اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 104

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 104

  

میں اشلوک کا ورد کرتا مندر کے بڑے استھان کی طرف بڑھا۔ میں اس مندر کے سارے حدود اربعے سے واقف تھا۔ پنڈت ہاتھ باندھے میرے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ شکل سے ہی یہ بڑا مکار اور کائیاں پنڈت لگ رہا تھا۔ مگر اس پر میرے ایک عظیم رشی ہونے کا اثر بیٹھ چکا تھا۔ سومنات کا استھان خالی اور ویران پڑا تھا۔ کبھی یہاں دیوتا سومنات کا بہت بڑا بت ہوا کرتا تھا۔ جسے میرے سامنے سلطان محمود نے اپنے گرز سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا۔ میں نے خالی استھان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا ’’دیوتا اپنے استھان پر پھر براجمان ہوگا دیوتا شنکر نے مجھے مندر کے پھر سے آباد ہونے کی خوشخبری دے کر یہاں بھیجا ہے۔‘‘

میں نے استھان کے گرد مقدس اشلوک پڑھتے ہوئے چار چکر لگائے اور پنڈت سے کہا’’ہمیں بھوک لگی ہے۔ کیا ہمیں بھوجن نہیں کھلاؤ گے؟‘‘

مجھے بھوک وغیرہ کچھ نہیں لگی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ کسی جگہ آرام سے بیٹھ کر پنڈت کے دل کو ٹٹولوں اور اس سے یہ راز معلوم کروں کہ شہزادی کو اس نے کہاں چھپا کر رکھا ہوا ہے۔ پنڈت جھک کر بولا

’’میری کوٹھری میں پدھارئیے مہاراج! بھوجن پانی سے آپ کے سیوا کروں گا۔‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 103 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

 وہ مجھے اپنی کوٹھڑی میں لے آیا جہاں ایک چراغ جل رہا تھا۔ اس نے مجھے بستر پر بٹھایا اور خود ایک چوکی پر بیٹھ گیا۔ اتنے میں اس کا ساتھی گنگو مخبر بھی آگیا۔ اس نے بھی ایک رشی منی کو دیکھ کر بڑے ادب سے ہاتھ باندھ کر پرنام کیا اور ادب سے کونے میں کھڑا ہوگیا لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ وہ ٹیڑھی آنکھوں سے میرا جائزہ بھی لے رہا ہے۔ اس وقت میرے آگے کیلے کے چوڑے پتے بچھا کر بھوجن لگادیا گیا۔ 

میں بھوجن کرنے لگا۔ ساتھ ہی ساتھ پنڈت سے باتیں بھی کرتا جارہا تھا۔ میں ہر فقرے کے بعد اپنا اثر ڈالنے کے لئے ویدوں، انپشدوں اور بھگوت گیتا میں سے ایک آدھ سنسکرت کا اشلوک بھی پڑھ دیتا تھا۔ جس کا خاطرہ خواہ اثر ہورہا تھا۔ اس کے باوجود مکار پنڈت اپنے دل کا راز نہیں دے رہا تھا۔ اس نے ابھی تک مجھے اس راز سے آگاہ نہیں کیا تھا کہ اسی نے ایک امیر زادی کو اغوا کرایا ہے اور سومنات کے خالی استھان کے آگے اس کو ذبح کرنے والا ہے۔ میں جلدی سے جلدی اس بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتا تھا۔ میں نے بھوجن کھانے کے بعد پنڈت کی طرف جھک کر دیکھا اور کہا

’’دیوتا شنکر تم سے بہت خوش ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ تم دیوتا سومنات کی کھوئی ہوئی عزت بحال کرنے کے لئے ایک بہت بڑی قربانی پیش کرنے والے ہو۔‘‘

پنڈت کچھ چونکا۔ اس نے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں میرے چہرے پر گاڑ دیں اور بولا’’مہاراج! دیوتا شنکر سب کچھ جانتے ہیں۔ میں ان سے کچھ نہیں چھپاسکتا۔‘‘ میں نے کہا تو پھر مجھ سے کیوں چھپارہے ہو؟ میں بھی دیوتا شنکر کا گندھروبن کر یہاں استھان کے درشن کرنے آیا ہوں۔ اس کا جواب پنڈت نے کچھ نہ دیا۔ وہ خاموش ہی رہا اور ایک نگاہ اپنے ساتھی گنگو پر ڈالی۔ وہ بھی اپنی جگہ پر ساکت کھڑا رہا۔ میں سب کچھ جانتا تھا۔ میں نے کہا

’’کیا تم مجھ پر اپنے دل کا راز نہیں کھولوگے؟ میں رشی منی ہی نہیں۔ آکاش کا گندھیرو بھی ہوں۔‘‘

اب پنڈت نے زبان کھولی اور کہا ’’مہاراج! آپ مجھ سے زیادہ اس بات کو جانتے ہیں کہ اس وقت سومنات کا مندر ہندوستان کے ہندوؤں اور آکاش میں رہنے والے دیوتاؤں کا سب سے بڑا مندر ہے جو اجڑچکا ہے۔ جس کے سارے بت پاش پاش ہوچکے ہیں۔ اس کو دیوتاؤں کے بتوں سے پھر سے آباد کرنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی ہے اور یہ بہت بڑی اور بڑی رازدارانہ ذمے داری ہے اور اس ذمے داری کے ساتھ ہی مجھ پر ایک فرض لاگو ہوگیا ہے کہ مند رکو دوبارہ آبادکرنے کے منصوبے کو کسی باہر کے آدمی پر ظاہر نہ کروں۔‘‘

میں نے کہا ’’لیکن میں گندھیرو ہوں۔ آدھا انسان اور آدھا دیوتا ہوں۔ تم مجھ سے کیوں چھپاتے ہو؟‘‘

پنڈت بولا ’’مہاراج! پھر تو آپ کو اچھی طرح سے معلوم ہوگا کہ سومنات مندر کے اس عظیم راز کو کسی باہر کے آدمی پر ظاہر کرنے کے لئے خواہ وہ گندھیرو ہی کیوں نہ ہو ایک شرط کا پور اکرنا ضروری ہے۔‘‘

میں نے پوچھا ’’ وہ کونسی شرط ہے؟‘‘ پنڈت بولا

’’آپ کو مقدس ناگ سے اپنے آپ کو ڈسوانا ہوگا کیونکہ ویدوں میں لکھا ہے کہ گندھیروں پر سانپ کے زہر کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اگر آپ پر مقدس ناگ کے زہر کا اثر نہ ہوا تو یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ آپ سچے گندھیرو ہیں پھر میں آپ کو وہ سب کچھ بتادوں گا جو میں ابھی تک آپ سے اپنے دھرم کے وصولوں کی وجہ سے چھپارہا ہوں۔‘‘ میں دل میں مسکرادیا۔ احمق آدمی نے ایک ایسی شرط لگائی ہے جو میں جتنی بار کہے پوری کرنے کو تیار تھا۔ میں نے فوراً کہا

’’تم نے میرے گندھیر وہونے پر شک کرکے ایک پاپ کیا ہے۔ لیکن میں سومنات اور دیوتا شنکر کے لئے تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔ ورنہ میرا یہ ترشول تمہیں ابھی آگ میں جلا کر بھسم کرکے رکھ دیتا۔ لاؤ مقدس سانپ کو۔ میں اس سے ڈسوانے کے لئے تیار ہوں۔‘‘

پنڈت خاموشی سے مجھے تکتا رہا۔ پھر اس نے اپنے گنگو مخبر کی طرف دیکھا اور اسے اشارہ کیا۔ وہ فوراً کوٹھڑی سے نکل گیا۔ اب میں نے پلنگ پر ہی یونہی جھوٹ موٹ آسن جما لیا اور اتھروید میں سے اشلوک پڑھنے شروع کردئیے۔ پانچ منٹ کے بعد گنگو اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھوں میں ایک چھوٹی گول ٹوکری تھی۔ اس نے ٹوکری پنڈت کے سامنے رکھ دی۔ میں نے کوئی استفسار نہ کیا اور بدستور اشلوک گنگناتا رہا۔ پنڈت نے ٹوکری اٹھائی اور اسے پلنگ پر میرے آگے رکھتے ہوئے کہا

’’مہاراج! اس ٹوکری میں مقدس ناگ بند ہے۔ جس کے زہر میں اتنی تاثیر ہے کہ اگر پتھر پر دانت مارے تو اسے آگ لگ جائے۔ اگرچہ مجھے آپ کے گندھیرو اور مقدس رشی ہونے کا یقین ہے لیکن مجھے شما کیجئے اس مقدس رسم کا پوراکرنا ضروری ہے۔‘‘ میں نے اشلوک پڑھنے بند کردئیے اور ٹوکری پر ہاتھ رکھ کرپنڈت کی طرف مسکرا کر دیکھا اور کہا

’’میرے بھائی! میں نے تمہیں شما کیا اور میری پرارتھنا ہے کہ آکاش کے دیوتا بھی تمہیں معاف کردیں کیونکہ تم نے ایک گندھیرو کی طاقت اور شکتی پر شک کیا ہے۔ پھر بھی چونکہ تم ایک مقدس دھرم کی شرط پوری کررہے ہو اس لئے ہر آزمائش کے لئے تیار ہوں۔‘‘

میں نے ٹوکری کا ڈھکنا اٹھادیا۔ یک بارگی میں بھی کسی حد تک دہشت زدہ ساہوکر رہ گیا کیونکہ اس کے اندر سے ایک کالا سیاہ ناگ پھنکار کے ساتھ اوپر کو اٹھا اور اپنا چوڑا پھن پھیلائے مجھے سرخ آنکھوں سے دیکھتے ہوئے جھومنے لگا۔ پنڈت اور گنگو خوف کے مارے پرے ہٹ گئے تھے۔ سانپ تین فٹ اونچا اٹھا ہوا تھا اور بار بار اپنی سرخ دوشاکہ زبان باہر نکال رہا تھا۔ میں نے ہاتھ آگے بڑھا کر اسے گردن سے پکڑنا چاہتا تو اس نے بجلی سی سرعت کے ساتھ میری کلائی پر ڈس لیا۔ پھر بھی میں نے اسے گردن سے پکڑلیا اور اپنی گود میں بٹھاتے ہوئے کہا

’’اے پنڈت! مقدس ناگ مجھے ایک بار ڈس چکا ہے لیکن میں اسے ایک بار پھر ڈسواؤں گا تاکہ تمہارے دل میں ذرا سا بھی شک باقی نہ رہے۔‘‘

اس بار میں نے سانپ کو اپنے ننگے بازو پر ڈسوایا۔ سانپ کے دانت میرے جسم میں داخل ہی نہیں ہوسکتے تھے اس کا زہر اندر کہاں سے جاتا۔ اس کے زہر کے قطرے باہر ہی میرے بازو سے لگے رہ گئے۔ جن کو میں نے پونچھ ڈالا۔ پنڈت اور اس کا ساتھی گنگو میری طرف پھٹی پھٹی آنکھوں سے تک رہے تھے۔ انہیں شاید یقین تھا کہ میں سانپ کے ڈسنے سے فوراً جل کر راکھ ہوجاؤں گا۔ جب ایسا نہ ہوا اور میں نے مقدس سانپ کو اپنی گردن میں لپیٹ لیا تو وہ میرے آگے سجدے میں گر پڑے۔ میں بھی یہی چاہتا تھا۔

میں نے انہیں اٹھنے کا حکم دیا اور مقدس سانپ کو گردن سے نکال کر ٹوکری میں دوبارہ بند کردیا اور پنڈت سے کہا۔ ’’اب تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو کہ مقدس سانپ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکا کیونکہ میں آکاش کا مقدس گندھیرو ہوں۔ اب مجھے بتاؤ کہ تم جس مسلمان لڑکی کو دیوتا سومنات کے استھان پر قربان کرنے کو لائے ہو وہ کہاں ہے؟ کیونکہ دیوتا شنکر نے مجھے حکم دیا ہے کہ قربانی سے پہلے میرا اس سے بیاہ ہوگا۔‘‘

پنڈت نے ہاتھ باندھ کر کہا ’’مہاراج! آپ پر سارا بھید کھلا ہے آپ زمین کے اوپر اور پاتال کے اندر کی چیزوں سے واقف ہیں۔ جیسی آپ کی اچھیا ہے ویسے ہی ہوگا۔ سب سے پہلے اس مسلمان لڑکی کا بیاہ آپ ہی سے ہوگا۔‘‘

میری جان میں جان آئی کیونکہ اس جملے سے ظاہر تھا کہ ابھی تک مسلمان امیر زادی شگفتہ ابھی محفوظ تھی اور اس کا کسی ہندو سے ابھی تک بیاہ نہیں ہوا تھا۔ (جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 105 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار