کراچی ، جعلی اسلحہ لائسنس بنانے اور ایمونیشن سپلائی کروانے والا گروہ گرفتار

کراچی ، جعلی اسلحہ لائسنس بنانے اور ایمونیشن سپلائی کروانے والا گروہ گرفتار

کراچی (کرائم رپورٹر)اے وی سی سی /سی آئی اے پولیس نے کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ گھاس بندر پر کارروائی کرتے ہوئے جعلی اسلحہ لائسنس بنانے اور اسلحہ ایمونیشن سپلائی کرنے والے گروہ کو گرفتار کرلیا ہے ۔ملزمان میں سرکاری ملازم ،پولیس اور ایف سی کے اہلکار بھی شامل ہیں ۔ملزمان کے قبضے سے اسلحہ ،موبائل ،نقدی اور ایک پولیس کارڈ برآمد کرلیا گیا یہ بات ڈی آئی جی اے وی سی سی /سی آئی اے محمد عارف حنیف نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی ۔ڈی آئی جی سی آئی اے نے بتایا کہ شہر میں جعلی اسلحہ لائسنس بنا کر جرائم پیشہ افراد کو فراہم کئے جانے کی اطلاع ملی تھی ۔ہم نے خود بھی پہلے جعلی اسلحہ لائسنس بنوایا ،مخبر خاص کی اطلاع پر ایم اے جناح روڈ گھاس بندر پر دو اشخاص کو موٹرسائیکل پر مشتبہ جانتے ہوئے روکا جنہوں نے اپنے نام عدنان احمد نیازی اور کانسٹیبل سعید نواز بتائے ۔ملزمان کے قبضے سے 100گولیاں ،2عدد اسلحہ لائسنس ،مختلف اشخاص کے سی این آئی سی کی کاپیاں ،2عدد ویزہ کارڈ ،5عدد موبائل فون بمعہ سم،ایک لاکھ روپے نقد ،ایک عدد پولیس بنام کانسٹیبل سعید نواز برآمد کرلیے ۔گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر ان کے ساتھی محمد واسع جلبانی کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی جس کے قبضے سے 2عدداسلحہ لائسنس ،30عدد اسلحہ کے خالی فارم اور ڈی سی آفس ساؤتھ کی اسٹامپ شدہ چیک بک برآمد کی گئی ۔انہوں نے بتایا کہ گروہ میں سرکاری ملازم، پولیس اور ایف سی کے اہلکار بھی شامل ہیں ۔فاٹا بلوچستان اور پشاور سمیت مختلف جگہ کے لوگوں کو لائسنس بنا کر دئیے جارہے تھے۔گروہ میں اسلحہ ڈیلر بھی شامل ہیں ۔ملزموں کے قبضے سے امریکی ساختہ ہتھیار برآمد ہوئے۔برآمد ہتھیار افغانستان سے کراچی لایا گیا ۔اب تک پانچ اسلحہ ڈیلر اور پولیس وایف سی اہلکار سمیت 9 ملزم گرفتار کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں جعلی اسلحہ لائسنس گروہ بنا چکا ہے۔کافی عرصے سے ملزموں کا گروہ کام کررہا تھا ۔پورا ایک پروفیشنل گروہ ہے جو انڈر گراونڈ ہوکر کام کررہا تھا۔پولیس کا ہیڈ کانسٹیبل سعید نواز اسلحہ ڈیلرز سے خریدار کے کوائف لاتا تھا۔پولیس اہلکار کا کام تمام دستاویزات آفس سپرینٹنڈنٹ کوفراہم کرنا ہوتا تھا۔نادرا میں جعلی لائسنس کیسے ویریفائے ہوتے تھے تحقیقات کررہے ہیں ۔دوہزار اٹھارہ میں دوہزار نو کے لائسنس بنا کر دئیے جارہے تھے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے تین اضلاع میں گروہ سرگرم تھا۔گرفتار پولیس اہلکار پولیس میں پچیس سال سے ملازم ہے۔آفس سپرنٹنڈنٹ بھی بہت پرانا سرکاری ملازم ہے۔گروہ کے رجسٹرڈ قبضے میں لے لئے ہیں۔اسلحہ ڈیلرز خریداروں کو کم سے اسلحہ اور لائسنس کا پیکج ایک لاکھ روپے رکھتے تھے۔شہری اگر اس گروہ کا شکار ہوئے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں ۔گروہ سے متاثر متعدد افراد نے رابطہ کیاہے۔گروہ سے متاثرہ بیشتر افراد وہ ہیں جوڈائریکٹ اسلحہ ڈیلر کے پاس لائسنس کے حصول کے لئے گئے۔گرفتار بیشتر اسلحہ ڈیلرز صدر میں کاروبار کرتے ہیں

B

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر