فواد چودھری کی مثبت تجویز

فواد چودھری کی مثبت تجویز

  



وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چودھری نے حزبِ اختلاف کو تعلقات کار اور مفاہمت کی دعوت دی اور کہا ہے کہ ادارے باہم دست و گریبان ہیں، آج اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل ہاتھ سے نکل جائے گا، فواد چودھری تحریک انصاف کی حکومت کے ”عقابوں“ میں شامل ہیں اور وہ حزبِ اختلاف کو نام لے لے کر ہدفِ تنقید بناتے رہے ہیں۔یہی فواد چودھری چیف آف آرمی سٹاف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا فیصلہ عدالت عظمیٰ میں چلے جانے کے بعد ہی سے ایسے موقف کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں،وہ جب تنقید کرتے تو سخت زبان استعمال کرتے تھے، جو مخالفین کے علاوہ ان کے صحافی دوستوں کو بھی مناسب نہیں لگتی تھی، مگر اب وہ یکایک اس نہج پر آئے ہیں اور بار بار اداروں کے درمیان کھچاؤ کی بات کرتے چلے آ رہے ہیں۔اب گذشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں انہوں نے تعاون کی بات کی اور خبردار کیا ہے۔ ان کی یہ بات مناسب ہے،لیکن خود ان کو بھی یہ احساس ہو گیا کہ الزام تراشی اور بدزبانی کی سیاست ہی نے تو نوبت اس مقام تک پہنچائی کہ پارلیمانی مخالفت ذاتی لڑائی میں بدلتی محسوس ہوئی اور ہو رہی ہے، یقینا اس سے گریز ہونا چاہئے کہ پارلیمانی جمہوریت میں تنقید کا انداز بہترین ہوتا ہے اور باہمی طور پر قوتِ برداشت بھی حد درجہ کی ہوتی ہے،لیکن یہاں تو ماحول ہی مختلف ہے کہ ایسے لوگ باقاعدہ نامزد کئے گئے ہیں،جو دشنام طرازی میں اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں اور مفاہمت یا مصالحت کی کوتی گنجائی نہیں رہتی۔یہ صفحات گواہ ہیں کہ ہم نے ہمیشہ ایسی سیاست کی مخالفت کی،جس میں الزام تراشی اور غیر پارلیمانی الفاظ ہی استعمال ہوتے ہوں اور کام کی کارروائی نہ ہو۔یہ کام تو بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا۔بہرحال اب بھی فواد چودھری کے منہ سے یہ بات اچھی لگی،لیکن صرف بیان کی حد تک رہے گی تو فائدہ نہیں ہو گا،ان کو آگے بڑھ کر خود وزیراعظم سے بات کرنا چاہئے، جو ان کی جماعت کے سربراہ بھی ہیں۔ اگر حکومت، یعنی حزبِ اقتدار کی طرف سے خوشگوار پیش قدمی ہو گی تو دوسری طرف سے بھی منفی جواب نہیں آئے گا اور تعلقات کار بھی بن جائیں گے۔ہم ان کے بیان کا خیر مقدم کرتے اور اس سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایک دوسرے کا احترام کریں،صرف ایسی صورت میں ہی ملک کی بہتری اور جمہوریت مضبوط ہو گی۔

مزید : رائے /اداریہ