کراچی کے مسائل کیوں حل نہیں کیے جا رہے، خرم شیر زمان

کراچی کے مسائل کیوں حل نہیں کیے جا رہے، خرم شیر زمان

کراچی(آئی این پی ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان نے کہا کہ مراد علی شاہ 11 سال سے سندھ پر براجمان ہیں،جے آئی ٹی نے وزیر اعلی سندھ پر سہولت کاری کا الزام لگایا، تشویش ہے مراد علی شاہ کی موجودگی میں ریکارڈ میں ٹیمپرنگ ہوسکتی ہے، کمپلینٹ سینٹر کے ذریعے عوام کے کون سے مسائل حل ہوئے ہیں، چیف سیکریٹری سے جاننا چاہتے تھے مسائل حل کیوں نہیں کیے جا رہے؟،وزیر اعظم پورٹل کے ذریعے عوام نے شکایات درج کروائی ہیں، صحت و صفائی، پانی اور زمینوں پر قبضوں کے مسائل ہیں،سندھ حکومت نے اس قسم کی ایپ کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ارکان شہر کے مسائل لے کر چیف سیکریٹری کے دفتر پہنچ گئے۔ تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان کی سربراہی میں وفد نے چیف سیکریٹری سندھ سے ملاقات کی۔ملاقات میں وفد نے شہریوں کے مسائل سے متعلق شکایات کے انبار لگا دیے، وفد کا کہنا تھا کہ افسران صفائی اور دیگر بنیادی مسائل کی طرف توجہ نہیں دیتے۔چیف سیکریٹری سندھ نے یقین دہانی کروائی کہ شکایات سے متعلق تمام متعلقہ محکموں کو آج کی ہدایت جاری کروں گا۔ملاقات کے بعد خرم شیر زمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل سے متعلق چیف سیکریٹری سندھ کے پاس آئے تھے۔ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شکایات سندھ حکومت کو جمع کروائی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیف سیکریٹری سے جاننا چاہتے تھے مسائل حل کیوں نہیں کیے جا رہے۔ وزیر اعظم پورٹل کے ذریعے عوام نے شکایات درج کروائی ہیں۔ ایپ کے ذریعے بڑی تعداد میں کراچی کے عوام نے شکایات کیں۔خرم شیر زمان نے کہا کہ صحت و صفائی، پانی اور زمینوں پر قبضوں کے مسائل ہیں۔ سندھ حکومت نے اس قسم کی ایپ کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا۔ ایپ کے ذریعے دیگر صوبوں میں مسائل حل ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سندھ حکومت کی مدد کرنا چاہتے ہیں، سیاسی اختلاف اپنی جگہ عوام کے مسائل مل کر حل کرنا چاہتے ہیں، چیف سیکریٹری نے ایپ پر کام سے متعلق بھی یقین دہانی کروائی ہے۔جے آئی ٹی نے وزیر اعلی سندھ پر سہولت کاری کا الزام لگایا۔ تشویش ہے مراد علی شاہ کی موجودگی میں ریکارڈ میں ٹیمپرنگ ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی مطالبہ ہے کہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ استعفی دیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ دودھ کی رکھوالی پر بلے کو بٹھا دیا جائے ۔

خرم شیر زمان

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر