اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 71

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 71
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 71

  

شیخ نصیرالدین محمودؒ فرماتے ہیں کہ شیخ احمد نہروانیؒ جب کام کرتے تو کبھی کبھی ان کو ایسا حال پیدا ہوتا کہ وہ اپنے آپ سے غائب ہوجاتے اور کام کرنا بند کردیتے تھے اور کپڑا خود بخود بنتا جاتا تھا۔

ایک روز قاضی حمید الدین ناگوریؒ حضرت شیخ احمد نہروانیؒ کو دیکھنے آئے۔ ملاقات کے بعد رخصت ہونے لگے تو قاضی صاحب نے فرمایا ’’احمد! یہ کام کب تک کرتے رہو گے؟‘‘یہ کہہ کر وہ تو چلے گئے۔ شیخ احمدؒ میخ کسنے کے لئے اُٹھے لیکن وہ ڈھیلی پڑچکی تھی۔ آپ کا ہاتھ میخ پر لگا اور وہ ٹوٹ گیا۔ شیخ احمد نے اردو میں کہا’’اس بوڑھے (یعنی قاضی حمید الدین ناگوریؒ ) نے میر اہاتھ توڑ ڈالا۔‘‘ا س واقعہ کے بعد شیخ احمدؒ نے کاروبار چھوڑ دیا اور ہمہ تن اللہ سے لَو لگالی۔

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 70 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

ایک دفعہ شیخ نصیر الدینؒ چراغ دہلوی کو بادشاہ نے زبردستی ٹھٹھہ روانہ کیا۔ وہ نار نول کے راستہ ٹھٹھہ جارہے تھے۔ جب نارنول ایک کوس رہ گیا تو سواری سے نیچے اتر آئے اور شیخ محمد ترکؒ کے مقبرہ کی جانب متوجہ ہوئے۔ روضہ کے اندر قبر کے سامنے ایک پتھر لگا ہوا ہے۔ تھوڑی دیر اس پتھر کے سامنے کھڑے رہے۔ پھر شیخ کی قبر کی طرف متوجہ ہوئے۔ زیارت سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے پوچھا ’’اس میں کیا راز تھا کہ پہلے آپ پتھر کی طرف متوجہ ہوئے اور بعد میں قبر کی طرف۔‘‘

انہوں نے فرمایا ’’خوش نصیب ہ ے وہ خادم جس کی نوازش کے لئے خود مخدوم اس کے گھر آئے اور اس کو سرفراز کرے۔ مَیں نے جناب سید کونین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی روحانیت کو اس پتھر میں جلوہ افروز دیکھا اور جب تک وہ معنی مجھ پر منکشف رہے، مَیں اس پتھر کی طرف متوجہ رہا۔ جب وہ معنی میری بصیرت سے غائب ہوگئے میں شیخ کی قبر کی جانب متوجہ ہوا۔‘‘

یہ کہہ کر شیخ نصیر الدینؒ چراغ دہلوی مراقبہ میں چلے گئے۔ جب مراقبے سے سر اٹھایا تو فرمایا ’’جس کسی کو کوئی سخت مشکل درپیش ہو او روہ اس روضے کی طرف متوجہ ہو، امید ہے کہ وہ مشکل آسان ہوجائے گی۔‘‘

اس پر ایک بے باک نے کہا ’’اب تو آپ کو خود ایک مشکل درپیش ہے۔‘‘

انہوں نے فرمایا ’’اسی سبب سے میں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی برکت سے میری مشکل آسان کردے گا۔‘‘

نارنول سے دو تین منزل نہ گئے ہوں گے کہ بادشاہ کی موت کی اطلاع ملی۔ شیخ نصیر الدینؒ واپس دہلی آگئے۔ وہ پتھر آج بھی شیخ محمد ترکؒ کی قبر کے مقابل موجود ہے اور لوگ اس کی زیارت کرتے ہیں۔

**

ایک شخص مکمل تین سال سے عبادات و مجاہدات میں سرگرم عمل تھا اور لوگوں نے جب اس سے پوچھا کہ تمہیں یہ درجہ کیسے ملا؟ تو جواب دیا

’’مَیں نے ایک روز سری سقطیؒ کے دروازے پر جاکر انہیں آواز دی تو انہوں نے پوچھا۔ کون ہے؟ مَیں نے عرض کیا کہ آپ کا ایک واقف کار۔ یہ سن کر آپ نے دعا دی کہ اے اللہ اس کو ایسا بنا دے کہ تیرے سوا اس کی کسی اور کی شناسائی نہ رہے ۔چنانچہ اس دن سے مجھے مراتب حاصل ہونے شروع ہوگئے اور آج اس درجہ تک پہنچ گئی۔

***

ایک دفعہ جمعرات کے دن مسجد اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتیؒ سے دوسرے بزرگوں سے ملاقات ہوئی۔ اہل صفہ کے کئی درویش، عزیر اور مرید بھی خدمت میں حاضر تھے۔ ملک الموت کے بارے میں گفت گو شروع ہوئی تو آپ نے فرمایا 

’’موت کے بغیر دنیا کی وقعت ایک رتی کے برابر نہیں۔‘‘

حاضری نے پوچھا ’’کیونکر؟‘‘

انہوں نے ارشاد فرمایا

(ترجمہ) ’’موت ایک پل ہے جو حبیب کو حبیب سے ملاقات ہے۔‘‘

مزید فرمایا ’’دوستی وہی ہے جسے تو دل سے کرے، نہ کہ زبان سے۔ جن چیزوں سے تجھے لگاؤ ہے اُن سے اپنا معاملہ ترک کردے۔ اس وقت تو عرش کے گرد اگر طواف کرنے لگے گا۔‘‘(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 72 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے