ڈاکٹر نصیرالدین نصیر ہنزائی کی یاد میں’’ مذاکرہ‘‘اور’’ مشاعرہ‘‘ کا انعقاد

ڈاکٹر نصیرالدین نصیر ہنزائی کی یاد میں’’ مذاکرہ‘‘اور’’ مشاعرہ‘‘ کا ...

کراچی( اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیراہتمام بروشسکی زبان کے نامور ممتاز شاعرعلامہ ڈاکٹر نصیرالدین نصیر ہنزائی(تمغہ امتیاز) کی یاد میں’’ مذاکرہ‘‘اور’’ مشاعرہ‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت سندھی زبان کے معروف شاعر سید نور رضوی نے کی، مہمان خصوصی بروشسکی زبان کے معروف افسانہ نگار ڈاکٹر شہناز پروین تھے ۔ اس موقع پر نصیر الدین نصیر ہنزائی فن و شخصیت پر گفتگو کرتے ہوئے سید نور رضوی نے اپنے صدارتی خطاب میں خصوصی لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ ظاہری علوم بھی ایک علامہ سے کم حیثیت نہیں رکھتے چناچہ آپ بیک وقت چار زبانوں کے قادرا لکلام شاعر ہیں۔ ان میں بروشسکی شاعری کی تخلیق کا سہرا توان ہی کے سرہے جس پرریاست ہونزہ کو خاص طور پر ہمیشہ کیلئے ناز رہتا ہے۔ بروشسکی کے علاوہ فارسی اردو اور ترکی میں بھی آپ کا منظوم کلام ہے بروشسکی زبان اگرچہ ہنوزتحریر وانشاء کی ابتدائی منازل میں ہے لیکن علامہ صاحب کی تخلیقی کو ششوں سے قلیل مدت میں ایک ادبی زبان کی صورت اختیار کرنے لگی ہے ۔آپ کے کلام میں علم و عرفان اور حکمت وفلسفہ کے ساتھ وہ روحانی ذوق و شوق اور سوز وگداز بھی پایا جاتا ہے۔ جو ایک حقیقی عاشق اپنے محبوب حقیقی کے دیدار کی تمنا میں رکھتا ہے۔ آپ برصغیر میں تصوف کی بنیادی روایت کے ساتھ بہت مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر مہمان خاص ڈاکٹر شہناز پروین نے کہاکہ علامہ نصیر الدین نصیر ہنزائی بلاشبہ بروشسکی زبان کے سب سے بڑے کثیرالموزو عاتی و معروف شاعر ہیں ۔ آپ کے کلام میں عشق سمادی کی دولت لازوال بھری ہوئی ہے۔ آپ نے زندگی کا گہرا مشاہدہ کیا جس سے آپ کے اندر فکرونظر کے کئی دریچے کھول دیئے اور اپنی ذھانت طبع کی کلیدی سے اس نے علم و فن کی کتنی دنیاؤں کے باب خود بھی کھولے اور اپنی شاعری کے ذریعے اس کا نظارا اپنے پڑھنے والوں کو بھی کرایا ۔ اس موقع پر لنڈن سے آئے ہوئے معروف شاعر غالب ماجدی نے کہاکہ آپ کے کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ علوم روحانی کاسر چشمہ امامِ زماں کا دردولت ہے۔ آپ کے دیوان میں زیادہ ایسی حرفیاں ملتی ہیں جس میں آپ نے عام رومانوی اور حسن عشق کی باتوں اور گھاتوں سے ہٹ کر انسانی زندگی کی گھری رمزوں کارس نچوڑ کر پیش کیا ہے۔ وہ زندگی اور اس دھرتی کو کائنات کا سب سے بڑ راز گروانتا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر روبینہ برولیا نے کہا کہ صوفیاء کرام کے کلام کی طرح متنوع اور وسیع ہے ۔ آپ کے کلام کا امتیاز یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنے زمانے کے ہنزہ میں آج بھی اپنے عوام کیلئے رجائیت کا نقیب ہے۔ اور مثبت اقدار کے سلسلے میںآپ کی تاثیر بے حد مؤثر اور تمانیت بخش سمجھی جاتی ہے۔ آپ کے اس سوز و گداز کایہ اثر ہے۔ کہ جو بھی آپ کے کلام کو پڑھتا ہے۔ یا سنتا ہے تو اس پر ایک روحانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ آپ تصوف کے کلام کو نئے حوالوں سے بیان کیا ہے۔ خاص طوپر اپنے وحت الوجودی مسلک کے لحاظ سے کافی صنف کو نئی سمت اور نئی جہت عطا کی ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر