باقر نجفی کمیشن رپورٹ میں قاتلوں کی طرف جانیوالے ’’کھرے ‘‘کی نشاندہی ہو چکی،نئی جے آئی ٹی کا خیر مقدم کرتے ہیں: ڈاکٹر طاہر القادری

باقر نجفی کمیشن رپورٹ میں قاتلوں کی طرف جانیوالے ’’کھرے ‘‘کی نشاندہی ہو ...
باقر نجفی کمیشن رپورٹ میں قاتلوں کی طرف جانیوالے ’’کھرے ‘‘کی نشاندہی ہو چکی،نئی جے آئی ٹی کا خیر مقدم کرتے ہیں: ڈاکٹر طاہر القادری

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر  طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالاخر ساڑھے 4سال سے زائد عرصہ پر مشتمل ہماری طویل قانونی جدوجہد رنگ لائی اور حصول انصاف کی طرف پہلا قدم اٹھا،ہماری جگہ کوئی اور ہوتا تو کیس دفن ہو چکا ہوتا اور کسی کو قبر کا نشان بھی نہ ملتا،سنا ہے اے ڈی خواجہ پیشہ ور پولیس افسر ہیں اور وہ بے گناہوں کے قتل عام کی تفتیش کے ہر مرحلہ پرقانون و انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں گے، ہمیشہ اس بات کا مطالبہ کیا کہ جے آئی ٹی کے سربراہ کا تعلق پنجاب پولیس سے نہیں ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد سنیئر رہنماؤں کے ہنگامی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک جماعت ہیں،ہمیں پاکستان کے چپے چپے میں جانا جاتا ہے اور ہمارا ایک مضبوط تنظیمی نیٹ ورک ہے، اسکے باوجود میری قیادت میں پوری جماعت نے سر توڑ کوشش کی اور ساڑھے 4سال کی کٹھن جدوجہد کے بعد غیر جانبدار تفتیش کیلئے نئی جے آئی ٹی بنوانے کے پہلے مرحلے میں کامیاب ہو سکے،اس نظام میں غریب مقتولین اور مظلوموں کے ساتھ کیا بیتتی ہو گی؟ اسکا اندازہ اس ایک واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ تفتیش پہلا مرحلہ ہے امید ہے انصاف ہو گا،یہ بے گناہ انسانی جانوں کے خون کا معاملہ ہے،جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ میں قاتلوں کی طرف جانیوالے ’’کھرے ‘‘کی نشاندہی ہو چکی ہے، اب انشا اللہ چہروں کی شناخت ہو گی،وہ سوالات جنکے آج کے دن تک جواب نہیں دئیے گئے تھے موجودہ جے آئی ٹی کے ذریعے ان سوالوں کے جواب ملیں گے۔

یا د رہے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شہید تنزیلہ امجد کی بیٹی بسمہ امجد نے لاہور رجسٹری میں نئی جے آئی ٹی کیلئے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر درخواست دی تھی اور اس درخواست کی پیروی ڈاکٹر محمدطاہر القادری نے کی تھی اور نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کیلئے تفصیلی دلائل دئیے تھے جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم دیا اور پھر 5دسمبر کو ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اسلام آباد میں تفصیلی دلائل دئیے جس پر پنجاب حکومت کی طرف سے نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی تحریری یقین دہانی کے بعد لارجر بنچ نے بسمہ امجد کی درخواست نمٹا دی تھی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور