زوال کا شکار فلمی صنعت بحالی کی جانب گامزن

زوال کا شکار فلمی صنعت بحالی کی جانب گامزن

لاہور(فلم رپورٹر)پاکستانی فلمی صنعت گزشتہ تین دہائیوں سے جس زوال کا شکار رہی ہے، اس کے خاتمے کا آغاز 2013 میں شعیب منصور کی فلم ’’بول ‘‘سے ہوا تھا۔ یہ حوصلہ افزا بحالی آج تک جاری ہے اور 2019ء میں فلم انڈسٹری کے حالات میں مزید بہتری کی امید ہے۔پاکستانی فلم انڈسٹری میں عروج و زوال مجموعی طور پر کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن خوش آئند پہلو یہ ہے کہ اس صنعت میں مسلسل تین عشروں تک اتار کے بعد چڑھا ؤکا تسلسل 2018 میں بھی خوش آئند طریقے سے جاری رہا۔اس حوالے سے سب کو مل کر سنجیدگی سے مزید کوشش جاری رکھنی ہوگی ۔اس وقت پاکستانی فلمیں مسلسل کامیابی حاصل کررہی ہیں جس کی وجہ سے ملک بھر میں تیزی سے نئے سنیما بنائے جا رہے ہیں گزشتہ سالوں میں سنیماء انڈسٹری نے بہت ترقی کی ہے اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے ۔اور اس میں مزید سرمایہ کاری کی امید ہے ۔گزشتہسال جو فلمیں ریلیز کی گئیں ان میں ڈائریکٹراظہر جعفری کی ’ ’پرچی‘ ‘جس میں حریم فاروق اور علی رحمن خان نے مرکزی کردار کئے تھے۔سعودی عرب میں ریلیز ہونے والی یہ پہلی پاکستانی فلم ہے۔دیگر فلموں میں ڈائریکٹر عزیرظہیرخان کی اینی میٹڈ فلم ’’اللہ یار لیجنڈ آف مارخور‘‘،ڈائریکٹر عابس رضا کی ’’مان جاؤناں‘‘ جس کی کاسٹ میں ایلناز نوروزی،عدیل چوہدری،حاجرہ یامین اور غناعلی شامل تھیں۔سید عاطف علی کی ’’پری‘ ‘ریحان شیخ کی ’’آزاد‘ ‘کی کاسٹ میں صنم سعید،ریحان شیخ،نمرہ بچہ اور انجلین ملک، عمرحسن کی اینی میٹڈ فلم ’’ٹک ٹاک‘‘،ڈائریکٹرعاصم عباسی کی ’’کیک‘‘،معدنان سرور کی ’’موٹرسائیکل گرل‘‘ جس کا ٹائٹل رول سوہائے علی ابڑونے کیاتھا اور یہ ایک بائیوپک تھی۔ ڈائریکٹر مینوگوراور فرجادنبی کی ’’سات دن محبت ان‘‘ جس کی کہانی فصیح باری خان نے تحریر کی جس کی کاسٹ میں ماہرہ خان ،شہریار منور،میراسیٹھی اور آمنہ الیاس نمایاں ہیں۔یہ فلم زیادہ کامیابی حاصل نہ کرپائی۔ڈائریکٹرعمران ملک کی ’’آزادی‘‘ بہت پسند کی گئی۔کشمیر کے موضوع پر بنائی گئی اس فلم میں معمررانا اور سونیاحسین نے لیڈ رول کئے تھے۔کینیڈا میں بنائی گئی فلم’نہ بینڈ نہ باراتی ‘بھی بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی۔جاوید شیخ کی ڈائریکشن میں بنائی گئی فلم ’’وجود‘‘شائقین کو متاثر کرنے میں بری طرح ناکام رہی جس میں دانش تیموراور سعیدہ امیتاز سمیت بہت سے فنکاروں نے کام کیا تھا۔سہیل خان پروڈکشن کی فلم ’’شورشرابا‘ ‘کی ڈائریکشن کے لئے بھارت سے حسنین حیدرآبادوالا کی خدمات حاصل کی گئی۔اس فلم کا شمار سال کی سب سے ناکام فلموں میں ہوتا ہے کیونکہ’’شورشرابا‘ ‘میں نہ کہانی،نہ کاسٹ،نہ پروڈکشن اور نہ ڈائریکشن نظرآئی۔ڈائریکٹر شعیب خان اور پروڈیوسرخرم ریاض کی فلم’جیک پاٹ‘ بہت پسند کی گئی جس میں نورحسن اورصنم چوہدری نے لیڈ رول کئے لیکن سینما گھروں کی طرف سے فلموں کو مناسب وقت پر شوزنہ ملنے کے باعث اسے جلد ہی اتاردیا گیا جسے اب آئندہ ماہ دوبارہ ریلیز کیا جائے گا۔علی ظفرکی پروڈکشن میں بنائی گئی فلم’طیفاان ٹربل‘ ہر حوالے سے ایک بہترین فلم تھی جس نے شاندار بزنس کیا۔فلم کے ڈائریکٹراحسن رحیم تھے۔ہمایوں سعید کی’جوانی پھر نہیں آنی 2‘بزنس کے اعتبارسے سال کی سب سے کامیاب فلم قرار پائی جس میں ماوراحسین ،ہمایوں سعید،کبریٰ خاں،فہد مصفطےٰ،واسع چوہدری اور ثروت گیلانی سمیت بہت سے فنکار تھے۔فلم کے ہدایتکار ندیم بیگ تھے۔نبیل قریشی کی ڈائریکشن میں بنائی گئی’’لوڈ ویڈنگ‘‘باکس آفس پر متاثر کرنے میں ناکام رہی۔پچھلے چند برسوں میں کئی انتہائی کامیاب فلمیں ریلیز کی گئیں، جو باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئیں۔ ان میں سے سب سے مشہور اور زیادہ بزنس کرنے والی فلموں میں ’’وار‘‘،’’میں ہوں شاہد آفریدی‘‘، فرجاد نبی کی ’’زندہ بھاگ‘‘، نبیل قریشی کی کامیڈی تھرلر فلم ’’نامعلوم افراد‘‘، یاسر جسوال کی ’’جلیبی‘‘، شرمین عبید چنوئے کی ’’ تین بہادر‘‘، مومنہ دورید کی ’’بن روئے‘‘، ندیم بیگ کی ’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘، جامی کی ’’مور‘‘،’’پرواز ہے جنون‘‘،’’پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘،’’طیفا ان ٹربل‘‘ اور سرمد گھوسٹ کی ’’منٹو‘‘ شامل ہیں۔ شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ اس سال میں پاکستانی سینما اپنے سنہرے ماضی کی یاد دلائے گا 2017ء اور 2018ء کے درمیان بننے والی فلموں نے آہستہ آہستہ فلم بینوں کے ذہنوں اور دلوں میں اپنی جگہ بنانے کے علاوہ فلمی نقادوں سے بھی داد وصول کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج کا سینما اپنے بلند ماضی کا عکا س بنتا جارہا ہے۔

مزید : کلچر