وزیر علٰی سندھ جلد اپنے عہدے سے استعفی دے دیں گے : خرم شیر زمان

وزیر علٰی سندھ جلد اپنے عہدے سے استعفی دے دیں گے : خرم شیر زمان

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن کے صدر اور رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمانپاکستان تحریک انصاف کے رہنما اوررکن سندھ اسمبلی خرم شیرزمان نے دعوی کیا ہے کہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ 20 سے 25 دن میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ہمیں خوف ہے وزیر اعلی سندھ کرپشن کے شواہد نہ مٹا دیں،سندھ میں حکومت نظر نہیں آرہی اگر صوبائی وزیراعلی کا یہی رویہ رہا تو ہم انہیں چلنے نہیں دیں گے، آپ کو کام کرنا پڑے گا اور لوگوں کے مسائل حل کرنے ہوں گے،ہم دودھ کی رکھوالی کیلئے بلے کو نہیں چھوڑ سکتے، استعفیٰ کا مطالبہ برقرار ہے، آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی کو بہت مشکلات در پیش ہوں گی، پیپلز پارٹی کے 22سے 25لوگ ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں، یہ لوگ پیپلز پارٹی میں نہیں رہنا چاہتے۔۔مراد علی شاہ 11 سال سے سندھ پر براجمان ہیں،شکایتی مرکز کے ذریعے عوام کے کون سے مسائل حل ہوئے ہیں، چیف سیکرٹری سے جاننا چاہتے تھے مسائل حل کیوں نہیں کیے جا رہے؟۔پاکستان تحریک انصاف کے ارکان شہر کے مسائل لے کر چیف سیکرٹری کے دفتر پہنچ گئے۔ تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان کی سربراہی میں وفد نے چیف سیکرٹری سندھ سے ملاقات کی۔ملاقات میں وفد نے شہریوں کے مسائل سے متعلق شکایات کے انبار لگا دیئے۔وفد نے بتایاکہ افسران صفائی اور دیگر بنیادی مسائل کی طرف توجہ نہیں دیتے۔چیف سیکرٹری سندھ نے یقین دہانی کروائی کہ شکایات سے متعلق تمام متعلقہ محکموں کوخود ہی ہدایت جاری کروں گا۔ملاقات کے بعد خرم شیر زمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل سے متعلق چیف سیکرٹری سندھ کے پاس آئے تھے۔ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شکایات سندھ حکومت کو جمع کروائی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری سے جاننا چاہتے تھے مسائل حل کیوں نہیں کیے جا رہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے عوامی شکایات کے حل کے لیے پورٹیل بنایا گیا تھا جس میں سندھ سے 19 ہزار شکایات درج ہوئیں اور صرف 19 سو کو حل کیا گیا۔ ایپ کے ذریعے بڑی تعداد میں کراچی کے عوام نے شکایات کیں۔انہوں نے کہاکہ صحت و صفائی، پانی اور زمینوں پر قبضوں کے مسائل ہیں۔سندھ میں مسائل حل ہوتے نظر نہیں آ رہے، سندھ حکومت نے اس قسم کی ایپ کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا۔ ایپ کے ذریعے دیگر صوبوں میں مسائل حل ہو رہے ہیں۔ وفاقی حکومت سندھ کو آگے لے جانا چاہتی ہے اور صوبائی حکومت سے ہر قسم کا تعاون کرنے کو تیار ہے، ہم سندھ میں تعلیم اور صحت کے حوالے سے بھی تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ چیف سیکرٹری نے ایپ پر کام سے متعلق بھی یقین دہانی کروائی ہے۔تحریک انصاف رہنما نے کہا کہ وزیر اعلی بتائیں کون سے سیکرٹری کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے، کمپلینٹ سینٹر کے ذریعے عوام کے کون سے مسائل حل ہوئے ہیں، وزیر اعلی سندھ صاحب کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ 11 سال سے سندھ پر براجمان ہیں، ایڈوائزر بھی رہے، آج بھی فنانس منسٹری ان کے پاس ہے۔ جے آئی ٹی نے وزیر اعلی سندھ پر سہولت کاری کا الزام لگایا۔ تشویش ہے مراد علی شاہ کی موجودگی میں ریکارڈ میں ٹیمپرنگ ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی مطالبہ ہے کہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ استعفی دیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ دودھ کی رکھوالی پر بلے کو بٹھا دیا جائے۔خرم شیر زمان نے بتایا کہ وزیر اعلی ہاؤس میں 11 سال سے شکایتی مرکز کام کر رہا ہے لیکن چیف سیکرٹری سندھ نے شکایت کے ازالے کے لئے ابھی بھی 20روز کا وقت مانگا ہے۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان کی قیادت میں پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے وفد نے چیف سیکریٹری سندھ ممتاز شاہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان کے سٹیزن پورٹل سے متعلق شکایات زیر بحث آئیں۔ وفد میں سیکریٹری اطلاعات عادل انصاری ، عدنان اسماعیل، آفتاب صدیقی، علی عزیز، راجہ اظہر خان، عزیز آفریدی، عمر عماری اور ڈاکٹر عمران شاہ شامل تھے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خرم شیر زمان نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے سٹیزن پورٹل میں پورے ملک سے ایک لاکھ سے زائد شکایات کا ازالہ کیا گیا۔ سندھ سے صرف انیس سو شکایات ہی اب تک حل ہوسکیں جو کل شکایات کا دو فیصد بھی نہیں۔ آج اسی حوالے سے چیف سیکریٹری سے ملاقات کی ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ کام کرنا چاہتے ہیں اور شکایات کو بڑھنے نہیں دینا چاہتے۔ ہم یہاں اس لیے آئے تھے تاکہ پتہ چلے کہ دراصل مسئلہ کیا ہے۔ مسئلہ جو ہمیں معلوم ہوا وہ یہ ہے کہ مسلسل تیسری بار حکومت ملنے کے باوجود پیپلز پارٹی نے آئی ٹی کے شعبے میں کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ سندھ کے عوام آج تک پتھر کے دور سے باہر نہیں نکل سکے۔ یہ تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ آج ہر شخص اپنی شکایات موبائل فون کے ذریعے حکومت تک پہنچا سکتا ہے جو سندھ حکومت کے تصور میں بھی نہیں تھا۔ وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی یہ خیال نہ آیا کہ موبائل پر ایسا کوئی پروگرام بنواتے۔ تحریک انصاف کے اس پروگرام پر ہمیں سندھ میں کام ہوتا نظر نہیں آتا۔ صفائی ستھرائی، پانی کے مسائل یا زمینوں پر قبضے کے مسائل یا شناختی کارڈ کے مسائل حکومت کے علم میں لائے جاسکتے ہیں۔چیف سیکریٹری نے ہمیں اپنے مسائل سے آگاہ کیا ہے جو سافٹ وئیر سے متعلق ہیں۔ ہم صوبہ سندھ کو پتھر کے دور سے باہر لانا چاہتے ہیں۔ ہم پیپلز پارٹی کی مدد کی کوشش کر رہے ہیں۔ چیف سیکریٹری نے ہمیں بتایا ہے کہ پندرہ بیس دن میں سافٹ وئیر فعال ہوجائے گااور عوام کے مسائل سنے جائیں گے۔ ہم لوگوں کے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ تعلیم ، صحت اور صفائی اور پانی کے مسائل ہیں۔ کل رات کو میں نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کا دورہ کیا جہاں چار نوزائدہ بچے دیکھے۔ ڈاکٹروں نے شکایت کی کہ یہاں وینٹی لیٹر موجود نہیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے منگل کو سندھ سیکرٹریٹ کا نمائشی دورہ کیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے اس دورے کے بعد کیا اقدامات اٹھائے۔ جو لوگ ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، ان کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا۔ پچھلے گیارہ سال سے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں بھی ایک شکایت سیل موجود ہے۔ ہم پوچھتے ہیں اس شکایت سیل میں کتنی شکایات کا ازالہ کیا گیا۔ لوگ بھوک اور پیاس سے بے حال ہیں اور بچوں کو پرائیویٹ اسکول بھیجنا پڑتا ہے۔ بیمار ہوں تو پرائیویٹ ہسپتال اور پانی پینا ہو تو منرل واٹر کے علاوہ صاف پانی دستیاب نہیں۔ سیکورٹی کے لیے ہمیں پرائیویٹ گارڈ رکھنے پڑ جاتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے لیے بھی اوبر یا کریم چلتی ہے، سندھ حکومت کچھ نہیں کرتی۔ سندھ حکومت مسائل حل کرتی ہوئی کہیں نظر نہیں آتی۔ ہم سندھ حکومت کو جگانے آئے ہیں اور سندھ حکومت نے اگر کام نہیں کیا تو اس کو چلنے نہیں دیں گے۔ وزیر اعلیٰ کو کام کرنا ہوگا اور شکایت سیل کو فعال کرکے لوگوں کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سے ہمارا مطالبہ ہے کہ پرائم منسٹر سٹیزن پورٹل کے بارے میں اپنے محکموں سے رپورٹ لے کر اس کی شکایات کا ازالہ کیا جائے اور اس پر کام شروع کردیا جائے۔ ہم دودھ کی رکھوالی کے لیے بلے کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمیں خوف ہے کہ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر رہتے ہوئے مراد علی شاہ کہیں اپنے خلاف ثبوت و شواہد ضائع نہ کروا دیں۔ مراد علی شاہ سے ہمارا آج بھی وہی مطالبہ ہے کہ وہ استعفیٰ دیں۔ ہم عوامی مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔

مزید : کراچی صفحہ اول