جسٹس شوکت عزیز کے الزامات کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا جائے، سینیٹ اجلا س میں اپوزیشن کا مطالبہ

جسٹس شوکت عزیز کے الزامات کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا جائے، سینیٹ اجلا س ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)جمعرات کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا۔ سینیٹ میں اپوزیشن کی جانب سے سینیٹر مشاہد اللہ نے جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز کے الزامات کو کسی فورم پر ڈسکس نہ کیا گیا تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ انہوں نے جو کچھ کہا تھاوہ وہ درست ہے، کوئی کمیشن بننا چاہئے تاکہ یہ فیصلہ ہو کون صحیح، کون غلط ہے؟جسٹس سیٹھ وقار نے جو فیصلہ کیا وہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ  ریاست مدینہ کی تاریخ پڑھیں اس میں نہ کہیں حریم شاہ نظر آئے گی نہ ہی صندل خٹک۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ طلبہ تنظیمیں بحال ہونی چاہئیں، اسٹوڈنٹس لیڈرز کو آنے نہیں دیا   گیا جس کے نتیجے میں ہیروئن بیچنے والے بھی پارلیمنٹ میں پہنچ گئے۔سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ہم نے بجلی بنا کر دی، موجودہ حکومت کے پاس عملدرآمد ٹیم نہیں،بڑھک مارنے اور تقریر کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، پرویز مشرف  ایک فون کال پر ڈھیر نہ ہوتے تو 70ہزار جانوں کا نذرانہ نہ دینا پڑتا، مدینہ کی ریاست کی بات کرنے والے مشرف کو سپورٹ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ثاقب نثار نے جج ارشد کو کہا کہ نواز شریف کو ہر قیمت پر سزا دینی ہے۔پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرا مندتنگی نے کہا کہ حکومت ابھی تک کنٹینر سے نہیں اتری،انہیں حساس ذمہ داری نہیں، احساس ہوتا تو معیشت کی یہ حالت نہ ہوتی،پارلیمنٹ کو 120 دن تالا لگایا گیا، نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ سب سے بہترین سال معیشت کا 1970 گزرا اور گزشتہ سال خراب ترین گزرا،بلوچستان میں 87فیصد لوگ دن میں دو ڈالر نہیں کما سکتے، جون 2018سے اب تک سبزی کی قیمتیں دو سو فیصد بڑھی ہیں،گیس پیٹرول،ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، انتخابی مہم میں عمران خان نے 17 وعدے کیئے،،عمران خان نے کہا تھا میٹرو نہیں بناؤں گا، ڈالر مہنگا نہیں کروں گا، قرضہ لینے نہیں جاؤں گا، 50 لاکھ گھر بناؤں گا، اداروں میں میرٹ لاؤں گا، ایمنسٹی اسکیم نہیں دوں گا، وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بناؤں گا، کمرشل فلائیٹ استعمال کروں گا،سائیکل پر دفتر جاؤں گا، مختصر کابینہ بناؤں گا، عوام کے ساتھ جھوٹ نہیں بولوں گا۔

سینیٹ اجلاس

مزید : صفحہ اول


loading...