینے کے لئے جوتشیوں نے سر جوڑا ہوا ہے اور جن کی پیش گوئیاں غلط ثابت ہوچکیں اور جن کی زبانیں کترنی کی طرح چل رہی تھیں، انہیں اب لونی لگ گئی ہے۔ اس تجزیہ نگار کا خیال ہے کہ سیاست میں کوئی چیز بھی حرف آخر نہیں ہوتی نہ حسابی کتابی کلیئے اس کھیل پر لاگو ہوتے ہیں۔ اس میں کمند عین اس وقت ٹوٹ جاتی ہے جب دو چار ہاتھ لب بام رہ جاتا ہے۔ کسی کو اس میں شک ہو تو سندھ کے ممتاز سیاستدان الٰہی بخش سومرو سے پوچھ لے جنہیں 85ء کے انتخابات کے بعد منتخب ہونے والی غیر جماعتی اسمبلی کا قائد ایوان (وزیراعظم) نامزد کیا گیا تھا۔ انہیں پیغام پہنچایا گیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو وزیراعظم سمجھیں انہیں مبارک بادیں بھی ملنا شروع ہوگئی تھیں، لیکن اگلی صبح جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو بدلا ہوا زمانہ تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے محمد خان جونیجو کو وزیراعظم نامزد کر دیا تھا۔ راجہ محمد ظفرالحق اس ساری کہانی کے عینی شاہد ہیں، کوئی جائے اور ان سے تصدیق کرلے۔ یہ بحث طول کھینچ جائے گی کہ الٰہی بخش سومرو کو وزیراعظم نامزد کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے اپنا فیصلہ کیوں بدلا اور جونیجو کو وزیراعظم کیوں بنایا۔ البتہ اس ساری کہانی میں سبق یہ ہے کہ جو فیصلے دوسروں کی نگاہ ناز کے محتاج ہوتے ہیں، ان میں آخری وقت تک ایسے ہی تبدیلی آجاتی ہے، سیاست سے ہٹ کر فوج کی سربراہی کا بھی ایک معاملہ بہت معروف ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ٹکا خان کی ریٹائرمنٹ پر جنرل عبدالمجید ملک کو چیف آف آرمی سٹاف بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور انہیں اس فیصلے سے آگاہ بھی کر دیا تھا، غالباً غلام مصطفیٰ کھر جنرل عبدالمجید ملک کو یہ خبر سنا چکے تھے لیکن پھر یہ فیصلہ بدل گیا اور جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنا دیا گیا، اس فیصلے کے ساتھ ہی پاکستان کی تاریخ فیصلہ کن موڑ مڑ گئی جس کا نتیجہ 1977ء میں نکلا۔ حضرت علیؓ کا فرمان کتنی بڑی ابدی سچائی کو واشگاف کرتا ہے ’’میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کی شکست سے پہچانا‘‘ آدمی سوچتا کچھ اور ہے، ہوتا کچھ اور ہے ’’تدبیر کند بندہ، تقدیر زند خندہ‘‘

تحریک انصاف تو اپنی طرف سے سندھ حکومت تبدیل کرچکی تھی، بس رسمی اعلان باقی تھا، ایک جوشیلے رہنما نے تو کہہ بھی دیا تھا ہم اس وزیراعلیٰ کو پانچ سال برداشت نہیں کرسکتے، ہماری حکومت چند دنوں میں بننے والی ہے۔ اب خفت مٹانے کے لئے کہا جا رہا ہے کہ ہم تو سندھ حکومت بدلنا ہی نہیں چاہتے تھے، ہمارا تو صرف یہ مطالبہ تھا کہ مراد علی شاہ استعفا دیں، اس کا شافی و کافی جواب بھی رضا ربانی نے دے دیا ہے کہ پہلے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا استعفا کیوں نہیں دیتے۔

ابھی چند ماہ کی بات ہے، وزیراعظم عمران خان کو پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی بڑی جلدی تھی، انہوں نے پنجاب کے سینئر وزیر کو کہا کہ اڑتالیس گھنٹے کے اندر اندر پنجاب کے اگلے بلدیاتی انتخابات کا خاکہ انہیں پیش کیا جائے۔ وہ بلدیاتی انتخابات جلدی میں کرانا چاہتے تھے لیکن جب زمینی حقائق نے منہ چڑایا تو چپ سادھ لی۔ معلوم ہوا کہ اگر پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کرائے گئے تو نتیجہ کراچی سے مختلف نہیں ہوگا۔ جہاں دسمبر کے مہینے میں ان تمام حلقوں میں ایم کیو ایم جیت گئی، جہاں سے تحریک انصاف نے قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشستیں جیتی تھیں۔ کراچی کے ان بلدیاتی انتخابات نے ان نشستوں کی کامیابی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا اور فاروق ستار یہ کہتے پائے گئے کہ ہم نے نہیں کہا تھا کہ ہمارا الیکشن اور مینڈیٹ چوری ہوا چند ہی ماہ میں یہ بات درست ثابت ہوچکی ہے۔ اسی وجہ سے اب پنجاب میں نئے بلدیاتی انتخاب کی سرگرمی دم توڑ چکی ہے۔ کچھ ایسا ہی حال اس اعلان کا ہوا جس میں وزیراعظم نے گورنر ہاؤس لاہور کی دیواریں اڑتالیس گھنٹے میں گرانے کا حکم دیا تھا اور اگلے دن بڑے اہتمام سے ایک تصویر جاری کی گئی جس میں دکھایا گیا تھا کہ ایک مزدور دیوار توڑ رہا ہے لیکن پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی جب لاہور ہائیکورٹ نے یہ حکم دیا کہ دیوار کی ایک اینٹ بھی اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ اب سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کو ہر کام ’’اڑتالیس گھنٹے‘‘ میں کرنے کی اتنی جلدی کیوں ہوتی ہے، کیا یہ کوئی مبارک ہندسہ ہے جس کے ان کی زندگی پر طلسماتی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو دیوار ڈیڑھ صدی سے موجود ہے، اسے اڑتالیس گھنٹے میں گرانے کی حکمت تو وہی سمجھ سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے شاہانہ احکامات کیا کسی وزیراعظم کو زیب دیتے ہیں، جس کے بارے میں ان کے حریف کہتے ہیں کہ چند دن میں انہیں حکومت سے فارغ کیا جاسکتا ہے۔

حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

مزید : تجزیہ