ایران میں بدنام زمانہ قیدیوں کے قاتل کو عدلیہ کا سربراہ بننے کافیصلہ

ایران میں بدنام زمانہ قیدیوں کے قاتل کو عدلیہ کا سربراہ بننے کافیصلہ

تہران (این این آئی)ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک مقرب خاص ابراہیم رئیسی کو سپریم جوڈیشل کونسل کا نیا سربراہ مقرر کرنے کی تیاریاں کی جاری ہیں۔ایرانی ٹی وی کے مطابق ابراہیم رئیسی کا ماضی سنگین تنازعات کا شکار رہا ہے اور ان پر 1988ء کو ایرانی جیلوں میں قیدیوں کو انتہائی بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارنے کی ذمہ دارڈیٹھ کمیٹی کی نگرانی کا الزام عاید کیا جاتا (بقیہ نمبر49صفحہ7پر )

ہے۔ ابراہیم رئیسی پرالزام ہے کہ وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر ولایت فقیہ کے انقلاب کے بعد جیلوں میں ڈالے گئے ہزاروں افراد کے قتل کے ذمہ دار قراردیے جاتے ہیں۔اس حوالے سے ابراہیم رئیسی سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس کی تردید نہیں کی۔ جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ انہیں جوڈیشل کونسل کا نیا سربراہ مقرر کیا جا رہاہے۔ابراہیم رئیسی اس وقت خامنہ ای کے براہ راست حکم سے تین اداروں کی سربراہی کررہے ہیں۔ وہ خبرگان کونسل کے رکن، خصوصی مذہبی عدالت کے ڈپٹی پراسیکیوٹر اور مشہد کے العتبہ الرضویہ کے سادن ہیں۔ابراہیم رئیسی کو شہرت اس وقت ملی جب وہ 1988ء کو آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قائم کردہ ڈیتھ کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا۔ اس کمیٹی پر سیاسی بنیادوں پر قید کیے گئے دسیوں ہزار قیدیوں کو موت کیگھاٹ اتارے جانیکا الزام عاید کیاجاتا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر