آرمی ایکٹ میں ترمیم، اپوزیشن راضی، بل آج سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور ہونے کا امکان 

    آرمی ایکٹ میں ترمیم، اپوزیشن راضی، بل آج سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کرنے اور نظرثانی اپیل پر لارجر  بنچ بنانے کی درخواست دائر کردی۔وفاقی حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق فیصلے پر نظرثانی درخواست کے بعد سپریم کورٹ میں مزید دو متفرق درخواستیں دائر کردیں۔ 2 الگ الگ درخواستوں میں حکم امتناع جاری کرنے اور لارجر بینچ کی استدعا کی گئی ہے۔۔ حکومت نے عدالت سے استدعا کی کہ نظرثانی درخواست پر فیصلے تک 28 نومبر کے حکم پرعملدرآمد معطل کیا جائے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 28 نومبر کو پارلیمنٹ کو 6 ماہ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کرنے کا حکم دیا تھا۔ 26 دسمبر کو حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔دریں اثنا وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اAرمی چیف ایکسٹنشن نظر ثانی کیس بطور وکیل لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ انہوں نے وزیر رہتے ہوئے بطور وکیل پیش ہونے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع بھی کر لیا  وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ آرمی چیف ایکسٹنشن نظر ثانی کیس میں بھی وہ جنرل باجوہ کی وکالت کرینگے، مگر اس مرتبہ وزارت سے استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں، اس مقصد کیلئے انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کر دی ہے۔وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ وزیر رہتے ہوئے بطور وکیل پیش ہونے سے متعلق ایک عدالتی فیصلہ موجود ہے جو انہیں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل (آج)جمعہ کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (قومی اسمبلی،سینیٹ) میں پیش کیا جائیگا۔وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی  اجلاس میں شرکت کریں گے،عمران خان پارلیمنٹ ہاؤس میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی صدارت بھی کرینگے۔۔وزیراعظم قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس میں صبح 10بجے  پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔، اجلاس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی پارلیمنٹ سے منظوری کی حکمت عملی طے ہوگی۔وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی میں شامل تمام ارکان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے حکومت کی جانب مسودہ  قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کیا جائیگا۔آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حکومتی مسودے کو پاکستان آرمی ترمیمی ایکٹ 2020کا نام دیا گیا ہے۔مسودے کے مطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت تین برس ہو گی جس میں مزید تین سال کی توسیع کی جا سکے گی۔پاک فوج کے سربراہ کی تعیناتی یا توسیع صدر پاکستان وزیراعظم کے مشورے پر کریں گے اور اسے عدالت میں کسی صورت چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔دوسری طرف آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حکومتی بل  کا مسودہ منظرعام پر آگیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق  بل کو پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 کا نام دیا گیا ہے۔آرمی ترمیمی ایکٹ کے بل میں ایک نئے چیپٹرکا اضافہ کیا گیا ہے، اس نئے چیپٹر کو آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تعیناتی کا نام دیا گیا ہے۔اس بل میں آرمی چیف کی تعیناتی کی مدت تین سال مقررکی گئی ہے جب کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت پوری ہونے پر انہیں تین سال کی توسیع دی جا سکے گی۔ترمیمی بل کے مطابق وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی مفاد اور ہنگامی صورتحال کا تعین کیا جائے گا، آرمی چیف کی نئی تعیناتی یا توسیع وزیراعظم کی مشاورت پر صدر کریں گے۔ترمیمی بل کے تحت آرمی چیف کی تعیناتی، دوبارہ تعیناتی یا توسیع عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکے گی اور نہ ہی ریٹائر ہونے کی عمر کا اطلاق آرمی چیف پر ہو گا۔علاوہ ازیں ترمیمی بل کے مطابق پاک فوج، ائیر فورس یا نیوی سے تین سال کے لیے چیئرمین جوائنٹ چیفس کو تعین کیا جائے گا جن کی تعیناتی وزیراعظم کی مشاورت پر صدر کریں گے۔ترمیمی بل کے مطابق اگر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی پاک فوج سے ہوا تو بھی اسی قانون کا اطلاق ہو گا، ساتھ ہی چیئرمین جوائنٹ چیفس کو بھی تین سال کی توسیع دی جائے گی۔آرمی ترمیمی ایکٹ کے بل میں مزید بیان کیا گیا ہے کہ کسی قسم کے تنازع کی صورت میں بھی اسی قانون کا اطلاق جاری رہے گا۔دریں اثنا مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کا فیصلہ کر لیا۔اس  سلسلے میں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی صدارت میں پیپلز پارٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت سے کہا جائے گا کہ اس اہم معاملے میں جلد بازی نہ کی جائے، پی پی پی ارکان نے مسودہ نہیں دیکھا، انہیں تیاری کا موقع دیا جائے۔۔ اس سے قبل مسلم لیگ (ن) نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں سینیٹ کے قائد ایوان شبلی فراز اور وزیر مملکت پارلیمانی امور اعظم سواتی پر مشتمل وفد نے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سابق وزیر دفاع خواجہ آصف، سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور رانا تنویر نے حکومتی وفد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر حکومتی وفد نے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی پر حمایت کی درخواست کی۔مذکورہ ملاقات کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے پرویز خٹک نے بتایا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 3 جنوری کو یہ معاملہ پارلیمان میں پیش کر دیا جائے گا۔دوسری جانب رہنما مسلم لیگ (ن) مشاہد اللہ خان نے بتایا کہ پارٹی نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی مکمل حمایت کر دی ہے۔ حکومتی اراکین کے ساتھ اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ لندن میں موجود پارٹی قیادت نے بل کی اتفاق رائے سے منظوری کی ہدایت دی ہے۔علاوہ ازیں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر غور کے لیے مسلم لیگ (ن) کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس راجا ظفر الحق کی صدارت میں منعقد ہوا۔اس اجلاس میں اراکین کو حکومتی وفد کے ساتھ ہونے والی ملاقات پر بریفنگ دی گئی جس پر پارٹی ارکان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت کے توسیعی بل کو متفقہ طور پر منظور کرانے کا عندیہ دیا۔اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کے اراکین کا موقف تھا کہ اپوزیشن کو ایک ساتھ ہو کر اس معاملے پر آگے بڑھنا ہوگا۔ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن)کی قیادت نے اس حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ ان کی جماعت آرمی چیف کے عہدے کو متنازعہ نہیں بنانا چاہتی، اس لیے پارٹی آرمی ایکٹ میں ترمیم کی غیر مشروط حمایت کرے گی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بعد ازاں ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں بتایا کہ حکومتی کمیٹی کے اراکین متوقع قانون سازی پر بات چیت کیلئے زرداری ہاؤس اسلام آباد آئے تھے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری قانون سازی کو مثبت طریقے سے طے کرنا چاہتی ہے۔ تاہم کچھ سیاسی جماعتیں قانون سازی کے قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھنا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جتنی اہم قانون سازی ہے، اتنا ہی اہم ہمارے لئے جمہوری عمل کی پاسداری ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اس معاملے پر دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے گی۔دریں اثنا عوامی تیشنل پارٹی کے اسفند یا ر ولی نے بھیآرمی ایکٹ مین ترمیم کی حمایت کر دی ہے،دوسری طرف  پاک افواج کے ایکٹس میں ترمیم کے معاملے پر حکومتی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہو۔وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کو بریفنگ دی جو سوالات ہوئے اس پر تسلی کی گئی صبح ساڑھے بارہ بجے دوبارہ اجلاس ہو گا۔ وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ جمع? المبارک کو دوبارہ اجلاس ہوگاآج انشائللہ قومی اسمبلی سے اسکی منظوری ہوجائے گی، فضل الرحمن اور چند دیگر رہنماوں سے رابطہ ہونا باقی ہے، فضل الرحمن اور دیگر رہ جانے والے رہنماوں سے رابطہ ہوگارائع کے مطابق وفاقی حکومت کی آرمی ایکٹ کی مجوزہ ترمیم کی تفصیلات سامنے آگئیہیں، اب چئیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی تینوں سروسز سے آسکیں گے۔ذرائع کے مطابق سروسز چیفس کی مدت ملازمت سے متعلق قانونی ابہام کو دور کرنے کے بعد افواج پاکستان سے متعلق تین قوانین میں ترمیم کی جائینگی، 3 قوانین سے متعلق ترمیمی مسودے پارلیمانی کمیٹی کو پیش کر دئیے گئے۔ذرائع کے مطابق آرمی ایکٹ، نیول ایکٹ، ایئر فورس ایکٹ میں ترامیم کی جائے گی، تینوں قوانین میں سروسز چیفس کو چیئر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی بنانے سے متعلق ترمیم کی جا رہی ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ قوانین میں چاروں سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع، دوبارہ تقرری کی شقیں ڈالی جا رہی ہیں، قوانین میں چاروں سروسز چیفس کی عمر حدود ملازمت 64 سال کی گئی ہے۔

غیر مشروط حمایت

مزید : صفحہ اول