تبدیلی سرکار میری عوامی سہولتیں مجھے لوٹا دو

تبدیلی سرکار میری عوامی سہولتیں مجھے لوٹا دو
تبدیلی سرکار میری عوامی سہولتیں مجھے لوٹا دو

  



عوام کو ایک کے بعد ایک سہولت سے محروم کرنے کے بعد صوبائی دارالحکومت لاہور اور گردو نواح کے علاقوں میں چلنے والی لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی (LTC) کی بسیں تمام روٹس پر بند کر کے عوام کو سفری سہولت سے محروم کردیا گیاہے۔ یہ تبدیلی سرکار حکومت کا ایک اور سیاہ کارنامہ ہے۔ 400 بسوں کا پہیہ رکنے سے 20 لاکھ شہری سفر کے لیے خوار ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب وزیرٹرانسپورٹ جہانزیب خان کھچی نے موقف دیا ہے کہ ایل ٹی سی کا نیا بورڈ بنا دیا گیاہے، بہت جلد شہریوں کو متبادل ٹرانسپورٹ دی جائے گی۔ یہ متبادل ٹرانسپورٹ کیا ہے؟ یہ موقف اس سفر کے مصداق ہے کہ ”خوشی سے مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا“ …… تبدیلی سرکا ر نے اپنی پالیسیوں سے مصدقہ طور پر 30 لاکھ نوجوانوں و محنت کشوں کو بے روزگار کردیاہے۔ مہنگائی کی سطح تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔سبزیاں عوام کی دسترس سے باہر ہوچکی ہیں۔ ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹ کی سہولت ختم کرد ی گئی ہے۔ لاہور شہرمیں اب صرف 200 سپیڈو بسیں رہ گئی ہیں، لیکن یہ میٹرو بس روٹ سے ملحقہ فیڈرروٹس پر آپریشنل ہیں۔

د وسری جانب لاہور سے شیخوپورہ، نارنگ منڈی، مرید کے، کامونکی،پتوکی، قصور، رائے ونڈ تک عوام کے لیے ایل ٹی سی بس کی جو معیاری اور سستی سفری سہولت تھی،ختم ہوگئی ہے۔ یہ بسیں اب کھڑی کردی گئی ہیں جو بہت جلد ناکارہ بن جائیں گی۔ ایک تو عوام سفری سہولت سے محروم، دوسرا بسیں کھڑی کرنے سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا دوہرا نقصان، وہ دوہرا نقصان پنجاب کے عوام اور خزانے پر بوجھ بنے گا ……مگر حکومت پنجاب سے کچھ پوچھنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔

ایل ٹی سی کا نیا بورڈ آف گورنر بنادیا گیاہے،کیا فائدہ، ایسے بورڈ آف گورنر کا جو ابھی تک سڑکوں پر بسیں نہیں لاسکا۔ عوام اپنے آپ کو اس قدر بے بس دیکھ رہے ہیں جس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔ ریلوے اسٹیشن سے بیدیاں روڈ، آر اے بازار، گرین ٹاؤن، ٹھوکر سے جلو، نیازی چوک سے گلبرگ، گرین ٹاؤن، جنرل بس اسٹینڈ سے باگڑیاں چوک، ویلنشیاٹاؤن سے ریلوے سٹیشن، سیکرٹریٹ سے آر اے بازار، ٹھوکر سے لاری اڈہ، جنرل بس سٹینڈ، لاہو ر سے نارنگ، شیخوپورہ، مریدکے، کامونکے، پتوکی، رائے ونڈ اور دیگر مقامات پر بسیں چلنے سے طلبہ و طالبات سرکاری، نیم سرکاری، پرائیوٹ ملازمین، بزرگ، معذور افراد،سفر کی باعزت سہولت حاصل کر رہے تھے، اب تبدیلی سرکار سے سرعام بے عزت ہورہے ہیں، جبکہ موجودہ حکومت صرف مکھی پر مکھی مار رہی ہے۔ ایک طرف تو موجودہ حکومت ملک کو مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا اعادہ کر رہی ہے، لیکن ستم ظریفی دیکھئے اس حکومت کی کہ معذور اور بزرگ شہریوں کو مفت سفر کی سہولت سے محروم کر دیا گیاہے۔ ماضی میں یہ طبقات بہت عزت و احترام سے سفر کی سہولت سے مستفید ہو رہے تھے۔ اس کی بدولت مسافروں کا ہر طبقہ اب چنگ چی رکشوں پر بیٹھ کر منز ل مقصود پر انتہائی تذلیل کے ساتھ پہنچ پاتاہے،جبکہ ان کا معاشی قتل الگ ہو رہا ہے۔

سپیڈو بس جو چل رہی ہیں ان میں ایل ٹی سی بس کی طرح طلبہ وطالبات کو رعایتی کرایہ 10 روپے کی ٹکٹ کی سہولت میسر نہیں ہے، اسی طرح ساٹھ سال کے بزرگ اور معذور افراد کو سپیڈو بسوں میں مفت سفر کی سہولت حاصل نہیں ہے حالانکہ ان بزرگوں، معذوروں، طلبہ و طالبات کے ایل ٹی سی نے کارڈ جاری کیے ہوئے ہیں۔

حکومت پنجاب اگر کچھ نیکی اپنے حصے میں ڈالنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ سپیڈو بسوں میں ان طبقات کو مفت و رعایتی سفر کی سہولت دینے کے لیے احکامات جاری کردے ……”شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات“۔ مَیں وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سے کہنا چاہتاہوں کہ وہ ذرا بھیس بدل کر ٹھوکر نیاز بیگ چوک یا کسی اور مقام پر کھڑے ہو کر عوام الناس کے ذلیل و خوار ہونے کا نظارہ تو اپنی آنکھوں سے کریں کہ وہ کس قدر بوسیدہ رکشوں پر بیٹھ کر سفر کرنے پر مجبو ہیں۔ اگر ان میں انسانیت ہوئی تو ان کی آنکھوں سے آنسو نہیں تو آنکھیں ضرور نم ہو جائیں گی۔ حکمرانو! اگر تم بہتری نہیں لاسکتے اور مزید کچھ دے نہیں سکتے تو پہلے سے دی گئی عوامی سہولتیں تو عوام سے نہ چھینو۔ اورنج لائن ٹرین، پشاور بی آر ٹی منصوبے کا مکمل نہ ہونا موجودہ حکومت کی نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔

اس وقت لاہور میں 1500 بسیں مختلف روٹس پر چلانے کی ضرورت ہے۔ نجی ٹرانسپورٹ کمپنیاں اگر بہتر سفری سہولتیں عوام کو دے رہی ہیں تو حکومت کو کیا مصیبت پڑ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لاہور بھی جلد کراچی جیسا کچرا کنڈی کا منظر پیش کرنے والا ہے۔ کئی دنوں سے ویسٹ آپریشن اس لئے معطل ہے کہ ویسٹ کمپنی نے معاہدے کے تحت تین ارب مانگ لیے ہیں، اگر حکومت نے ادائیگی نہ کی تو کمپنی ویسٹ نہیں اٹھائے گی۔ اس طرح موجودہ حکومت کی نااہلی کی بدولت لاہور بھی کراچی کچرا کنڈی جیسی حیثیت اختیار کر لے گا۔ آخر پی ٹی آئی حکومت عوام سے کس جرم کا بدلہ لے رہی ہے۔ پاکستان کے عوام موجودہ حکومت کے فیصلوں سے مصیبت کے شکار ہیں۔اگر حکمرانوں نے اپنے مینڈیٹ کے مطابق عوام الناس کو بنیادی سہولتیں فراہم نہ کیں تو موجودہ حکومت کی داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔ پھر تخت گرائے جائیں گے اور تاج اچھالے جائیں گے۔

مزید : رائے /کالم