امریکہ مسئلہ کشمیر پراپنا اخلاقی فرض اد ا کرے، بھارت کو مظالم سے روکے: اسد مجید

        امریکہ مسئلہ کشمیر پراپنا اخلاقی فرض اد ا کرے، بھارت کو مظالم سے روکے: ...

  



واشنگٹن(اظہر زمان،بیورو چیف) امریکہ کوچاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر میں دلچسپی لیتے ہوئے اپنا اخلاقی فرض ادا کرے اور بھارت کو مظالم سے ر وک کشمیری عوام کو آزادی کے حصول میں مدد کرے۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان نے یہ اپیل یہاں کیپٹل ہل کے موقر جر ید ے ”دی ہل“ چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا 5 اگست کو بھارت نے اس وادی کی خصوصی خود مختار حیثیت ختم کر کے کشمیری عوام کا جو لاک ڈاؤن کیاتھا اس کے تقریباً 150 دن گزر گئے ہیں اور اس کے کشمیریوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پا کستانی سفیر نے رائٹر نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کشمیر کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کشمیر کی معیشت کو 24 کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے جبکہ کشمیر چیمبر آف کامرس نے خبردار کیا ہے کہ یہ بحران 2020ء میں زیادہ شدت اختیار کر سکتاہے۔پاکستانی سفیر نے اپنے مضمون میں مزید لکھا ہے کہ کشمیر میں انٹر نیٹ کے شٹ ڈاؤن کے با عث پیغامات دینے کے مقبول پلیٹ فارم ”ویٹس اپ“ سے بے شمار کشمیری صارفین غائب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کشمیر کے بارے میں دو امریکی اخبارات کی رپورٹوں کا حوالہ بھی دیا۔ نیو یارک ٹائمز نے ایک حالیہ تبصرے میں لکھا تھا کہ بھارت انٹرنیٹ کا لاک ڈاؤن کرنیوالے ممالک میں سر فہرست چلا گیاہے ”واشنگٹن پوسٹ“ نے ایک اداریے میں لکھا تھا کہ ایسے آشوب زوہ حالات میں کوئی ملک کیسے جمہوری ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے پاکستانی سفیر اسد مجید نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی گروپو ں امر یکی اخبارات کے ایڈیٹوریل بورڈز اور کانگریس کے اندر بھارتی مظالم کی شدید تنقید کے باوجود امریکہ میں بعض ایسے عناصر موجود ہیں جو کشمیر کے حوالے سے واقعی بھارت کو ایک قابل اعتبار ملک قرار دیتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ ہے جسے ڈیل کرنے کا اسے پورا اختیار ہے پاکستانی سفیر لکھتے ہیں کہ صورتحال کے ایسے تجزیے میں جو ہر ی ہتھیاروں سے لیس اس خطے کے انسانی حقوق کے بحران کویکسر نظر انداز کر دیا گیا، مضمون میں مزید لکھا گیا ہے کہ بھارت نے جعلی خبروں اور ڈس انفارمیشن کے ذریعے سا ئبر جنگ شروع کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اس میں وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے، کانگریس کے بعض ارکان نے اسے بجا طور پر اسے انسانی ہمدردی کا بحران قرار دے رکھا ہے۔ بھار ت کی بجائے پاکستان نے یکے بعد دیگر ے قیام امن کی خواہش کے اظہار کے طور پر متعدد اشارے دئیے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان سے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ اگر بھا ر ت نے قیام امن کیلئے ایک قدم اٹھایاتو پاکستان اس سمت میں دوقدم اٹھائے گا، لیکن اس کی بجائے اب کشمیر کو ہڑپ کرنے کی کوشش کر رہاہے۔ پاکستانی سفیر نے لکھا ہے کہ نومبر میں پاکستان نے سکھوں کو عبادت کی سہولت دینے کیلئے کرتار پور کوریڈور کو کھولا جبکہ بھارت وہاں بابری مسجد جیسی مسلمانوں کی عبادت گا ہو ں میں ان کا قبضہ ختم کر کے ہندو انتہا پسند و ں کو خود ہاں کارروائیاں کرنے کا موقع فراہم کر رہاہے۔ پاکستانی سفیر نے اپنے مضمون میں دضا حت کی کہ کشمیر مسئلہ 1948ء سے لے کر اب تک ایک بین الاقوامی مسئلہ چلا آ ر ہا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیری عوام کو اختیار دینے سے حل ہو سکتا ہے جب وہ استصواب رائے کے ذریعے اپنی تقدیر کا فیصلہ کر سکیں۔

اسد مجید

مزید : صفحہ اول