محفوظ انتقال خون ، سرکاری ہسپتالوں میں سہولتیں خواب ، مریض لاوارث

محفوظ انتقال خون ، سرکاری ہسپتالوں میں سہولتیں خواب ، مریض لاوارث

ملتان (وقائع نگار)سرکاری ہسپتالوں میں بہترین علاج صرف دعووں تک محدود ہوکر رہ گیا ،محکمہ پرائمری ہیلتھ کے زیر انتظام ہسپتالوں میں بلڈ ٹرانسفیوڑن کی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ڈبلیو ایچ او کے معیار کی سہولت تک دستیاب نہیں، خون کے اجزا ء کو الگ کرنے کیلئے ڈسٹرکٹ (بقیہ نمبر41صفحہ12پر )

ہسپتالوں میں مشینری اور آلات فراہم کرنا ضروری ہیں، پنجاب بلڈ ٹرانسفیوڑن اتھارٹی نے محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کو مراسلہ ارسال کردیا ہے۔محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر پنجاب کے زیر انتظام ہسپتالوں میں اربوں روپے بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی پر خرچ تو کیے گئے لیکن محفوظ انتقال خون کی عالمی ادارہ صحت کے کم از کم معیار کی حامل سہولت ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہسپتالوں میں دستیاب نہیں ہے۔ پنجاب بلڈ ٹرانسفیوڑن اتھارٹی نے اس صورتحال پر سیکرٹری پرائمری ہیلتھ کئیرکے نام مراسلہ ارسال کیا ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ڈبلیو ایچ اوکے کم از کم معیار کے مطابق محفوظ انتقال خون کیلئے خون کے اجزا ء کا الگ الگ استعمال ہے لیکن پرائمری ہیلتھ کئیرکے ہسپتالوں میں مطلوبہ مشینری اور آلات دستیاب نہیں ہیں۔محکمہ پرائمری ہیلتھ کے پاس تربیت یافتہ عملہ موجود ہے اس لیے ریفریجریٹڈ سینٹری فیوج مشینیں اور پلازما ایکسٹریکٹر آلات فوری فراہم کیے جائیں۔مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں یہ سہولت میسر ہونے کی صورت میں خون کے اجزا ء ضرورت پڑنے پر تحصیل ہسپتالوں کو بھی مہیا کیے جاسکتے ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر