ملک بھر میں پہیہ جام، مسافر پریشان، رات گئے، حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے مذاکرات کامیاب، ہڑتال ختم، اضافی جرمانوں کا نوٹیفکیشن واپس

ملک بھر میں پہیہ جام، مسافر پریشان، رات گئے، حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے ...

  



لاہور، کراچی، اسلام آباد،پشاور کوئٹہ، فیصل آباد، ملتان،سیالکوٹ گوجرانوالہ (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں، نمائندگان) ملک بھر میں ٹرانسپورٹروں اور گڈز ایسوسی ایشن نے   بھاری جرمانوں کے خلاف پہیہ جام ہڑتال کردی۔ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پربھاری جرمانوں کے خلاف احتجاجاً ٹرانسپورٹرز نے مختلف شہروں میں گاڑیاں بند کردیں۔ٹرانسپورٹرز کا مطالبہتھا کہ نیشنل ہائی ویز پرپارکنگ فیس کا اجرا فوری بند اوراضافی ٹول پلازے ختم کیے جائیں۔پبلک ٹرانسپورٹرز نے موٹروے پر ٹول ٹیکس اور جرمانوں کی شرح میں اضافے کے خلاف پہیہ جام ہڑتا ل صبح ہی شروع کردی، دوسرے شہروں کو جانے والے مسافروں کو اڈوں پر پہنچ کر ہڑتال کا پتہ چلا تو وہ پریشان ہوگئے، سارا دن ہڑتال ختم ہونے کا انتظار کرتے رہے، شدید سردی میں خواتین اوربچے بھی ٹھٹھرتے رہے اور حکومت اور ٹرانسپورٹرز کو کوستے رہے۔ٹرانسپورٹرز، ڈرائیورز اور ورکرز سارا دن وقفے وقفے سے احتجاج کرتے رہے جبکہ ان کے نمائندے انتظامیہ سے مذاکرات میں بھی مصروف رہے۔بالآخر شام کو حکومت اور ٹرانپورٹرون نمائندوں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے  ترانسپورٹرون نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا جبکہ جرمانوں مین اضافے کا  نوٹیفکیشن  واپس لینے اور گرفتار ڈرائیورز کو رہا کرنے کا اعلان کر دیااس  سے قبل  گجرات،حافظ آباد،جامکے چٹھہ،پنڈی بھٹیاں،وزیرآباد،شورکوٹ،ٹوبہ ٹیک سنگھ،گوجرہ،کمالیہ،ہارون آباد،بورے والا،اوکاڑہ،بصیرپور،ننکانہ صاحب،ننکانہ صاحب،نارنگ منڈی،سانگلاہل،شہرہ ورکاں سے روز نامہ پاکستان کے نمائند گان کے مطابقپہیہ جام ہڑتال کے باعث شہروں کا رابطہ ملک بھر سے کٹ کر رہ گیا۔ سفر کرنیوالے سینکڑوں افراد کو جانے اور واپسی کیلئے شدید ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔،ٹرک‘ بس‘ ویگن اسٹینڈ ویران اور سڑکیں سنسان نظر آئیں  مسافروں کو بھاری بھر کم کرایہ جات پر کرایہ پر گاڑیاں حاصل کرنا پڑیں۔ مسافروں کی بڑی تعداد نے ریلوے اسٹیشنوں کا رخ کیا گجرات‘ لالہ موسی‘ کھاریاں اور سرائے عالمگیر میں ریلوے پر سفر کرنیوالے مسافروں کے زبردست رش کے باعث دھکم پیل بھی نظر آئی عوامی حلقوں اور شہریوں نے ہڑتال پر حکمرانوں کو کوستے ہوئے کہا ہے کہ غریب طبقے کا سانس لینا بھی دوبھر ہو چکا ہے بدترین مہنگائی اور ہوشربا مہنگائی کے ہاتھوں عوام خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں ایسے حالات میں سال کے آغاز پر عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تحفہ دیکر ان کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی ہے ایسے حالات میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ہونا فطری عمل ہے حکومت کو ظالمانہ پالیسیاں بدلنے کی ضر ورت ہے۔۔ مسافر سڑکوں پر رل رہے ہیں اور منہ مانگے کرائے دیکر رکشوں اور ٹرالیوں پر سفر کر رہے ہیں جبکہ مال بردار گاڑیوں کے مالکان نے بھی گاڑیاں کھڑی کردی  ہیں جس سے تاجر طبقہ کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گاڑ یوں کا پہیہ جام ہو نے کی وجہ سے اخبارات بھی مختلف شہر وں میں نہ پہنچ سکے۔ سارا دن پہیہ جام ہڑتال رہی، جی ٹی روڈ سنسان، ہو کاعالم، عوام الناس زلیل وخوار،سڑک کنارے ریڑھی لگانے والے بھی پریشان ہوگئے۔ مسافروں کئی کئی گھنٹے گاڑی کے انتظار میں کھڑیرہے مگر کوئی گاڑی نہیں آئی جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑامسافروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ۔جلد از جلد ٹرانسپورٹ کو چلوایا جائے تاکہ ان کی پریشانی ختم ہو سکے۔ ٹرانسپورٹرز  کے ساتھ ساتھ گڈز ٹرانسپورٹ کی بھی مکمل ہڑتالدور دراز علاقوں میں جانے والے مسافر پرائیویٹ ٹیکسی اور رکشہ کا سہارا لینے پر مجبور تھے بس اور ویگن اسٹینڈز پر مسافر خوار ہوتے رہے سڑکوں پر ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر تھی ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور مالکان نے گاڑیاں بند کر کے بس اسٹینڈ پر کھڑی کر دیں جس سے سینکڑوں مسافر شدید پریشانی سے دو چار ہیں نارووال میں پر گڈز ٹرانسپورٹرز نے حکومت کے خلاف ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی،گڈز ٹرانسپورٹرز نے ظفروال بائی پاس سے بجلی گھر چوک تک احتجاجی ریلی نکالی،احتجاجی مظاہرین نے پر لوڈڈ ٹرکوں پربینرز آویزاں کررکھے تھے،بینرز پر اضافی ٹول ٹیکس اور روٹ پرمنٹ میں اضافہ نا منظور کے الفاظ درج تھے،ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکسوں میں بے جا اضافہ ٹرانسپورٹرز کا معاشی قتل کرنے کی کوشش ہے،حکومت ٹرانسپورٹرز پر لگائے جانے والے اضافی ٹیکس فوری واپس لے،ٹرانسپورٹرز  اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی بھی کرتے رہے۔گڈز ٹرانسپورٹر نے مطالبات تسلیم نہ کرنے پر احتجاج جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ہڑتال

مزید : صفحہ اول