احتساب بلا امتیاز کیا جائے

احتساب بلا امتیاز کیا جائے

  



پاکستان آج بھی سیاسی، جمہوری، معاشی اور تعلیمی شعبوں میں بدنظمی، بدامنی، افراتفری، انتشار اور عدم استحکام کا شکار ہے، وجوہ کی نشاندہی اور ان کا سدباب، کن لوگوں، اداروں اور طبقوں کی ذمہ داری ہے؟ موجودہ حالات خاصے پریشان کن ہیں۔ ان کے ذمہ دار بظاہر اور پس پردہ لوگوں اور حقائق پر نظر رکھ کر متعلقہ کوتاہیوں اور غلط کاریوں کی درستی اور اصلاح کی بلا تاخیر ضرورت اور تگ و دو لازم ہے۔ محب وطن اور باشعور لوگوں کو گاہے بگاہے خراج تحسین بھی پیش کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ اہم ملکی و قومی امور اور مسائل پر توجہ دے کر متعلقہ حکمران طبقوں اور اداروں کو اپنے فرائض سے نبردآزما ہونے پر قائل و مائل کرکے اصلاح احوال کی سعی کرتے ہیں۔کیا وجہ ہے کہ وطن عزیز میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام بدقسمتی سے تاحال بھی تسلسل سے جاری ہے، حالانکہ گزشتہ جولائی 2018ء میں، عام انتخابات کے انعقاد کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا قیام عمل میں آچکا ہے، لیکن عام لوگوں کی روزمرہ زندگی، سہل انداز سے گزارنے کے حالات تاحال دیکھنے میں نہیں آ سکے۔

حکومت کے حامی بعض وزراء حضرات اپوزیشن رہنماؤں کی کرپشن کے ارتکاب پر آئے روز ان کی تضحیک اور بدنامی پر مبنی اخباری بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ 16ماہ کی حکومتی مدت کے دوران بعض اپوزیشن رہنماؤں پر قومی دولت کی غیر قانونی لوٹ مار یا خورد برد پر، ان کے خلاف کچھ مقدمات بھی متعلقہ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، لیکن پھر بھی یہ الزام تراشی نسبتاً تلخ و ترش الفاظ و انداز اور جارحانہ لب و لہجے سے بعض نئے واقعات یا جرائم کے تذکرے کے ساتھ کافی زور دار آوازے کسنے کے وطیرے میں تسلسل سے ذرائع ابلاغ میں جاری رکھی اور دہرائی جاتی ہے، تاکہ عوام ان تمام الزامات پر بغیرکسی پس و پیش یقین کر لیں۔ جب تک وہ الزامات متعلقہ عدالتوں میں درست ثابت نہ ہوں اور ملزمان کو صفائی کے ضروری قانونی مواقع کی فراہمی کے بعد سزا دینے کے فیصلے صادر نہ کر دیئے جائیں،بلاشبہ مذکورہ بالا جرائم کے الزامات کو درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا؟

دلچسپ امر یہ ہے کہ الزام لگانے والے سیاسی رہنما ان حالات کو بخوبی جانتے ہوئے بھی اپنی الزام تراشی کی عادت اور روایت کو جاری رکھنے اور بار بار دہرانے کی روش پر اصرار کرکے شائد اپنے تئیں فخر محسوس کرتے ہیں، جبکہ مخاطب اپوزیشن کے رہنما بھی ایسے توہین آمیز الزامات اور القابات پر کچھ تردیدی تاثرات کا اظہار کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔

اس طرح باہمی تلخ گفتگو رکنے کی بجائے مزید طول پکڑ لیتی ہے،جبکہ دوسرے راؤنڈ میں پہلا فریق اپنی الزام تراشی پر شد و مد سے اصرار کرکے کشیدگی کے حالات پیدا کرنے کی جانب بڑھتا ہے تو جواب میں مخاطب اپوزیشن رہنما بھی اپنے موقف پر قائم رہ کر جاری بحث کو اپنے دفاع کے لئے استعمال کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ایسے سیاسی بیانات اور الزامات گزشتہ 16ماہ کے موجودہ حکومتی دور میں مختصر وقفوں یا تسلسل سے پڑھنے اور سننے میں آ رہے ہیں، جبکہ مذکورہ بالا نوعیت کے الزامات کو عدالتوں میں ثابت کرنے میں سال ہا سال گزر جاتے ہیں، کیونکہ زیریں عدالتوں کے مخالفانہ عبوری یا حتمی فیصلوں کے صادر ہونے کے احکام کے خلاف اپیلیں یا درخواست ہائے نظرثانی کی سماعت اور فیصلوں میں بھی مہینوں یا چند سال کے لئے متعلقہ فریقین کو مقدمات کی پیروی کرکے انتظار کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، کیونکہ مالی کرپشن یا بددیانتی کے الزامات کے دفاع کے لئے متعلقہ حضرات یا رہنما عدالتوں کے حتمی فیصلوں کے احکام کے بغیر اپنے خلاف الزامات کو کیسے تسلیم کرنے پر رضامند ہو سکتے ہیں؟ایسے ہی حالات میں گزشتہ 16ماہ سے ملک بھر میں حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کے مابین باہمی محاذ آرائی، بدتمیزی اور بدتہذیبی کے واقعات بدقسمتی سے کئی بار رونما ہو چکے ہیں۔

نیب کا ادارہ کرپشن کے سدباب کے لئے بیشک اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے۔ اس کی کارکردگی ملک بھر میں بلا امتیاز تعصب اور جانبداری جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومتی وزراء یا ان کے حامی بھی کچھ غیر قانونی کارروائیوں سے کرپشن،خورد برد اور لوٹ مار میں ملوث پائے جائیں تو ان افراد پر بھی جلد قانونی گرفت ضروری ہے۔ اربوں درخت لگانے کے منصوبے میں 47کروڑ روپے کی خوردبرد کی ایک خبر چند روز قبل سامنے آئی تھی، اس سے بھی اجتناب کیا جائے۔ رواں صورتِ حال سے ملک میں مہنگائی کی بناء پر اشیائے خورو نوش اور دیگر متعدد اشیاء عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہو گئی ہیں۔ اکثر لوگ غریب اور نادار ہونے کی بناء پر گزشتہ سوا سال سے اس مہنگائی سے بے حد پریشان، افسردہ اور نالاں ہیں، حالانکہ وطن عزیز ایک بڑا زرعی ملک ہے، جس کے وسائل، اب ماضی قریب سے بلا جواز طور پر عام لوگوں کے لئے نایاب ہو گئے۔

سابقہ حکمران جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورِ اقتدار کو بھی گزشتہ 70سال کی کرپشن کے احتساب کے لئے شامل کیوں نہیں کیا جا رہا؟ …… سرکاری افسر،ٹھیکیدار،وفاق اور صوبوں کے ذمہ دار سیاست کار حضرات تو وطن عزیز میں ایک دوسرے سے زیادہ مختلف نہیں ہیں تو پھر اس دور حکومت کو مکمل طور پر کرپشن اور غیر قانونی حرکات سے صاف اور پاک کیسے تصور اور قرار دیا جا سکتا ہے؟…… لہٰذا اس دور حکومت کے تعمیراتی منصوبوں، جو وفاق اور صوبوں میں تعمیر اور مکمل کئے گئے ہیں، ان کی بھی جانچ پڑتال کی جائے۔ نیز موجودہ عرصہء اقتدار میں بیرونی ممالک اور اداروں سے جو قرضے اور امداد وصول ہوئی تھی، اگر ان کی بھی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ طور پر انکوائری کرائی جائے تو اس کے نتائج سے بھی عوام کو جلد آگاہ کیا جائے۔درست احتساب کا مقصد بھی یہی ہے کہ کسی قریبی دور حکومت کو نظر انداز کرنے کی بجائے اس کے دوران منصوبوں کی عقابی نگاہوں سے باز پرس کریں۔ نوازشریف اور آصف علی زرداری کے حکمرانی کے ادوار کی طرح موجودہ دور حکومت کی بھی جلد انکوائری کرائی جائے۔ اس طرح نیب کی غیرجانبداری واضح ہو جائے گی۔ تمام مروجہ غلط کاریوں کے سدباب کے لئے ہمارے سیاسی رہنماؤں کو اسلامی تعلیمات پر خلوص نیت سے عمل کرنا اور کرانا چاہیے۔

مزید : رائے /کالم