ملک میں منشیات کے عادی افراد کی تعدا د 76لاکھ سے تجاوز، سینیٹ کمیٹی میں انکشاف

ملک میں منشیات کے عادی افراد کی تعدا د 76لاکھ سے تجاوز، سینیٹ کمیٹی میں ...

  



اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 76لاکھ سے بڑھ گئی، جو دنیا کے 42ممالک کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے،پاکستان کے مختلف بارڈرز سے ہونے والی منشیات کی ترسیل کی مالیت ہمارے دفاعی بجٹ سے200گناہ زیادہ ہے،قائمہ کمیٹی نے ایچ ای سی کو اعلی تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف بھرپور مہم چلانے اور طلباء کی ڈرگ سکریننگ کی ہدایت کی ہے،اجلاس میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے منشیات اسکرینگ کیلئے ہاتھ کھڑے کر دئیے،ایچ ای سی حکام کے مطابق سب بچوں کی سکرینگ ممکن نہیں، ییونیورسٹیوں میں منشیات کی سکرینگ کیلئے پالیسی اور فنڈز چا ئیں، قائمہ کمیٹی نے حکومت کی طرف سے ہائیر ایجو کیشن کمیشن کو 21ارب کے فنڈز جاری کرنے میں تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔کمیٹی ارکان نے کہا کہ حکومت ہائر ایجوکیشن کا فنڈ کم کر کے لنگر خانے کھول رہی ہے، اعلی تعلیمی اداروں کو فنڈز نہ دے کر مذاق کیا جا رہا ہے،وزیر اعظم کے اپنے مشیر نہیں، مشیران ان پر تھوپے گئے۔کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز چیئرمین سینیٹر مشتاق احمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہواجلاس میں ہائیر ایجو کیشن کمیشن کی طرف سے کمیٹی کو اعلی تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال اور طلباء  کے رینڈم سکریننگ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،ایچ ای سی کی طرف سے طلباء کی سریننگ کے حوالے سے مشکلات کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ رینڈم سکریننگ  کے حوالے سے ہمیں پالیسی کی ضرورت ہے جبکہ اس حوالے سے فنڈز بھی درکار ہیں۔اس موقع پر چیئر مین کمیٹی سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ منشیات ایک ایساناسور ہے جو ہماری نسلوں کو نگل رہا ہے،ہمیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ یہ تعداد کروڑوں میں پہنچ جائے گی،انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں منشیات سر عام بن اور فروخت ہو رہی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں،کئی ایسے گاؤں موجود ہیں جہاں باقاعدہ میلہ لگتا ہے جس میں منشیات کی مختلف اقسام فروخت کیلئے پیش کی جاتی ہیں،نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچانے کیلئے تمام انداروں کو مل کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ہائیر ایجو کیشن کمیشن کو وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈز کی ریلیز میں تاخیر اور اعلی تعلیمی اداروں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے معاملہ زیر بحث آیا،قائمہ کمیٹی نے ایچ ای سی کو 21ارب کی ادائیگی میں تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا،چیئر مین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ ہم نے گزشتہ اجلاس میں حکومت سے درخواست کی تھی کہ 21ارب فوری جاری کیے جائیں مگر ایسا نہیں ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ معاملہ ایوان میں اٹھائیں گے،اس حوالے سے قراداد پیش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے اپنی جائیداد پشاور یونیورسٹی کو وقف کی تھی،فنڈز نہ ہونے کے باعث پشاور یونیورسٹی 60 کروڑ خسارے میں چل رہی ہے، لگتا ہے تعلیم و تحقیق ہماری ترجیح نہیں رہی، ہماری ہائیر ایجوکیشن حالت نزع میں ہے، حکومت نے فنڈز جاری نہ کیے تو یونیورسٹیاں بند ہو جائیں گی،حکومت ہائیر ایجوکیشن پر رحم کرے اور فنڈز فوری جاری کرے۔

سینیٹ کمیٹی/انکشاف

مزید : صفحہ آخر


loading...