کہروڑ پکا ‘ اراضی ریکارڈ سنٹر کرپشن کا گڑھ ‘ ٹاؤٹوں کے ذریعے ڈیل کا انکشاف

کہروڑ پکا ‘ اراضی ریکارڈ سنٹر کرپشن کا گڑھ ‘ ٹاؤٹوں کے ذریعے ڈیل کا انکشاف

کہروڑ پکا(سٹی رپورٹر) کہروڑ پکا آراضی لینڈ ریکارڈ سنٹر کرپشن کے گڑھ میں تبدیل بغیر پیسوں کے داخلہ بند کردیا جاتا ہے۔ تفصیل کے مطابق شہری محمد اعجاز فیض بخش .حماد عباس بشیر احمد و دیگر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کے ہمیں دھکے کھاتے ہوئے ایک ماہ سے زائد عرصہ ہو گیا ہے اور روزانہ لائن میں کھڑے کر دیے جاتے ہیں اور شام ہوتے ہیں کہا جاتا ہے کہ آپ کا کام کل ہو گا (بقیہ نمبر33صفحہ7پر )

جبکہ جب ہم اگلے دن آتے ہیں تو دوسرا ٹوکن دے دیا جاتا ہے اور کہتے ہیں کہ آپ کا کل والا ٹوکن نہیں چلے گا اور ہر ٹو کن کی علیحدہ فیس لی جاتی ہے جبکہ ہماری آنکھوں کے سامنے کچھ لوگ آتے ہیں اور اہلکاروں انکو کو اپنے ساتھ دروازے سے اندر لے جاتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں وہ چلے جاتے ہیں ان کے لئے کوئی نہ کوئی لائن ہے نا کوئی ٹوکن بلکہ اہلکار ٹوکن خود لے کر ان لوگو ں کا انتظار کرتے نظر آتے ہیں معلوم ہوا ہے کہ درست تبدیلی نام کے لئے ایک ہزار روپے دفتر میں موجود دروازے میں معلومات فراہم کرنے کے لئے لڑکے بیٹھے ہوئے ہیں انہیں دے دیں تو آپ کا کام چند ہی منٹوں میں کروا دیتے ہیں اور وہ ہزار روپیہ اپنی مٹھی لے کر خود ہی کاغذات لے کر ایل ڈی اے او او اور ائل آر او ان کاغذات پر دستخط کرا لاتے ہیں اور شام کو ان سے اندر مجود عملہ حساب کرکے اپنا حصہ وصول کر لیتے ہیں دوسری جانب وراثتی انتقال رجسٹری کے لئے درجنوں لوگ آرہے ہیں اور درجنوں لوگ جاتے ہیں جبکہ کام صرف ان ہی لوگوں کا ہوتا ہے جود ٹاوٹوں یا اہلکار کے زرلعے آتے ہیں جبکہ جن کا کوئی سفارشی یا وہ رشوت نا دیں تو وہ خواتین اور افراد کھڑے کھڑے تھک جاتے ہیں اور شام ہوتے ہی ان کو کہا جاتا ہے اگلے دن آپ آئیں یہ سلسلہ ایک عرصے سے چلا ہوا ہے جس پر روزانہ کی بنیاد پر مبینہ 1.2500ہزار روپے کرپشن کی جا رہی ہے جو کہ ہم مظلوم غریب لوگوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے کسان پہلے ہی مظلوم ہے اور اوپر سے یہ لوگ ہم سے رشوت طلب کرتے ہیں مزید انہوں نے کہا کہ آراضی لینڈ ریکارڈ سینٹر کہروڑ پکا کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے یہاں جائز کام کرانا ناممکن ہے اس سے تو پٹواری کلچر بہتر تھا جو پیسے تو لیتے ہیں لیکن ہمیں اتنا زلیل نہیں کرتے تھے اگر ان کے ساتھ تھوڑا سا اپنے حق کے لیے بولا جائے تو یہ ہمیں عدالتوں اور نادرا دفاتر کے چکر لگوا تے رہتے ہیں جبکہ جو لوگ ان کو رشوت دے دیتے ہیں ان کا کام اگلے چند منٹوں میں ہوجاتا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر