رانا ثنااللہ کی نیب میں پیشی،آمدن سے زائد اثاثہ جات پر پوچھ گچھ،سوالنامہ حوالے 

 رانا ثنااللہ کی نیب میں پیشی،آمدن سے زائد اثاثہ جات پر پوچھ گچھ،سوالنامہ ...

  



 لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ(ن) کے رہنماء ورکن قومی اسمبلی راناثناللہ کی نیب لاہور میں پیشی،حکام نے آمدن سے زائد اثاثہ جات میں اضافے سے متعلق پوچھ گچھ کرنے کیساتھ ساتھ سوالنامہ بھی حوالے کیا۔رانا ثناء اللہ نے نیب دفتر میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور رہنماؤں نے ہمیشہ قانون پر عمل کیا ہے، ہمیں جب بھی بلایا گیا عدالتوں میں پیش ہوئے۔ نیب کی تین رکنی ٹیم کا رویہ میرے ساتھ ٹھیک تھا۔انہوں نے بتایا کہ نیب ٹیم کی جانب سے میری آمدن اور اثاثوں سے متعلق سوالات کیے گئے اور پھر مجھے ایک فارم بھرنے کرنے کا کہا گیا ہے۔ رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ میرے وہی اثاثے ہیں جو انکم ٹیکس اور الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں ڈکلیئر ہیں۔ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آرمی چیف کے عہدے کو متنازع نہ بنایا جائے، آرمی ایکٹ ترامیم پرغیر مشروط تعاون کریں گے جبکہ تمام عہدیدار پارٹی کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے لیگی رہنما نے کہا کہ نیب آرڈیننس کو بل کی صورت میں آنا چاہیے تھا۔ ضمانت اور ریمانڈ کو چھوڑ کر ترامیم کی گئیں لیکن ان ترامیم کو شامل نہیں کیا گیا جو اپوزیشن کے ساتھ طے ہوئی تھیں۔ اگر اپوزیشن کی ترامیم کو شامل نہیں کیا جاتا تو یہ آرڈیننس پاس نہیں ہو سکتا۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نیب آرڈیننس کو بل کی صورت میں آنا چاہیے تھا۔ حکومت کا ایجنڈا اپوزیشن کے خلاف سیاسی انتقام ہے۔ انتقام کی بنیاد پر کوئی جمہوری حکومت نہیں چل سکتی۔ میری رہائی اور دوبارہ جیل جانے کا عمل بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی صحت کے بارے میں غلط گفتگو انتہائی نامناسب بات ہے۔ مریم نواز والد کی بیماری کے دوران جلسے جلوس نہیں کرنا چاہتیں جبکہ جیل سے رہائی کے دن مجھے نواز شریف کا فون آیا تھا۔

رانا ثنااللہ/پیشی

مزید : صفحہ اول