بغیر پیکنگ مرچ مصالحوں کی فروخت کیخلاف جنوبی پنجاب میں آپریشن شروع

بغیر پیکنگ مرچ مصالحوں کی فروخت کیخلاف جنوبی پنجاب میں آپریشن شروع

ملتان( سپیشل رپورٹر) پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے نئے سال کے آغازسے ہی قوانین پر عملدرآمد کروانے کا سلسلہ جاری ہے۔کھلے مرچ مصالحوں کی فروخت کیخلاف جنوبی پنجاب میں کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیاہے۔فوڈ سیفٹی ٹیموں نے 140مقامات کی چیکنگ کے دوران 2092کلوکھلے ملاوٹی مصالحہ جات تلف کر دیے ہیں۔یاد رہے کہ پنجاب فود اتھارٹی کی جانب سے (بقیہ نمبر42صفحہ12پر )

بین شدہ مصالحہ جات کی فروخت پر یکم جنوری2019سے پابندی عائد کی گئی تھی۔ناقص اجزاء کے استعمال اور ممنوعہ اشیاء کی فروخت پر07فوڈ پوائنٹس کو سر بمہر جبکہ متعدد فوڈ پوائنٹس کو 83,500کے جرمانے عائد کیے گئے۔تفصیلات کے مطابق صوبہ بھر میں کھلے مصالحہ جات کی فروخت کے خلاف کریک ڈاؤ ن جاری ہے۔جنوبی پنجاب بھر میں 140مقامات کی چیکنگ کے دوران 2092کلوکھلے ملاوٹی مصالحہ جات ضبط جبکہ 50مصالحہ یونٹس کی پروڈکشن اصلاح تک بند کر دی گئی ہے۔علاوہ ازیں خانیوال میں چیکنگ کے دوران مٹھائی کی تیاری میں کھلے رنگوں کیمیکلز کے استعمال ،حشرات زدہ مٹھائیوں کی فروخت پر حذیفہ سویٹس پروڈکشن یونٹ جبکہ راجن پور میں دریشک سویٹس یونٹ اور رحیم یارخان میں گجر بیکری کو سیل کیا گیا۔بہاولپور میں کارروائیاں کر تے ہو ئے ممنوعہ گٹکا،زائدالمیعاد اشیاء کی فروخت پرعمران جی پان شاپ اینڈ کارنر جبکہ بہاولنگر میں یوسف پان شاپ اور بلو پان شاپ کو سر بمہر کیا گیا۔مزید برآں سابقہ دی گئی ہدایات پر عمل نہ کر نے،پراسیسنگ ایریا میں واش روم کی موجودگی اور صفائی کے ناقص انتظامات پر رحمٰن اینڈ ریحان پولٹری شاپ کو سیل کیا گیا۔اس سے قبل پنجاب فوڈ اتھارٹی نے جون 2017 میں کھلے مصالحہ جات کی فروخت پر پابندی کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ پابندی کا مقصد کھلی اشیائے خورونوش میں مضرِ صحت اشیاء کی ملاوٹ کرنیوالوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ملاوٹی مصالحہ جات معدے اورانتڑیوں کے کینسر کا سبب بنتے ہیں۔کیپٹن (ر) محمد عثمان کا مزید کہنا تھا کہ ملاوٹ کا ناسور ختم کرنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر