میٹروریل سسٹم ۔ ترقی کی جانب گامزن شہر کی ناگزیر ضرورت

میٹروریل سسٹم ۔ ترقی کی جانب گامزن شہر کی ناگزیر ضرورت

کس چیز کی بدولت شہر عظیم بنتا ہے؟ یہ دماغ پر زور ڈالنے والا سوال ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی تحقیق کے مطابق دنیا کی موجودہ 3.6 ارب کی آبادی کے مقابلے میں سال 2030 تک 5 ارب انسان یعنی دنیا کی 60 فیصد آبادی شہروں میں رہائش پذیر ہوگی۔ اس تحقیق میں مستقبل میں نئے کاروباری مواقع اور عالمی سطح پر دنیا کی آبادی میں شہری طرز زندگی اختیار کرنے سے پیدا ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر ترقی پذیر ممالک میں شہری انتظامیہ کے لئے نہایت مشکل چینلجز ہوں گے جہاں لوگوں کی تعداد میں انتہائی تیزرفتاری سے اضافہ ہورہا ہے۔ یوں محدود وسائل کے ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ شہر اپنے کمزور پڑتے انفراسٹرکچر کو اپ ڈیٹ کرنے اور جدت کے ساتھ اس میں بہتری لانے کی بدولت خطے میں اپنی سبقت ترجیحی طور پر برقرار رکھتے ہیں ، اس سے لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری آتی ہے اور نقل و حمل میں آسانی سے مثبت سماجی تبدیلی اور ترقی آتی ہے۔

ترقی پذیر ممالک کے دیگر شہروں کی طرح شہر لاہور بھی بہت زیادہ آبادی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے محدود ذرائع کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے بڑے بحران سے نبرد آزما ہے۔ چھٹی مردم شماری کے مطابق لاہور کی آبادی میں 1998 سے 2017 کے دوران 53.77 فیصد اضافہ ہوا۔ سال 1998 میں لاہور شہر کی آبادی 5 ملین تھی اور سال 2017 میں بڑھ کر 11.13 ملین ہوگئی۔ ایک وقت تھا جب یہ شہر 13 دروازوں تک محدود تھا اور اب 1772 اسکوائر کلومیٹرز کا احاطہ کرتا ہے اور پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی بڑھنے والے شہروں میں سرفہرست ہے۔

جس شہر میں ڈرامائی انداز سے آبادی بڑھتی ہے تو وہ شہر افقی کے بجائے عمودی سمت میں پھیلنے لگتا ہے اور شہر کی ٹرانسپورٹ کی سہولیات پر بھی بہت زیادہ دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ شہر لاہور پبلک ٹرانسپورٹ سے متعلق مسائل سے بری طرح دوچار ہے جس میں آلودگی سے لیکر حادثات، پارکنگ کی محدود گنجائش، ٹریفک جام میں قیمتی وقت کے ضائع ہونے سے لیکر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی تک شامل ہے۔ اس سارے عمل کے دوران لوگوں کو روزانہ گھر یا دفتر پہنچنے کے دوران روزانہ ذہنی دباؤ کا الگ سامنا رہتا ہے۔

دنیا بھر کے مختلف بڑے شہروں میں دور رس منصوبہ ساز اس بات کو سراہتے ہیں کہ شہر کی ترقی کے سفر میں موثر شہری پبلک ٹرانسپورٹیشن نظام بروقت اور بہترین کارکردگی کا حامل ہو۔ میٹرو ریل ٹرانزٹ سسٹم شہر کی ترقی بڑھانے اور دیگر شہروں سے سبقت بڑھانے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ ایسے سسٹم خاص طور پر بڑے شہروں میں معاشی ترقی کے لئے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ ہزاروں لوگوں کو روزانہ سفر کی بہترین سہولت فراہم کرنے سے نہ صرف وقت کی بچت اور سفر پر آنے والی لاگت میں کمی آتی ہے بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ میں بھی کمی آتی ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی بھی کم پیدا ہوتی ہے۔ درحقیقت میٹرو ریل کسی بھی شہر کے لئے اہم اثاثہ ہے۔

میٹروریل سسٹم دیگر نمایاں خصوصیات بھی پیش کرتا ہے جن میں روزگار کے مواقع، شہری حکومت کے لئے ایڈورٹائزنگ اور کمرشل اسپیس کے ذریعے آمدن میں اضافہ جبکہ ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی آتی ہے۔ بہترین پبلک سفر سے مجموعی طور پر بڑے پیمانے پر معاشی سرگرمی ہوتی ہے۔

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر اور سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والے شہر لاہور کے اپنے میٹرو ریل ٹرانزٹ سسٹم کو دیکھنا انتہائی مسرت کا باعث ہے۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا نظام ہے ۔ اورینج لائن میٹرو ریل ٹرانزٹ سسٹم کے مرکزی کنٹرایکٹر چائنا ریل ویز کارپوریشن اور چائنا نارتھ انڈسٹریز کارپوریشن کے جوائنٹ وینچر (CR-NORINCO) نے حال ہی میں اس پروجیکٹ کی تمام ٹریک لائنز ڈالنے کا کام مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے اور اسکے بعد اس پروجیکٹ کے اگلے مرحلے میں بجلی کے مختلف سامان کی تنصیب کا کام کیا جائے گا تاکہ ٹرین کو فعال بنایا جاسکے۔ سی آر نورنکو حکومت پاکستان کی جانب سے تفویض کردہ کام کے دائرہ کار کی ادائیگی کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ، اب ان دائرہ کار میں بجلی کی تنصیبات سے متعلق امور کا احاطہ کیا جانا ہے۔

اورنج لائن ایک انقلابی اقدام ہے جس سے لاہور کے بے شمار شہریوں کی زندگیوں پر مثبت اثر مرتب ہوگا۔ سفر کے اس تیزرفتار اور باسہولت انتخاب سے پرہجوم سڑکوں اور ٹریفک جام سے نجات پانے میں مدد ملے گی۔ اس اقدام سے روزانہ ڈھائی لاکھ افراد بروقت اور سہولت سے سفر کرسکیں گے۔ اسی دوران بڑے کیریجز، آرام دہ نشستوں اور جدید سہولیات کے ساتھ تمام مسافروں کے لئے پورا سفر یادگار بن جائے گا۔ یہ ٹرینیں قبل از انتباہی کی ڈیوائسز سے بھی آراستہ ہیں جو مسافروں کو کسی درپیش خطرے اور کسی خرابی سے ممکنہ طور پر بچانے کے لئے ڈائگناسٹک اور مانیٹرنگ نظام سے منسلک ہیں۔ یہ نظام انتہائی ماحول دوست ہے، یہ بجلی سے چلتا ہے۔ میٹرو ریل سے سفر کے لئے فی مسافر بجلی کی کھپت فی یونٹ ہے، بس سے سفر کے لئے کھپت ڈیڑھ یونٹ ہوگی جبکہ کار سے سفر کے لئے فی شخص 8.8 یونٹس ہوگی۔ یعنی اتنا بڑا فرق پیدا ہوگا۔

اورنج لائن پروجیکٹ کی بدولت مقامی شہریوں پر معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ اورنج لائن کے جنوبی اور مغربی جنوبی علاقوں کے ٹریک روٹس کی زمین مختص ہونے سے مثبت سماجی و معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ توقع ہے کہ ہر اسٹیشن کے ایگزٹ کے قریبی علاقوں سے نئے کاروبار کے قیام بشمول انٹرٹینمنٹ، تفریحی، کیٹرنگ اور ریٹیل شاپنگ سمیت مقامی شہریوں کے لئے نئے کاروباری مواقع کی فراہمی شامل ہوگی ۔ اورنج لائن پروجیکٹ کے تعمیری مرحلے میں فی الوقت 5 ہزار پاکستانی ورکز برسرروزگار ہیں۔ اس پروجیکٹ کے فعال ہونے کے بعد مقامی آبادی کے لئے طویل المیعاد بنیادوں پر روزگار کے مزید 3 ہزار مستحکم مواقع پیدا ہوں گے۔

یہ پاکستان کے لئے بالکل نئے ٹرانسپورٹ سسٹم کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ایسا قدم جس سے نہ صرف مقامی لوگوں کو روزانہ سفر کی سہولت حاصل ہوگی بلکہ اس سے بڑے پیمانے پر ملکی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید : رائے /اداریہ