بیوہ، پنشن، جنرل، سیاست،جسٹس گلزار،جسٹس وقار

بیوہ، پنشن، جنرل، سیاست،جسٹس گلزار،جسٹس وقار
بیوہ، پنشن، جنرل، سیاست،جسٹس گلزار،جسٹس وقار

  



جسٹس گلزار صاحب! ہم مزید کسی مہم جوئی کے متحمل نہیں ہوسکتے…… وما علینا الی البلاغ۔

پڑھنے والے سوچ رہے ہوں گے کہ ایک کالم کے اس پتھر سے عنوان کے اندر پھنسی اتنی چڑیاں کیسے ماری جائیں گی؟…… کالم پورا پڑھ لیں، نفع ہو گا۔کوچ کی اگلی نشست پر وہ دونوں جس محکمانہ مسئلے پر تبادلہء خیال کر رہے تھے، اس کا تعلق ایک بیوہ کی پنشن سے تھا۔ ان میں سے ایک اپنے محکمے کی طرف سے یہ چھان بین کرنے گیا تھا کہ مرحوم فوجی اہلکار کی بیوہ نے نئی شادی کر لی ہے یا نہیں؟ مَیں انہماک سے ان کی گفتگو سن رہا تھا۔ صوبیدار یا کوئی اور عہدیدار تھا، جس کی وفات کے بعد اس کی بیوہ کو پنشن ملنا شروع ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد بیوہ نے نئی شادی کر لی، لیکن ناخواندگی، کم علمی یاکسی اور سبب محکمے کو اطلاع نہ دی اور پنشن جاری رہی۔

محکمے کو اپنے ذرائع سے اطلاع ملی تو چھان بین کے لئے وہ شخص بھیجاگیا جو اب میری اگلی نشست پر بیٹھا اس بیوہ کے کسی محلے دار سے تبادلہء خیال کر رہا تھا جو واپس راولپنڈی کی طرف اس کے ساتھ آ رہا تھا۔ ان دونوں کی بات مکمل ہو گئی تو سمجھنے کی خاطر مَیں بھی ان کی گفتگو میں شریک ہو گیا۔ خود مجھے پتا تھا اور گفتگو سے بھی واضح ہو گیا کہ جس دن سے صوبیدار کی بیوہ نے کسی اور شخص سے نکاح کر لیاہے، اسی دن سے وہ پنشن کے حقوق سے محروم ہو گئی تھی۔ یہی عقلی نتیجہ ہے، یہی عقل ہے اور یہی قانون ہے اور شاید کل عالم میں یہی قانون ہے، بلاامتیازملک و ملت و مسلک وغیرہ۔ قانون فطرت یہی ہے!

پنشن اور دیگر معنوی فوائد اور مراعات کے ساتھ ساتھ پینشنر کو اپنے محکمے کی طرف سے کچھ جذباتی، لگاوٹ بھرے، غیرحسی اور اخلاقی تعلقات کار بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ماموں عارف کوایس ایس جی سے ریٹائر ہوئے مدتیں ہو چکی تھیں، لیکن 1980ء میں ہمارے اس قابل فخر ادارے کی ری یونین ہوئی تو مدتوں بعد ادارے نے ماموں عارف کو بھی بلایا۔ ایک وہی کیا، ماموں مجھے بھی اپنے ساتھ چراٹ ایس ایس جی ہیڈ کوارٹر لے گئے تو، دیکھا وہاں ریٹائرڈایس ایس جی افسروں کا ایک رنگارنگ گلدستہ خوشبوئیں بکھیر رہا ہے۔ جنرل گل حسن، جنرل ابوبکر عثمان مٹھا اور متعدد دیگر اعلیٰ افسر بغیر کسی عہدیدارانہ تفریق کے گھر کے فرد کی طرح ایک دوسرے سے مل رہے ہیں، ہنس رہے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ ان کی جگتیں بھی سہہ رہے ہیں۔ اسی طرح ملاحظہ کیجئے کہ فوجی افسروں نے ایکس سروس مین ایسوسی ایشن بنا رکھی ہے۔ افسر اپنے طے شدہ دورانیہ میں ملتے ہیں، تبادلہء خیال کرتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں، معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں اور نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت ہو جاتے ہیں۔ تب یہ لوگ سابقہ فوجی کہلاتے ہیں۔

فوج انہیں بھلاتی نہیں اور نہ بھلانا چاہیے۔ ان لوگوں کا حق ہے کہ فلاحی کام کریں، کاروبار کریں، سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیں، ریاستی امور میں اپنا کردار ادا کریں، اہلیت کے حامل ہوں تو حکومتی و ریاستی منصب بھی سنبھالیں۔ یہ سب کچھ ان کے حقوق میں سے ہے اور فوج کی غالب اکثریت ریٹائرمنٹ کے بعد یہی کچھ کرتی ہے۔ یہ کچھ کرنے کے بعد وہ اپنے ادارے سے نہ صرف لاتعلق نہیں ہوتی،بلکہ ادارہ بھی انہیں نہیں بھولتا، چاہے وہ میرے ماموں حوالدار عارف ہوں، یا ان کے بے حد سینئر افسر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا ہوں، چنانچہ آپ میں سے ایک فی لاکھ بھی اس بات سے اختلاف نہیں کرے گا کہ فوج اور فوجی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

جنرل حمید گل، جنرل اسلم بیگ، جنرل گل حسن، جنرل وحید کاکڑسب نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھرپور زندگی گزاری اور بقیہ گزاررہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ جنرل یحییٰ خان جیسا شخص بھی اپنی توقیر و احترام کے حجم میں ان سب کے برابر ہے۔ وفات پر اسے قومی پرچم میں لپیٹ کر دفنایا گیا جو فوجی روایات و قواعد کے عین مطابق اور درست ہے۔ خلاصہء کلام یہ کہ پنشن تو ہوئی مرحوم فوجی اہلکار کوسابقہ خدمات کے عوض بطور کچھ معاوضہ، لیکن پنشن اور دیگرغیرحسی اور جذباتی حقوق مراعات اس بیوہ کو حاصل وہ حقوق ہیں جو دوسری شادی کرتے ہی چھن جاتے ہیں، چنانچہ قارئین کرام اگر کوئی جنرل ریٹائرمنٹ کے بعد پیپلز پارٹی کا سیکرٹری جنرل بن جائے تو کیا وہ انہی ادب و آداب کا حق دار ہے جو جنرل کاکڑ کو حاصل ہیں؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہو تو بدقسمتی کے لئے تیار رہیں۔کل کوئی دوسرا جنرل جماعت اسلامی کا امیر بن سکتا ہے،کوئی تیسرا اسفند یار ولی کا یار بن سکتا ہے، چوتھا نواز شریف کی جماعت میں شامل ہو سکتا ہے۔ جب یہ کیفیت بن گئی تو پھر ادارے کے اندر بھی دھماچوکڑی اور اضطراب و بے چینی کے لئے کمر کس لیں۔ اس اسلوب پر سیاست تو چل سکتی ہے، ملک کا دفاع ایک بڑے سوالیہ نشان کے آگے سوال بن کر کھڑا ہو گا۔

جنرل ٹکا خان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے تو سادگی اور بے ساختگی کا دور تھا، کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ اُدھر ایک دوسرے جنرل صاحب نے ریٹائر ہو کر اپنی سیاسی جماعت بنائی، اسے الیکشن کمیشن میں رجسٹر کرایا، اس کے تحت انتخابات میں حصہ لیا اور تمام مراعات اور پروٹوکول کے ساتھ۔ تو پھر اس صوبیدار کی بیوہ کی دوسری شادی پر پنشن کیوں بند ہو جاتی ہے؟ یہی ناں کہ ا ب پنشن عقل عام اور قانون فطرت یا قانون قدرت کے خلاف ہے۔ تو پھر ایک جنرل صاحب کے ریٹائر ہو کر سیاسی جماعت بنانے، الیکشن کمیشن میں رجسٹر کرانے، انتخابات میں حصہ لینے پر وہی قانون فطرت یا قانون قدرت کس گوشہء خمول میں سونے چلا جاتا ہے۔ اگر مرحوم صوبیدار کی غریب بیوہ کی دوسری شادی پر اس کی پنشن بند ہو سکتی ہے تو ریٹائرڈ جنرل صاحب اپنی سیاسی جماعت بنا کر کیوں آن بان، شوکت و شان، ہٹوبچو اور سرکاری مراعات و دبدبے کے ساتھ انتخابات میں حصہ لے۔ یہ وہ سوال ہے جو ستر کی دہائیٰ میں جنرل ٹکا خان کے وقت توجہ حاصل نہیں کر سکا۔ اس سوال کا جزوی اور ابتدائی سا جواب تو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب سیٹھ وقار نے دے دیا ہے۔

ان کے اس جواب پر مَیں نہیں سمجھتا کہ کہیں کسی جگہ اضطراب و بے چینی کی کوئی گنجائش ہو سکتی ہے۔ جس دن سے صوبیدار کی بیوہ نے کسی اور شخص سے نکاح کر لیا، اسی دن وہ پنشن کے حقوق سے محروم ہو گئی تھی۔ ذرا نوے کی دہائی میں وہ واقعہ یاد کریں۔ سندھ میں ایک فوجی افسر نے اپنی ذاتی زمینوں کے کسی تنازعے میں ادارے کو استعمال کر کے کچھ افراد مار ڈالے تھے۔ قانون فطرت اسی وقت حرکت میں آیا اور اس فوجی افسر کو موت کی سزا دے دی گئی۔ ذرا یاد کریں عوام میں اس نمونہء انصاف کو کس قدر پذیرائی حاصل ہوئی تھی اور پاک فوج کی قدرومنزلت میں کتنا زیادہ اضافہ ہو گیا تھا؟مغربی دنیا میں اگر کسی وکیل پر کوئی مقدمہ بن جائے تو بار اس کی رکنیت معطل کر کے اسے قانون کا سامنا کرنے کو کہتی ہے۔ دور کیوں جائیں؟ جونیجو کابینہ کے ایک وزیر انور عزیز پربدعنوانی کا صرف الزام لگا تو جونیجو نے ان سے استعفیٰ لے کر قانون کا سامنا کرنے کو کہا۔ آئین کی حفاظت اور اس کے تسلسل کا حلف کسی ایک فرد کا نہیں ہوتا، پورا ادارہ اسی عقل عام کے تحت آئین کے تحفظ کا اسی طرح پابند ہوتا ہے جس طرح سرحدوں پر دشمن کے حملے کی صورت میں ہر عہدیدار مقدور بھر جواب دینے کا پابند ہے۔

مختلف افراد اور ادارے جو خود کو ملک کے لئے ناگزیر قرار دیتے ہیں اور بعض کے خیال میں قومی یک جہتی اور اتحاد کی بس وہی علامت ہیں تو ان کی خدمت میں عرض ہے……”ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ“…… عدلیہ ہو یا دفاعی ادارے، جامعات ہوں یا محصولات جمع کرنے والے ادارے، یہ سب ملک و قوم کے لئے ناگزیر ہیں۔ ان کی اس ناگزیریت کا اصل الاصول وہ جذب باہم ہے جو ان اداروں میں توازن قائم رکھتا ہے۔ رموز مملکت کی اصطلاح میں اس جذب باہم کو دستور یا آئین کہتے ہیں۔ اے خبردار! یہی دستور ملک کے تمام اداروں اور جغرافیائی و لسانی اکائیوں کے مابین ایک خوبصورت جذب باہم ہے۔ کسی غلط فہمی، اضطراب و بے چینی کے شکار افراد کو مَیں ایک بار پھر یاد دلا دوں کہ 25 مارچ 1969ء سے 16 دسمبر 1971ء تک اتحاد و یک جہتی کی تمام خود ساختہ علامتیں تو موجو دتھیں،آئین رخصت کر دیا گیا تھا،ہم آدھا ملک کھو بیٹھے اور پھر ہمارے سامنے ترانوے ہزار کا عدد تھا اور ہم تھے دوستو! یہ کیا جگہ ہے، یہ کون سا دیار ہے!

اس دستور نامی جذب باہم کا احترام کرنا تمام اکائیوں کا فرض ہے۔ غلط فہمی کے شکار بعض نادان افراد کو جسٹس وقار سیٹھ نے بڑے دانش مندانہ انداز میں یاد دلا دیا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ ہر وہ شخص، جسے ملک، قوم اور اپنے مستقبل سے ذرا بھی لگاؤ ہے، وہ جسٹس وقار سیٹھ کے لئے دن رات دعائیں کرے گا……اور ہاں جسٹس گلزار احمد بھی تو اسی دستور کے محافظ ہیں۔ قوم توقع کرتی ہے کہ جس دریچے کی چٹخنی جسٹس وقار سیٹھ نے کھولی ہے، جسٹس گلزار احمد اس پورے دریچے کو روشنی اور تازہ ہوا کی آمد و رفت کے لئے کھول دیں گے۔ اس تیرگی و ظلمت اور سناٹے میں ہم آدھا ملک کھو بیٹھے ہیں۔ جسٹس گلزار صاحب! ہم مزید کسی مہم جوئی کے متحمل نہیں ہوسکتے:

اس کے مضراب سے جب راگ بنیں گے دیپک

میگھ چپکے سے مرے دل پہ برس جائے گا

جس دن سے صوبیدار کی بیوہ نے کسی اور شخص سے نکاح کر لیا، اسی دن وہ پنشن کے حقوق سے محروم ہو گئی تھی۔ اس تیرگی و ظلمت اور سناٹے میں ہم آدھا ملک کھو بیٹھے ہیں۔ جسٹس گلزار صاحب! ہم مزید کسی مہم جوئی کے متحمل نہیں ہو سکتے، جس دریچے کی چٹخنی جسٹس وقار سیٹھ نے کھولی ہے، آپ اس پورے دریچے کو روشنی اور تازہ ہوا کی آمدورفت کے لئے کھول دیں۔

مزید : رائے /کالم