جھوٹی درخواستوں پر کارروائی کا فیصلہ ‘ اینٹی کرپشن کی پالیسی فائنل

جھوٹی درخواستوں پر کارروائی کا فیصلہ ‘ اینٹی کرپشن کی پالیسی فائنل

ملتان (وقائع نگار)ڈائریکٹر انٹی کرپشن ملتان امجد شعیب ترین نے سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی ہے۔جس کے مطابق انٹی کرپشن ملتان ریجن کو سال 2018 میں مجموعی طور 1516 درخواستیں ملیں۔ جن میں سے 481 درخواستوں پر انکوائریاں شروع ہوئیں۔اور 698 درخواستیں (بقیہ نمبر28صفحہ7پر )

میں الزام ثابت نہ ہونے پر ڈراپ کر دیں گئیں۔واضح رہیانٹی کرپشن نے گزشتہ سال 120 مقدمات درج کیے ہیں۔جس میں 54 انکوائریوں کو ڈیپارٹمنٹل ایکشن کے لیے بھجوایا گیاانٹی کرپشن نے 31 ریڈ کیے۔اس کیعلاوہ ایک کروڑ 95 لاکھ روپے اراضی سے ڈائریکٹ ریکوری کی ہے۔ 94 مربع سرکاری اراضی قابضین واگزار کرائی گئی جسکی مالیت سوا چار ارب روپے بنتی ہے۔جبکہ واگزار کرائی گئی اراضی کا اب قبضہ ڈپٹی کمشنرز کے سپرد ہے۔جو اب اس اراضی بارے مزید فیصلے کیا کریں گے۔سال 2018 کے دوران اراضی کو جعلی کاغذات کے ذریعے منتقلی کرنے کے بھی کافی کیسز سامنے آئے ہیں۔مزید یہ کہ جھوٹی درخواستوں پر 182 کے تحت درخواست دہندہ کے خلاف کارروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کے دوران ڈائریکٹر امجد شعیب ترین نے بتایا کہ جھوٹی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کریں گے۔چلڈرن کمپلیکس کرپشن کیس میں عبوری چالان آج تک جمع کرا دیں گے اور پی ایف ایس اے کی رپورٹ کے بعد چالان مکمل کیا جائے گا۔اس کے علاوہ شاہ شمس واسا ڈسپوزل کی انکوائری جاری ہے۔نشتر ہسپتال کرپشن کیس میں دوائیوں کا جعلی استعمال ظاہر کیا گیا ہے جسکی انکوائری بھی جلد مکمل کر لی جائے گی۔

B

مزید : ملتان صفحہ آخر